خسارے کا سال


زندگی بہت اچھی نہیں تو بری بھی نہیں گزر رہی تھی۔ ہر کوئی اپنی دنیا میں مست تھا۔ نئی حکومت اور نئے وائرس کو آئے سال ہو چلا تھا۔ ملک مہنگائی اور دنیا وائرس کی زد میں تھی۔ پاکستان میں کورونا تھا، لیکن اس کی شدت اتنی نہیں تھی جتنی باقی ممالک میں تھی۔ اس لیے تھوڑا سکون تھا۔ ہمارے ہاں ایک سال خیریت سے گزر چکا تھا۔ میں حکمران جماعت کی طرح اتراتی پھرتی کہ کورونا کے نہ پھیلنے کی وجہ ہماری احتیاطی تدابیر ہیں۔

اپنی بہن سے کہتی سات ارب کی آبادی میں پانچ دس کروڑ افراد کورونا کا شکار ہوئے تو پریشان ہونے کی اتنی ضرورت تو نہیں، جبکہ تندرست ہونے والوں کی پرسنٹیج بھی زیادہ ہو۔ امی کہتیں تم چاہتی کیا ہو آخر، میں گڑبڑا کر کہتی، بس بتا رہی ہوں متاثرین کی تعداد زیادہ نہیں۔ میں کورونا کو سیریئس ہی نہیں لیتی تھی۔ شہزاد صاحب سے کہتی، گھر واپسی پہ آتے ہوئے اپنے ساتھ کورونا لے آئیں تو میری بھی سنی جائے۔ میں تو آپ کے ساتھ لپٹ جاؤں کہ مجھے بھی کرونا ہو، اور کتنا مزہ آئے کہ میں اس وبا میں اک نیا جہان دریافت کرنے نکل جاؤں، اور آپ یہیں مجھے ڈھونڈتے رہ جائیں۔ میری ایسی باتوں پہ سب خوب غصہ کرتے۔ بھانجی کہتی خالہ کورونا سے ڈر نہیں لگتا آپ کو ، اور میں کہتی ایک تو شکر ہے ہمارے ملک میں نہیں ہے، دوسرا اپنے لیے نہیں لگتا، باقی سب کے لیے لگتا ہے، یہ سب تو یونہی کہتی ہوں۔

دو ہزار اکیس آیا تو دل و دماغ پر عجیب سی اداسی چھا گئی، کہ بھارت کورونا کی بدترین لہر کی لپیٹ میں تھا۔ کورونا نے بھارت میں مضبوط پنجے گاڑ دیے تھے۔ روز صبح کی چائے پیتے ہوئے نیوز چینل پر بھارت میں کورونا کی پھیلائی تباہی دیکھتی اور دہل جاتی۔ وبا نہیں دیکھ رہی تھی کون ہندو ہے تو کون مسلمان۔ اس کے لیے پرہیزگار اور گنہگار برابر تھے۔ اس نے بوڑھے اور جوان کی تمیز بھی نہیں کی تھی۔ یہ بس وار پہ وار کیے جا رہا تھا۔

میں موت کے اس کھیل پر انگشت بدنداں تھی، وائرس یہ کیسا کھیل کھیل رہا ہے، اسے کھیلنے کو زندگیاں ہی مل رہی ہیں۔ کیسے گھروں کے گھر اجاڑ رہا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ مر رہے تھے ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ نہیں رہی تھی، شمشان گھاٹ بھرے پڑے تھے۔ کورونا میں مبتلا مر رہے تھے اور پیچھے رہ جانے والے اپنے پیاروں کے غم میں زندہ نہیں رہے تھے۔ میں اب سچ میں کورونا سے ڈرنے لگی تھی۔ اپنے پیاروں کے بچے رہنے کی دعائیں مانگتی، جو اس وبا میں مبتلا تھے ان کے لیے تڑپتی کہ یہ بھی تو کسی کے پیارے ہیں۔

میں جو اس کو بہت ہلکا لے رہی تھی، اور لاک ڈاؤن کے دنوں میں بازار دکانیں بند دیکھ کر سمجھتی کہ کسی گزری ہوئی صدی میں جی رہی ہوں، جہاں سکوت ہے، ٹریفک کا شور نہیں، لوگوں کا ہجوم نہیں۔ گلیاں بازار سنسان دیکھ کر ایک سحر میں مبتلا ہوجاتی، دور کہیں کوئی نظر آتا تو پتہ چلتا یہ بستی انسانوں کی ہے۔ کیا کبھی سوچا تھا اتنی آبادی ہونے کے باوجود کوئی وجود دکھائی نہیں دے گا، ایسی خاموشی کبھی ممکن ہو سکے گی۔ لیکن یہ طلسم اب ٹوٹ ہو چکا تھا۔

اب میرے لیے عجیب صورتحال تھی، دل خوف سے سہما رہتا۔ اپنی پرواہ نہیں تھی لیکن اپنے پیاروں کو کبھی کچھ نہ ہو، وہ سلامت رہیں جن کی زندگی سے ہمیں آکسیجن ملتی ہے، دلوں میں بسنے والے شاد رہیں، دوستوں کی محفلیں آباد رہیں۔ لیکن کچھ گھڑیاں قبولیت کی نہیں ہوتیں۔ کورونا گھر آ گیا تھا۔ ہم جو شدید محبت کے دعویدار بنتے ییں۔ لیکن بعض اوقات اتنے بے بس ہوتے ہیں کہ ہمارے پیارے ہماری آنکھوں کے سامنے چلے جاتے اور ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم اتنے لاچار ہوتے ہیں، کہ کسی سے کتنی ہی محبت کیوں نہ کرتے ہوں اس کی تکلیف نہیں بانٹ سکتے۔ ہم اپنے پیاروں کو درد میں تڑپتا دیکھتے ہیں لیکن اس درد کو اپنی جان پر نہیں لے سکتے۔ یہ کیسا اپنا پن ہے۔ اپنوں کو تکلیف میں دیکھنا اذیت ہے لیکن انھیں تڑپتے دیکھنے کی اذیت ہمیں جھیلنی ہی پڑتی ہے

یوں تو زندگی اور موت کا تعلق بہت گہرا ہے۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ زندگی ہے تو پھر موت یقینی ہے، اس کو آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن کبھی کبھی یہ بہت بھیانک وار کرتی ہے کہ موت سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ موت کی یہ سفاکی دیکھتے ہوئے کبھی خیال آتا ہے کہ کیا تھا اگر موت نہ ہوتی۔ اگر اس کا آنا طے شدہ ہے تو کیا فرشتہ اجل کو کبھی رحم آتا ہو گا کہ وہ کسی ساتھ لے جانے والے کو لے کر جانا کچھ وقت کے لیے موخر کردے۔

کبھی بھیڑ چال میں تھوڑی دیر کے لیے کہیں گم ہو جائے۔ کہیں فرشتوں کی ڈیوٹی آور تبدیل ہونے پر یہ بھی کبھی رش میں پھنس جائے۔ بھلا یہ اتنا پرفیکٹ کام کیوں کرتا ہے؟ اس کو کبھی غلطی کیوں نہیں لگی؟ یہ ان لوگوں کو نکال کر کیوں لے جاتا ہے جن کی ابھی ضرورت ہوتی ہے۔ یا پھر کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ کیا تھا اگر فرشتہ اجل کو غلطی لگ جاتی اور وہ میری پیاری بہن کو لے کر جانے کی بجائے میرے گرد گھیرا تنگ کرتا۔ لیکن اسے غلطی لگتی ہی نہیں۔

گو جانے کے مشتاق ہم جیسے لاکھ بیچارے ہوں
وہ لوگ ہی رخصت ہوتے ہیں جو کہ سب کو پیارے ہوں

میں نے اپنی ہنستی بستی بہن کو اچانک موت کے منہ میں جاتے دیکھا ہے۔ وائرس نے اس پہ ایسا خاموش وار کیا کہ کسی کو پتہ ہی نہ چل سکا کہ وہ جو بظاہر بالکل ٹھیک لگ رہی ہے وہ اندر سے مر رہی ہے۔ لیکن اس وائرس نے صرف میری پیاری بہن ہی کو تو ختم نہیں کیا کروڑوں لوگوں کے پیارے اس منحوس وائرس نے چھینے ہیں۔ دیکھا جائے تو مجموعی طور پہ یہ سال خسارے کا سال رہا۔

امسال معیشت کو بھی نقصان ہوا اور قیمتی جانوں کا بھی۔ ایک ذرا سے وائرس نے پوری دنیا ہلا کر رکھ دی۔ شکر ہے خسارے کا یہ سال تو کسی طرح ختم ہوا۔

امسال کو وداع کرتے ہوئے یہ دعا ہے کہ اب نیا سال رونقیں، مسکراہٹیں، خوشیاں لے کر آئے۔ خدا کرے اب کے برس کورونا کو موت آ جائے۔ ماؤں کی آنکھوں کی ٹھنڈک قائم رہے۔ سب کے پیارے سلامت رہیں۔

Latest posts by زیبا شہزاد (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments