جلے بیلٹ پیپرز کی قیمت

ویسے سیاست اور حالات حاضرہ تو میں اپنا فیلڈ آف ایکسپرٹیز اور انٹرسٹ نہیں سمجھتا، کیونکہ خبر سے زیادہ مزہ اور سرور بےخبری و لاعلمی میں ہے۔ سرپرائزز ملنے کا اپنا ہی ایک مزہ ہے۔
خیر موجودہ خیبرپختونخوا بلدیاتی الیکشن، اس کے نتائج اور اس سے متعلق بحث و مباحثوں نے چاہنے اور نہ چاہنے کی تمیز کو کچل کر ہمارے کانوں اور دماغ کے دروازے تک راستے بنا لئے ہیں۔ چلتی ویگنوں، ہوٹلز، گھر، سوشل میڈیا، جہاں جہاں بھی جاؤ، بیٹھو، یہی بحث سننے کو ملتی ہے۔ کوئی خود امیدوار ہے، تو کوئی امیدوار کا چچا، ماموں، بھانجا یا بھتیجا ہے۔ جیتنے والے اسے شفاف اور ہارنے والے اسے ایک ناکام اور غیر شفاف الیکشن قرار دے رہے ہیں۔
الیکشن کے بعد کا عمومی بیانیہ یہ ہے کہ حکومت یعنی عمران خان ہار گئے ہیں یا ہارتے نظر آرہے ہیں۔ لوگوں کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ہم نے امیدواران سے نہیں بلکہ بیٹ سے انتقام لیا ہے۔
جبکہ عمران خان کو ہار کی وجہ ٹکٹوں کی غلط تقسیم لگ رہی ہے۔ ہاں! مگر وجوہات تو ان گنت ہیں، لیکن مہنگائی کا بھاری پڑ جانا سب سے بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔
بہت سارے لوگ یہ بھی استفسار کر رہے ہیں کہ جمعیت علماء اسلام کیسے جیتی؟ کیا جمعیت کو ووٹ دے کر عوام نے مہنگائی کے عذاب سے نکلنے کے لئے عملی طور پر توبہ کی ہے؟ یا کچھ سال پہلے حق رائے دہی کی ادائیگی کو غلطی سمجھ کر کفارہ ادا کیا ہے؟ میرے خیال میں تو ان کو ووٹ آف سیفٹی ملا ہے۔ ووٹ آف سیفٹی وہ ووٹ ہے جو ووٹر یہ سوچ کر دیتا ہے کہ اگر یہ ووٹ دنیا میں کام نہ آئے تو کم از کم آخرت کا توشہ تو بن سکے۔
اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جمعیت کے کچھ امیدواران نے خوب دل کھول کر صدقات اور خیرات بھی تقسیم کیے ہیں۔ ویسے صدقات اور خیرات کے بارے میں زیادہ بولنا اور بات کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ صدقات اور خیرات دینا کسی کا خالصتاً ذاتی عمل ہوتا ہے۔ اور ہمارا ایمان ہے کہ اس کے دینے سے ثواب ملتا ہے اور بلائیں ٹلتی ہیں، ہاں اگر صدقات اور خیرات کا عمل عین الیکشن کے سیزن میں ہو تو ممکن ہے دنیاوی فائدہ یعنی ووٹ بھی مل جائے۔
دیگر پارٹیوں کو بھی حکومت کے خلاف عوامی غصے کا کافی فائدہ ہوا۔ تقریباً ہر پارٹی کو توقعات سے بڑھ کر اچھا رسپانس ملا۔
الیکشن کا دوسرا رخ یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں اور بلدیاتی انتخابات سے پہلے کچھ لوگوں نے لاشیں بھی اٹھائیں۔ کہیں میئر کا امیدوار مارا گیا ہے تو کہیں امیدواران کے سپورٹرز کو فائرنگ کر کے زخمی کیا گیا یا مار دیا گیا۔ ہم خود کے لئے امن چاہتے اور دوسروں کے خون سے ہولی تک کھیل لیتے ہیں۔
الیکشن کے دن کا تو احوال ہی نہ پوچھیں! کہیں بیلٹ پیپرز جلا دیے گئے ہیں تو کہیں بیلٹ باکسز اٹھا اٹھا کر زمین پر مار کر توڑ دیے گئے ہیں۔ انتخابی عملے کے ساتھ بدتمیزیاں ہوتی رہیں، اور الیکشن کے نتائج التوا کا شکار رہے۔ جب نتائج آئے تو جیتے ہوئے امیدواران نے تو قبول کرلئے اور جو ہارے ہیں انھیں حکومت کی نیت پر شک ہونے لگا ہے۔
تو اب ہار جانے والے امیدواران اور ان کے سپورٹرز بضد ہیں کہ ری پولنگ یا ری الیکشن کروائے جائیں۔ لیکن اگر یہ سوچا جائے کہ ہر امیدوار نے الیکشن لڑنے کے لیے فیس کی مد میں کتنے پیسے جمع کیے ہیں اور ہر ایک ووٹر کے ایک ووٹ ڈالنے پر کتنا خرچہ آتا ہے۔ اگر ان دونوں کا آپس میں موازنہ کیا جائے، تو پتہ چلے کہ ہمارے لئے تو الیکشن ہی گھاٹے کا سودا ہے، ری الیکشن تو خزانے اور الیکشن بجٹ کے ساتھ ظلم ہی ہو گا۔
اور اگر بیلٹ پیپرز جلا دیے گئے ہیں، باکسز توڑے گئے ہیں تو پھر ری پولنگ کی مانگ کیوں؟ پہلے تو مجرم کٹہرے میں کھڑے کیے جائیں، اور یہ ذمہ داری کہ یہ واویلا کس نے مچایا تھا کی نشاندہی الیکشن لڑنے والے امیدواران پہ رکھی جائے۔
امیدواران کی یہ سینہ زوری تب بجا ہوتی جب یہ تباہی انتخابی عملے نے مچائی ہوتی، پولنگ سٹیشنز کا ماحول حکومتی اقدامات کی وجہ سے خراب ہوتا۔ خسارہ اور تاوان تو انھیں بھگتنا چاہیے جنھوں نے ماحول خراب کیا تھا، جنھوں نے بیلٹ پیپرز جلائے، باکسز توڑے اور الیکشن کو روکے رکھا۔
ہم ایک مقروض ملک ہیں اور ہمیں ہر قدم سوچ سوچ کر اٹھانا چاہیے۔ کیا ایک مقروض ملک پہلے ایسے الیکشنز اور پھر ری پولنگ اور ری الیکشن جیسے مہنگے شوق پالنے کا متحمل ہو سکتا ہے؟ ہمارا تو سارا ملکی بجٹ ہی قرضے پر چل رہا ہے تو کیا اس قسم کی جاہلانہ مستیاں اور تقاضے ہمارے لیے مناسب ہیں؟
لیکن حکومت مجبور ہے ری پولنگ کرنے کے لئے بھی اور ری الیکشنز کے لیے بھی، کیونکہ یہ دونوں چیزیں قانون میں موجود ہیں ہاں لیکن ایسے کرنے کے لئے ٹھوس شرائط بھی رکھی گئی ہیں۔ اخلاقی بنیادوں پر اکثر اوقات ری پولنگ کا کوئی منطقی جواز نہیں بنتا۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک ایسا قانون ہو جس کے تحت جن جن پولنگ سٹیشنز پر لڑائیاں ہوں، باکسز یا بیلٹ پیپرز جلائے جائیں، ان پولنگ سٹیشنز میں کوئی ری پولنگ یا ری الیکشن نہ کیے جائیں بلکہ ان پولنگ اسٹیشنز کا رزلٹ حتمی نتیجے سے مکمل طور پر خارج کر دیا جائے۔ اور اگر امیدواران پھر بھی ری الیکشن کے لئے بضد ہوں، تو دوران الیکشن توڑ پھوڑ، یا دیگر وجوہ جس کی وجہ سے الیکشن دوبارہ کرانا پڑ رہا ہے کے ذمہ داران کی نشان دہی اور الیکشن کے انتظامات کا مالی خرچہ مع جرمانہ امیدواران سے وصول کیا جائے۔
اور مجھے یقین ہے کہ ایسا کرنے سے نہ صرف پولنگ اسٹیشنز میں امن آئے گا بلکہ الیکشن کے نتائج بھی بروقت موصول ہو سکیں گے۔ نہ صرف لوگوں کے غصہ اور جوش کو لگام مل جائی گی بلکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو پرامن رہنے کی تلقین بھی کریں گے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قانون بنائے گا کون اور یہ بنے گا کیسے؟ کیوں کے ہم تو تنازعات اور جھگڑوں کو کیش کرنے والے لوگ ہیں۔ ہماری تو آدھی سے زیادہ سیاست ہی تنازعات کی بنیاد پر چلتی ہے۔ اگر یہ تنازعات ختم ہوجائیں گے تو بہت سارے لوگوں کی سیاسی دکانیں بھی بند ہو جائیں گی۔
تو پہلی فرصت میں ایسے قوانین اسمبلیوں سے پاس کروانا تو مشکل ہی لگتا ہے، لیکن ایک صدارتی آرڈیننس جاری کر کے اس طرح کے اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔

