شاعری، مائنڈ سیٹ، مذہبی رویوں میں تبدیلی


خیال ہے کہ جینوین شاعر اور ادیب معاشرے میں جاری سوچ سے تھوڑا ہٹ کے ایک مخصوص مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں۔ ایسا نہ ہو تو نہ تو وہ اچھی شاعری

کر سکتے ہیں نہ اعلٰی نثری ادب لکھ سکتے ہیں۔ اس لیے کہ اچھی شاعری اور دل کو چھو لینے والی نثر لکھی ہی اس وقت جا سکتی ہے جب دل و دماغ پہ آمد ہو رہی ہو اور آمد شاعر اور ادیب کے اپنے بس میں نہیں ہوتی۔ کس وقت کسی نظم، غزل، افسانے، ناول یا نثر کے دل کو ٹھاہ کر کے لگنے والے کسی مصرعے، جملے کی آمد ہو جائے کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ رات کو دو بجے میری آنکھ کھلتی ہے اور ذہن میں کسی بلاگ یا افسانے کی آمد ہو رہی ہوتی ہے اور ساتھ طبیعت پہ دباؤ بھی ہوتا ہے کہ ابھی ابھی اسے لکھ لو صبح پتہ نہیں یاد بھی رہے یا نہ رہے۔

شاعر اور ادیب معاشرے میں روایات اور رسم و رواج کے نام پہ جاری ظلم و جبر کے خلاف ہوتے ہیں۔ جو اباً معاشرہ بھی انھیں ایب نارمل سمجھتا ہے۔ اگر کوئی پولیس افسر یا جج ایسے معاشرہ کا پروردہ ہے جہاں شک کی بنا پہ عورت کے قتل کو غیرت سمجھا جاتا ہو تو جب قاتل عدالت میں پیش ہو گا تو جج کی نظر میں وہ ظالم نہیں ”غیرت مند“ تصور ہو گا۔ اکبر شیخ اکبر کا مشورہ ہے آپ سول جج بھرتی کریں یا کسی وکیل کو براہ راست ہائیکورٹ کا جج بنائیں پہلے اسے ماہرین نفسیات کے بورڈ کے سامنے بٹھا کے مائنڈ سیٹ ٹیسٹ سے ضرور گزاریں۔

پولیس افسران کی بھرتی اور پروموشن میں بھی یہی کلیہ اپنائیں۔ سرکاری، پرائیویٹ سکولوں اور مذہبی مدرسوں کے کچھ اساتذہ میں طلباء پہ جسمانی تشدد کرنے کا شدید رجحان ہوتا ہے۔ اساتذہ کی بھرتی کے وقت بھی سب کو مائنڈ سیٹ ٹیسٹ کی چھلنی سے گزارہ جائے۔ پیڈو فائل مائنڈ سیٹ کو جاننے کے لیے سکولوں اور مذہبی مدرسوں کے موجودہ اور نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کے لیے سائیکالوجیکل ٹیسٹ پاس کرنا لازمی قرار دے دیں۔ ارے بھائی! شادی سے پہلے یہ جاننے کے لیے کہ ہونے والا شوہر متشدد اور مار کٹائی کرنے والا اور ہونے والی بیوی لڑاکا مزاج اور زچ کردینے والی تو نہیں، اس کا بھی سائیکالوجیکل ٹیسٹ ہوتا ہے۔ چلیں چھوڑیں، پٹری تبدیل کر کے نئے اسٹیشن کی طرف چلتے ہیں۔

میرا ایک دوست رائیونڈ والی تبلیغی جماعت کا سرگرم رکن ہے۔ حسن پسند ہے۔ مذہب کی تبلیغ اور حسین خواتین کا ذکر بیک وقت کرتا ہے۔ اس کا بس نہیں چلتا کہ روزانہ ایک شادی کرے لیکن بیچارہ کیا کرے اپنی بیوی سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اس لیے اس سے ڈرتا بھی بہت ہے۔ ہماری بھابی بھی ایسی ہے۔ ہر گھنٹے آدھے گھنٹے کے بعد فون کر کے پوچھتی ہے، ملا کیا کر رہے ہو؟

کوئی خوبصورت خاتون اسے آتی نظر آئے تو کہتا ہے۔ ”اوپر والے نے اسے کتنا حسن دیا ہے۔“ لیکن جیسے ہی وہ اس کی دکان پہ پہنچتی ہے تو فوراً روایتی دکاندار بن کے کہتا ہے۔ ”جی باجی، کیا چاہیے؟“ ۔ ویسے خواتین کا بہت احترام کرتا ہے۔ ملا پہلے بازار میں انڈر گارمنٹس کی دکان چلاتا تھا۔ ایک اعلٰی فوجی افسر کی بیوی بہاول پور چھاؤنی سے بازار میں شاپنگ کرنے آئی تو ملا کی دکان پہ بھی آئی۔ غیر ارادی طور پہ ملا کی زبان سے جملہ نکل گیا، ”باجی، آپ کا ناپ یہ ہے۔“ خاتون نے غصے سے ملا کو گھورا اور دکان سے نیچے اتر گئیں۔ تھوڑی دیر بعد مسلح فوجی آ گئے۔ ملا دکان چھوڑ کے بھاگ گیا۔ پھر وہ کاروبار ہی چھوڑ دیا۔

ملا دلہن کے لہنگے بنوا کے فروخت کرنے کا کاروبار بھی کرتا رہا۔ کہتا ہے، دلہن والے لہنگے پہ دس ہزار روپے خرچ آتا ہے۔ لوگ ہنسی خوشی ایک لاکھ روپے دے جاتے ہیں۔ کہتا ہے لوگوں کو لہنگے کی قیمت کم بتاؤ تو کہتے ہیں شادی روز روز تھوڑی ہوتی ہے ہمیں مہنگے والا دکھاؤ۔ پھر وہ دس ہزار روپے والا ایک لاکھ روپے میں لے جاتے ہیں۔ ویسے دل کا بہت اچھا بندہ ہے لوگوں کے دکھ سکھ میں کام آتا رہتا ہے۔

رات کو بیٹھے بیٹھے میرا دل کیا جامع مسجد الصادق کے پاس توے پہ بھونی جانے والی مصالحہ دار کھیری بوٹی کھا آؤں۔ ملا کو فون کیا، اس نے کہا، آ جاؤ، چلتے ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد ملا نے کہا، ”اکبر بھائی! چلو، پھولوں والی گلی سے ہوتے ہوئے واپس چلتے ہیں۔“ ۔ جامع مسجد الصادق کے نیچے والا بازار رات کی وجہ سے بند ہو چکا تھا۔ ملا نے موٹر سائیکل ایک پتلی گلی میں داخل کیا جہاں اگر سامنے سے کوئی خاتون آ رہی ہو تو اسے یہ ہی کہا جا سکتا ہے۔

”باجی یا تو میں دیوار کے ساتھ لگ کے کھڑا ہو جاتا ہوں یا آپ تاکہ ہم دونوں ایک دوسرے کو چھوئے بغیر گزر جائیں۔“ جیسے ہی گلی سے نکلے تو سامنے ایک مزار تھا۔ ملا نے کہا، ”اکبر بھائی! اس مزار پہ عرس کے موقع پہ دیگی چاول مٹی کے پیالوں میں ڈال کے دیے جاتے ہیں۔ میں تو کھانے آتا ہوں۔ آپ کو بھی لے آؤں؟ دوسری گلی میں داخل ہوئے تو وہاں گلی کے اندر ہی ایک قبر بنی ہوئی تھی جس پہ قرآنی سورتوں والی چادریں چڑھی ہوئی تھیں اور سرہانے مٹی کے دو دیوے جل رہے تھے۔ ساتھ ہی سیوریج کی کھلی نالی گزر رہی تھی۔

کچھ عرصہ سے میں نے شاعری کرنا چھوڑی ہوئی ہے۔ طبیعت بلاگ لکھنے کی طرف زیادہ مائل ہو گئی ہے لیکن واک کرتے ہوئے ذہن میں نئے اشعار کی آمد ہو گئی۔

بنا کے دل کو امام، ہوئے ہیں ہم رج کے خراب
تیرے وعظوں کی نہ رہی چاہ ہمیں مولوی صاحب

خوشی کے تعاقب میں ہوتا ہے غم اکبر میاں
نہیں چاہیے تسلیوں میں پناہ ہمیں مولوی صاحب

ہمارا ہمسایہ ملک جو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پہ آتا ہے وہاں کسان تحریک کو شدت پسند ہندو توا مذہبی قوتوں سے سامنا ہے۔ خیال ہے کہ وہاں کے ہندو عوام کی ایک قابل ذکر تعداد خصوصاً پڑھے لکھے لوگ انتہا پسند ہندو مذہبی قوتوں کے اقدامات کو شدید ناپسند کر رہے ہیں اور ردعمل میں مستقبل میں وہ لا مذہب ہو جائیں گے۔ ہو سکتا ہے ابھی آپ لوگ میری اس پیش گوئی سے اتفاق نہ کریں لیکن ایسا ہو گا۔ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں بھی لوگوں کے مزاج اور رویوں میں تبدیلی آ رہی ہے۔ پڑھے لکھے پاکستانیوں میں اب شدت پسندی باقی نہیں رہی یا کم ہوتی جا رہی ہے۔ وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر مسلمان مذہبی لیڈر شپ کو بھی اپنے رویوں میں اعتدال اور برداشت لانا ہو گی۔

Facebook Comments HS