کبھی خود کو بھی پرکھنا چاہیے
کبھی خود کو بھی پرکھنا چاہیے۔
گاہے گاہے اسے پڑھا کیجیے
دل سے بہتر کوئی کتاب نہیں
بڑے دنوں بعد خود سے ملنے کا وقت ملا۔ اور اندر سے ایک آواز آئی کہ رامین اس سال کیا سیکھا۔ اگلے سال کے لئے کیا ارادہ ہے۔ تو ایک لمحے کے لئے میں سوچ میں پڑھ گئی کہ واقعی اس سال میں نے کیا سیکھا؟
میں نے یہ سال کیسے گزارہ؟ ہم اکثر زندگی کو تو گزارا دیتے ہے لیکن یہ نہیں سمجھ پاتے کہ آخر میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میں نے جو اتنے سال زندگی گزار دی کیسے گزاریں۔
تو اس سال کی اگر میں بات کرو تو تھوڑا سا یہ سال میرے نزدیک، میرے لیے بہت ہی امتحان دہ تھا۔ میں ایک فریبی دنیا سے نکل کر ایک حقیقی دنیا میں آ گئی۔ لوگوں کی صحیح پہچان مجھے ہوئی۔ اپنی کمزوریوں کا بخوبی اندازہ ہوا کہ میں کتنی کمزور ہو۔ اپنے اندر کی صلاحیت کا کچھ حد تک اندازہ ہوا۔
سال کے شروعات میں نے اپنی صلاحیتوں کو جانچا۔ کہ واقعی میں میرے اندر اتنی صلاحیت تو ہے۔ مجھ میں بھی اللہ تعالیٰ نے کچھ خاص رکھا ہے۔ پھر جیسے ہی میں نے دنیا کے سامنے اپنے صلاحیتوں کا اظہار کیا تو بہت سے لوگ مجھ سے دور ہوئے۔ میں یہ نہیں سمجھ پائی کہ آخر یہ لوگ کیوں دور ہوئے۔
شاید اس لیے کہ جب میں نے لوگوں سے سوالات و شکوے شروع کیے تو لوگ دور ہوئے۔ میرا انداز شاید ہی غلط تھا تبھی۔ لیکن بہرحال جو بھی ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے۔ پہلے میں لوگوں کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر پاتی تھی۔ مشکل ہوئی جب لوگوں کی عادت چھوڑی۔ میں وہ لڑکی جو لوگوں سے بے تحاشا اعتبار کر دیتے ان سے حد سے زیادہ مانوس ہوجاتی۔ بے جا امیدیں ان سے باندھ لیتی تھی۔ آج شاید پرواہ نہیں۔ جب تک لوگوں کی فریبی مانوسیت میں کھوئی ہوئی تھی مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میں غلط کہاں ہو کہاں نہیں۔
لوگوں کے جانے کا خوف جو میرے دل میں ہوا کرتا تھا وہ اس سال ختم ہوا۔ لوگ اب ساتھ رہے نہ رہے اب فرق نہیں ہوتا۔ میرے بارے میں لوگ کیا سوچ رہے ہے۔ میں نے اپنی زندگی گزارنی ہے، صرف اللہ تعالیٰ کے سہارے۔ کیونکہ لوگ مجھے سہارے ہر بار نہیں دے سکتے۔ نہ ہی میری ہر امید پر پورا اتر سکتے ہیں۔ اور نہ ہی وہ میرے اندر کی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ تو میں کیوں ان کا سوچ کر، ان سے امیدیں باندھ کر۔ ان کا سہارا لے کر خود کو کمزور ثابت کرو۔
ایک نئی کمزوری کا مجھے علم ہوا کہ میں لوگوں سے جلد ہی متاثر ہوجاتی ہو اور خود کو ان کے مقابلے میں کمزور سمجھتی ہو، کسی نے سمجھایا کہ رامین ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے الگ خوبیاں دی ہوتی ہے۔ متاثر کسی سے نہ ہو۔ پھر سوچا واقعی میں میری ساری پریشانیوں کی جڑ یہیں ہی ہے کہ ہم اکثر بلاوجہ لوگوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ اور خود کو اگے بڑھانے سے خود کے لئے ہی رکاوٹ بن جاتے ہے۔ اپنے آپ میں اتنی قابلیت لانی چاہیے کہ والدین ہماری قابلیت پر فخر کر سکیں۔
یہی سب سے زیادہ اور اہم سب قسی کھا کہ لوگوں سے بے وجہ متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ جب ہم متاثر ہو جاتے ہے ان کی شخصیت کے غلام بن جاتے ہیں۔ ساتھ میں اتنا مانوس بھی نہیں ہونا چاہیے کہ وہ جب بے زار ہونے لگے تو خود کو اور اس کو تکلیف دے۔
جب تک ہمیں اپنے بارے میں معلوم نہیں ہو گا تب تک ہم سکون سے زندگی بسر نہیں کر پائے گے۔ غلطیاں ہر ایک سے ہوتی ہے لیکن ان غلطیوں کو جان کر صحیح کرنا اعلیٰ ظرفی کی بات ہے۔ ورنہ جب ہم اپنے بارے میں نہیں سوچے گہ کہ میں کہاں غلط و کہاں صحیح تو تب تک ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔
تو اس سال یہی ہی سیکھا زندگی کی ٹھوکروں سے، لوگوں کے تلخ لہجوں سے، کہ لوگوں سے حد سے زیادہ مانوس و متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ ہو کسی سے امیدیں نہیں وابستہ کرنی چاہیے۔ اپنی کامیابی کے وقت خود میں عاجزی لانی چاہیے نہ کہ مغرور بن کہ لوگوں کو کم تر سمجھیں۔
اگر ہم سب نئے آنے والے سال میں خود سے یہ وعدہ کرے کہ، انشااللہ نئے سال وہ غلطیاں نہیں دہراؤ گے کہ جو ماضی میں دہرائے۔ اپنے اندر کی کمزوریوں کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔ تو ہر ایک کی زندگی سکون سے بھر جائیں گی۔ ہمارے استاد کہتے ہے کہ
”غلطی ایک بار ہوتی ہے بار بار غلطی کو غلطی نہیں بلنڈر کہتے ہے۔
جہاں ہم لوگوں کو وقت دیتے ہے وہاں تھوڑا سہ وقت اگر اپنے اپ کو پرکھنے کے لئے دے، تو کیا ہی بات ہو گی۔
کامیابیوں نے عاجزی سکھائی
ٹھوکروں نے صحیح چلنا سکھایا
امیدیں جہاں میری ٹوٹ کے بکھریں
وہی میں اب مضبوط ہوکے ابھری
کچھ لوگوں نے مجھ کو تھوڑ دیا
تو کچھ نے پھر سے مجھے جوڑ دیا
معاف کر دینا جہاں اعلیٰ ظرفی ہے
بات کو پکڑ کر رکھنا کم ظرفی ہے
یہی اسباق سیکھیں ہیں اس سال
کہ کبھی خود کو بھی پرکھنا چاہیے


