گلیلیو سے جیمز ویب تک

کائنات کل کیا تھی اور کائنات کا کل کیا ہو گا۔ ہماری کہکشاں کے علاوہ دُور دراز کی قریباً دو سو اَرب کہکشائوں میں کیا ہو رہا ہے۔ بلیک ہولز کا پُراسرار وجود اور اِن کا ارتقاء کیسے ہوتا ہے۔ کوئی تیرہ ارب سال پہلے بگ بینگ کے بعد کیا ہوا تھا، کیسے کہکشائیں اوّل اوّل کائنات میں اِکٹھی ہونا شروع ہوئیں، سِتارے کیسے بنے، کائنات میں کہاں زندگی ہے یا ہو سکتی ہے۔ انسان اِن سوالوں کے جواب ملنے

Read more

انمول خرانے کے نادان رکھوالے

صادقین کی تحریر اور شری کرشن کی مورتی کے ساتھ گوتم بدھ کے یہ مجسمے میرے بک شیلف کا حصہ ہیں۔ اس کونے کو دیکھ کر میرا راجکمار من سدھارتھ کی طرح بے گھر سالک سا ہو کر ”اندرسالا“ یعنی اپنے اندر کی غار میں ڈوب جاتا ہے۔ بدھ مت سے مجھے ہمیشہ ایک عجیب سا لگاؤ رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ ٹیکسلا اور جولیاں کے آثار اور پاٹھ شالائیں ہیں۔ جولیاں یونیورسٹی ہو یا ٹیکسلا کی خوشبودار ٹھنڈی

Read more

خادم رضوی اور مذہبی شدت پسندی

انسان کا عقیدہ، اس کی اندرونی و بیرونی شخصیت کو تشکیل دیتا ہے۔ عقیدہ یعنی وہ افکار و نظریات جن کا انسان معتقد ہو۔ یہ افکار و نظریات چونکہ انسان پر غالب ہوتے ہیں اس لیے اس کا عمل انہی کا عکس ہوتا ہے۔ عقیدہ و نظریہ ٹھیک ہو تو عمل ٹھیک، عقیدہ و نظریہ خراب ہو تو عمل خراب۔ خاص طور پر جب مذہبی عقائد کی بات آ جائے تو انسان جس چیز پر ایمان رکھتا ہے اسی کو

Read more

یکساں تعلیمی نصاب یا سکولوں کو تکفیری مدرسے بنانے کا عمل؟

ترقی یافتہ ممالک رواداری، پلورل ازم اور برداشت کی مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہیں۔ انہی اقدار نے مذہبی بنیاد پرستی پر قائم یورپ کو تاریک عہد سے باہر نکالا، پاپائیت اور بادشاہت کو رد کیا اور یورپ کو ایک ایسے جدید دور میں داخل کیا جو علم، انصاف اور خلاقیت کو قبول کرتا اور فرسودہ عوام دشمن ڈھانچوں کو رد کرتا ہے۔

پاکستان کی ستر سالہ کہانی معاشی، سماجی، علمی، فکری، سیاسی، اور ثقافتی فرسودگی کی داستان ہے۔ جہاں ایک ہی قسم کا مذہب مسلک ریاست کی طرف سے سپانسرڈ ہے اور ایک مخصوص فرقے کی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے مذہبی دکانداری عروج پر ہے۔ ستر سالوں سے نوجوانوں کو دیوبندی مدارس میں تیار کردہ یک نوعی مذہبیت پڑھائی جا رہی ہے اور ان کے ذہنوں کو تعصب، تنگ نظری اور نفرت سے بھرا جا رہا ہے۔ پاکستان بھر کے سکولوں کے نصاب سے وہ تنوع غائب ہے جس سے حقیقی دنیا میں طلبہ کا واسطہ پڑتا ہے۔

Read more