میری کرسمس: مذہبی اور سماجی رائے


کرسمس کی مبارک باد دینی ہے یا نہیں؟

اس سوال پر ہر سال بحث ہوتی ہے اور ایک الجھن ہمیشہ اہل علم کے درمیان پیدا ہو جاتی ہے۔ میرے خیال میں مسئلہ کی اصل جڑ دو باتیں ہیں۔

ایک تو یہ کہ یہ معاملہ کلچرل ہے یا مذہبی؟ کیوں کہ عیسائی دنیا اصل میں اسے مذہبی معاملہ سمجھتی ہے جیسے مسلم دنیا میں عید میلاد النبی منانے والے اسے ایک مذہبی معاملہ سمجھتے ہیں۔ اس اعتبار سے اگر دیکھیں تو پھر ایک سنجیدہ سوال مسلمانوں کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے کہ عیسائی دنیا اسے مذہبی اعتبار سے جس تناظر میں لیتی ہے وہ اسلام میں خدا کے نزدیک ایک خوف ناک جرم ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانا جائے جس کی پیدائش موجودہ عیسائی دنیا کے نزدیک 25 دسمبر ہے جب کہ تحقیقی بات یہ ہے کہ ان کی پیدائش اس تاریخ کی نہیں بنتی۔ (کیا کرسمس کے مذہبی تہوار میں کسی بھی طرح عقیدہ تثلیت آتا ہے؟ کئی عیسائی فرقے یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا نہیں مانتے مگر کرسمس مناتے ہیں: مدیر

دوسری طرف عام عیسائی دنیا کے سادہ لوح لوگ جو زیادہ مذہبی رجحانات کے حامل نہیں ہیں وہ اسے ایک کلچرل ایونٹ کے طور پر لیتے ہیں جو بس خوشیاں فراہم کرتا ہے، گلی، محلے اور شہر میں چراغاں کیا جاتا ہے اور ملنے ملانے اور مزیدار پکوان بنانے کا ایک موقع ہاتھ آ جاتا ہے، اس حوالے سے دیکھیں تو یہ بس ایک کلچرل معاملہ ہی ہے سو اس کو منانا، میری کرسمس کہنا کوئی خاص تناظر نہیں رکھتا یا کوئی مذہبی کلمات کی ادائیگی نہیں ہے بس رسم ہے جو نبھائی جاتی ہے اس وجہ سے یہ منانا اور کہنا کوئی گناہ یا ثواب کا کام نہیں ہے بس معاشرہ بطور کلچر اسے مناتا ہے۔ اب الجھن یہی ہے کہ اگر معاملہ مذہبی ہے تو پھر میری کرسمس کا مطلب وہی ہے جس پر خدا قرآن مجید میں سخت ناراض ہوتا ہے لہذا یہ کہنا نادرست ہے اور اگر یہ معاملہ کلچرل ہے تو پھر اس کا کوئی خاص مطلب نہیں ہے بس ایک ایونٹ ہے جس کو منانا اور میری کرسمس کہنا کوئی گناہ ثواب نہیں رکھتا۔

دوسری بات جو الجھن میں مبتلا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ میری کرسمس کا اصل مطلب کیا ہے؟

آیا اس سے مراد یہی ہے کہ ”خدا نے ایک بیٹے کو جنم دیا ہے (معاذ اللہ ) یا اس سے مراد یہ نہیں ہے بلکہ عیسائی دنیا اور ان کے مذہبی علماء اس سے مراد عیسی علیہ السلام کی بعثت یا ولادت کی مبارک لیتے ہیں فقط۔ یعنی مبارک ہو کہ اللہ نے عیسی علیہ السلام کو پیدا فرمایا تھا یا انھیں مبعوث فرمایا تھا۔

اب جن اہل علم کے تحقیق یہ ہے کہ میری کرسمس سے مراد عیسائی دنیا یہی لیتی ہے کہ خدا نے ایک بیٹے کو جنم دیا ہے تو ان کے نزدیک یہ کہنا نادرست ہے اور یہ ایونٹ منانا بھی صحیح نہیں ہے۔ (کیا اس تحقیق کی کوئی لسانی یا مذہبی بنیاد موجود ہے یا خود سے کچھ فرض کر کے اسے تحقیق کا نام دیا گیا ہے؟ مصنف نے آگے چل کر اس اصطلاح کے مطلب پر روشنی ڈالی ہے: مدیر) اور جن کی رائے یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا نے بیٹا جنا ہے بلکہ اس سے مراد ولادت یا بعثت عیسی علیہ السلام کی مبارک باد ہے، تو یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ولادت یا بعثت عیسی علیہ السلام ایک مبارک معاملہ ہے سو اس کا اظہار کرنا میری کرسمس کے ذریعے درست اور جائز ہے۔

میرا اس سارے معاملے میں رجحان یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم دوست پاس رہتا ہے اور اس کے ساتھ میل ملاپ ہے تو اس صورت میں یہ کہنا درست ہے اور یہ بس ایسے ہی ہے جیسے وہ ہمیں ولادۃ النبی ﷺ مبارک، رمضان مبارک، عید مبارک یا حج مبارک کہتے ہیں، اب یہ مبارک باد کہتے وقت وہ اسے اس مذہبی مفہوم میں نہیں لیتے یا اس طرح گہرائی ان کے پیش نظر نہیں ہوتی جس طرح ہمارے نزدیک ہوتی ہے بلکہ وہ ایک معاشرتی رسم کے طور پر بولتے ہیں اور ہماری خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں سو ہم بھی اس موقع پر یہ جملہ بولتے ہیں اور ان کی خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں، کوئی لمبا چوڑا مذہبی مفہوم ہمارے ذہن میں بھی نہیں ہوتا۔

اسی طرح جیسے عیدین کی تیاری اور رمضان میں ملٹی کلچرل معاشروں میں وہ بطور ہمسائے یا دوست کے مدد کر دیتے ہیں کہ باقاعدہ کام کاج بھی کرواتے ہیں تو ہمیں بھی اس موقع پر ان کی مدد کر دینی چاہیے۔ دوسرا میرے نزدیک یہ اس لیے بھی درست ہے کہ ”میری کرسمس“ کا مفہوم لغت سے لے کر تھیالوجی کی کتابوں تک یہی ہے کہ ”ولادت یا بعثت عیسی علیہ السلام مبارک“ سو یہ کہنا کہ اس سے مراد یہ ہے ”اللہ نے بیٹے کو جنم دیا ہے“ درست نہیں ہے کم سے کم۔ ( یہ حافظ شارق صاحب کی تحقیق ہے جو تقابل ادیان میں ایک نام رکھتے ہیں )

ہاں اسے خود بطور ایونٹ کے منانا جیسے کہ ہم عیدین کو اہتمام سے مناتے ہیں کہ آگے بڑھ کر اس کے لیے خود اقدامات کرتے ہیں درست معلوم نہیں ہوتا ایسے ہی جیسے عمومی طور پر غیر مسلم دوست بھی چاہے وہ سیکولر ہی کیوں نہ ہوں وہ کوئی عیدین کی نماز پڑھنے ہمارے ساتھ مسجد نہیں آ جاتے یا رمضان میں روزے رکھنا شروع نہیں کر دیتے بلکہ وہ اسے ہمارے تہوار کے طور پر ہی دیکھتے ہیں سو ہمیں بھی اسے ان کے تہوار کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے!

اس صورت میں میرے نزدیک ایک تو ملٹی کلچرل معاشروں میں رہنے والے دوستوں کی الجھن بھی دور ہوجاتی ہے کہ سماجی سطح پر بطور انسان وہ دوستانہ رویہ رکھ سکتے ہیں جس کی فطرتی طور پر ضرورت بھی ہوتی ہے کہ انسان کو مل جل کر ہی رہنا ہوتا ہے اور دوسرے کی خوشیوں کا احترام کرنا ہوتا ہے اور وہ اگر آپ کے لیے عیدین و رمضان کے موقع پر اہتمام کر رہا ہے تو آپ بھی بطور مسلمان اچھے اخلاق کا مظاہرہ کر پاتے ہیں دوسرا غیر مسلموں کے ایسے تہوار سے بھی دوری قائم رکھ پاتے ہیں جسے رومی عیسائیوں نے شروع کیا تھا اور عیسائیت میں اکثر مشرکانہ رسم و رواج انھیں کے شروع کیے ہوئے ہیں!

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد عثمان حیدر کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments