بی اے پاس کھوتی کی فروخت کا قصہ


”زمانہ جاہلیت“ میں، میں بھی سمجھتا تھا کہ پاکستان کی تنزلی کا واحد سبب ہمارے کرپٹ اور چور حکمران ہیں۔ مشرف صاحب کے دور میں لگتا تھا کہ ڈکٹیٹر شپ کا فائدہ اٹھا کر چوہدری برادران اور مشرف صاحب ہمیں لوٹ رہے ہیں۔ جبکہ مشرف صاحب کا وہی بیانیہ تھا کہ ہم سے پچھلے پچاس پچپن سال سے لوٹ رہے تھے لہذا اتنے طویل عرصے کا ”گند“ صاف کرنے کے لیے ہمیں مزید وقت درکار ہے۔ اس وقت کی اپوزیشن کا بیانیہ تھا پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ مشرف صاحب اور چوہدری برادران ہیں۔ جمہوریت آئے گی تو پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگے گی۔

عوام اکتائے ہوئے تھے وکلاء تحریک نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور جمہوریت آ گئی، مرکز میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں ( ن) لیگ کی حکومت قائم ہوئی۔ حکومت کے دو تین سال بعد محسوس ہونا شروع ہوا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تو زرداری صاحب ہیں۔ پیپلز پارٹی کا بیانیہ تھا کہ نو سالہ ڈکٹیٹر شپ کا ”گند“ صاف کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ پانچ سال انہی گالیوں، کرپشن کے الزامات اور مہنگائی دہشت گردی کی آہ و بکا میں گزر گئے۔

یہ پانچ سال گزرنے تک میں عمران خان صاحب کو ”پیارا“ ہو چکا تھا۔ میری خواہش اور امید کے بر عکس (ن) لیگ کی حکومت قائم ہو گئی۔ دل کو تسلی دی کہ میاں صاحب شاید بدل چکے ہیں لہٰذا شاید اس بار کچھ کر دکھائیں گے۔

مگر بدقسمتی سے وہی کہانی تین سال بعد وہی کرپشن، پاناما، مہنگائی، لاقانونیت کے الزامات واپس لگنا شروع ہو گئے۔

میاں صاحب کا بیانیہ تھا کہ مشرف صاحب اور پیپلز پارٹی کے پیدا کیے گئے مسائل حل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ میاں صاحب کی حکومت ختم ہونے تک مجھ سمیت غالب اکثریت کو دو سو فیصد یقین ہو چکا تھا کہ پاکستان کے مسائل کا واحد حل عمران خان ہی ہیں۔

خیر خدا خدا کر کے عمران خان صاحب کی حکومت قائم ہوئی۔ تین سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے شروع ہوئے تھے۔ مہنگائی، نا اہلی، لا قانونیت کے وہی پرانے الزامات ہیں اور خان صاحب کا بیانیہ بھی وہی پرانا ہے کہ گزشتہ ستر برس کا گند صاف کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔

خان صاحب سے میری ذاتی مایوسی اس لیے بھی تھوڑی زیادہ ہے کیونکہ دوسروں سے تو کوئی امید ہی نہیں تھی۔

مگر خان صاحب نے عرصہ بیس سال تک ہمیں جو خواب دکھا دکھا کر کان پکا دیے تھے کہ کرپشن تو نوے دن میں ختم کردوں گا، پولیس، پٹوار کو تو میں یوں پلک جھپکنے میں ٹھیک کردوں گا، عدالتی اصلاحات، میرٹ اور انصاف کا بول بھالا ہو گا۔

عملی طور پر کیا یہ ہے کہ عثمان بزدار جیسا ہومیو پیتھیک وزیراعلیٰ پنجاب پر مسلط کر دیا ہے۔ بقول چاچے کے اس سے تو بہتر تھا کہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر کوئی ”وٹا“ رکھ دیتے۔

تحریک انصاف کے دوست اب وہی دلائل دیتے ہیں کہ خان مافیاز سے لڑ رہا ہے، تہتر بس کا گند تین چار برسوں میں صاف نہیں ہو سکتا اور وغیرہ وغیرہ

میری ناقص رائے میں حکومت کسی کی بھی ہو بدلتے ہیں تو صرف حکومتی دفاع اور تنقید کرنے والے چہرے، کچھ چہرے تو ایسے بدصورت ہیں کہ وہ ہر حکومت میں شامل ہو کر ہر نئی حکومت کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں اور اپنی ہی کہ گئی گزشتہ حکومت پر تنقید۔ مجھے تو لگتا ہے کہ کسی پارٹی میں کوئی فرق نہیں ہے سبھی ایک ہی جیسے ہیں۔

اسی صورتحال کو دیکھ کر مجھے اپنے گاؤں کا ایک واقعہ یاد آ گیا ہے۔ میرے گاؤں کے ایک بزرگ کھوتی خریدنے دوسرے بزرگ کے پاس پہنچے کہنے لگے یار تمہاری کھوتی مجھے بہت پسند ہے اگر بے چینی ہے تو قیمت بتاؤ، یا میری کھوتی سے تبادلہ کر لو۔

دوسرے بزرگ نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے، ”حد ہے اپنی کھوتی اور میری کھوتی میں فرق دیکھا ہے“ ۔

پہلے تو کھوتی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگے کہ کھوتی فلاں نسل کی ہے، بالکل شریف ہے، چارہ لا دتے وقت ہلتی تک نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔

پہلے بزرگ کہنے لگے یہ خوبیاں تو میری کھوتی میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ تم یہ بتاؤ ساتھ پیسے کتنے لو گے۔

پہلے بزرگ دو لمحات سوچنے کے بعد کہنے لگے ”چل یار تم محلے دار ہو صرف تمہارے لیے آفر ہے کہ اپنی کھوتی کے ساتھ تین ہزار روپے دو اور کھوتی لے جاؤ“ ۔

یہ سنتے ہی پہلے بزرگ جھٹکے سے اٹھتے ہوئے کہنے لگا ”اوہ کوئی خدا دا خوف کر تیری کھوتی کیہڑا بی۔ اے پاس اے“ ۔ (خدا کا خوف کرو تمہاری کھوتی کون سا گریجویٹ ہے ) ۔

واقعہ رقم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اب مجھے تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا ہے۔ بدقسمتی سے ان میں سے کوئی بھی بی۔ اے پاس نہیں ہے۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ سبھی ایک جیسے ہی ہیں۔

اب مجھ سے کسی بھی پارٹی کا جذباتی کارکن کہ بحث کرے تو عرض کرتا ہوں کہ ”تواڈی پارٹی کیہڑا بی۔ اے پاس اے“ ۔

Facebook Comments HS