گلیلیو سے جیمز ویب تک

کائنات کل کیا تھی اور کائنات کا کل کیا ہو گا۔ ہماری کہکشاں کے علاوہ دُور دراز کی قریباً دو سو اَرب کہکشائوں میں کیا ہو رہا ہے۔ بلیک ہولز کا پُراسرار وجود اور اِن کا ارتقاء کیسے ہوتا ہے۔ کوئی تیرہ ارب سال پہلے بگ بینگ کے بعد کیا ہوا تھا، کیسے کہکشائیں اوّل اوّل کائنات میں اِکٹھی ہونا شروع ہوئیں، سِتارے کیسے بنے، کائنات میں کہاں زندگی ہے یا ہو سکتی ہے۔
انسان اِن سوالوں کے جواب ملنے سے کوئی چھے ماہ دور ہے۔
کل شام انسان نے اپنی تاریخ کا شاید سب سے پیچیدہ اور حسّاس ترین قدم اُٹھایا ہے۔ جیمز ویب نامی خلائی دوربین کل شام خلا کے سفر پر روانہ ہو گئی ہے، جِس کی تکمیل میں کئی عشرے لگے، جو ٹیکنالوجی کا شاہکار ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی عقل کا حیرت انگیز عجوبہ ہے۔ اب سے اگلے 29 دِن تک جیمز ویب خلا میں قریبا 1.5 ملین کلومیٹر کا سفر طے کرے گی تاکہ خلا میں اپنا مستقل گھر تلاش کر لے، ایک ایسا پوائنٹ جہاں کششِ ثقل اس دوربین کے مستقل ٹھہرائو کیلئے موزوں ترین ہو۔ مستقل ٹھکانے پر پہنچ کر یہ بیضوی مدار میں سُورج کے گرد چکر لگائے گی جبکہ زمین سے اس کا اوسط فاصلہ تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر رہے گا۔
یہ دُوربین اتنی پیچیدہ ہے کہ اس کی مختلف تہیں کُھلنے اور اسے کام شروع کرنے میں چھے ماہ لگیں گے۔ جس کا مطلب ہے 2022 کے وسط میں یہ دُوربین اپنی پہلی تصویر خلا کے دور دراز اور اندھیرے ترین گوشوں سے ہمیں بھیجے گی۔ یہ مقامات ہم سے تقریباً 13 ارب 70 کروڑ سال دُور ہیں، یعنی اِن سے آنے والی روشنی بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود کائنات۔ یہاں کائنات کے اولّین ترین سِتارے بھی ہیں جو تیرہ ارب سال پہلے وجود میں آئے ہوں گے لیکن انہیں اب تک دیکھا نہیں جا سکا تھا۔ جیمز ویب ہمیں کائنات کا اولین مشاہدہ کروائے گی کہ اُس وقت کہکشائوں، سیاروں اور سِتاروں پر کیا گزری تھی۔ یعنی انسان وہ کچھ دیکھے گا جس کا وہ تیس سال پہلے تصّور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

یہ سطور لکھتے مجھے گلیلیو کا خیال آ رہا ہے۔ اِٹلی کا مایہ ناز سائنسدان و ریاضی دان اور جدید فِزکس کا بانی۔ گلیلیو نے جب ٹیلی سکوپ کے ذریعے آسمان پر اوّل اوّل نظامِ فلکیات کو دیکھنا شروع کیا اور دعوی کیا کہ زمین سُورج کے گرد گھوم رہی ہے،نہ کہ سورج زمین کے گرد۔ تو ویٹیکن سٹی میں گلیلیو کو کلیسا کے روایتی فلسفے کی مخالفت کرنے پر عُمر بھر قید کی سزا دی گئی اور اس نے اپنے حقیقی سائنسی نظریے کی پاداش میں نو سال اپنےگھر، قید میں گزار دیئے اور اِسی حالت میں انتقال کر گیا۔
1633 سے آج 2021 تک۔ گلیلیو کی ایجاد کردہ ٹیلی سکوپ سے لیکر ہبل اور ہبل سے لیکر جیمز ویب ٹیلی سکوپ تک۔ انسان کائنات میں کہاں تک جارہا ہے اور کس تیزی سے جا رہا ہے، یہ بہت حیرت ناک ہے۔ کچھ عشروں پہلے اپنے سیارہ زمین سے باہر دیکھنا بھی تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ پھر یہ دائرہ بڑھا اور ہم نے اپنے نظامِ شمسی میں جھانکنا شُروع کر دیا۔ اس سے اگلا قدم کائنات کا نظارہ ہے، دُوسری کہکشائوں کا نظارہ ہے، اور یہ کتنا حیرت ناک اور کیسا حَسین ہے۔ بالکل یوں جیسے کسی کو آخری عُمر میں اپنی پیدائش کے حالات و واقعات پتہ چل جائیں۔
اور یہ بات یہیں تک محدود نہ رہے گی۔ پروفیسر سٹیفن ہاکنگ نے اپنی موت سے صِرف دس دن قبل اپنے آخری تحقیقی مقالہ میں لِکھا تھا کہ کائنات بھی صرف ایک نہیں بلکہ اِس جیسی متعدد کائناتیں پائی جاتی ہیں، یعنی یُونی ورس نہیں بلکہ "مَلٹی ورس”۔ اِس نظریے کو ایک پیچیدہ پہیلی سے مقالہ بنانے تک ہاکنگ کو بیس سال لگے۔ ملٹی ورس فی الحال صرف ایک نظریہ ہے، ایک نُقطہ آغاز۔ لیکن کون جانے جیمز ویب کے ذریعے جب انسان اپنی کائنات کے اندھیرے اور قدیم ترین گوشوں میں جھانک لے، تو اِس کا اگلا قدم دیگر کائناتوں کی تلاش ہو۔ کون جانے ہم یُونیورس نہیں، بلکہ مَلٹی ورس میں رہتے ہوں۔ کون جانے ہم جیسی ہُوبہو ایک اور کائنات میں ہم جیسے اِنسان بَستے ہوں۔ اور کون جانے ایسی کائناتیں بھی ہوں جہاں ہمارے طبیعیاتی نظریے فرسودہ ہوں۔ کون جانے۔ ہاں اب یہ یقین ہے کہ اِن سوالوں کے جواب ڈُھونڈنا انسان کیلئے ناممکن نہیں ہے۔ وقت کی بات ہے، یُونیورس اور مَلٹی ورس، پورے سَبھائو کے ساتھ اِنسان کی نظر کے سامنے ہو گی۔
Facebook Comments HS


بہت خوبصورت معلومات بہترین اسلوب کے ساتھ۔ بہت شکریہ