سیاست کے انداز نرالے

سیاست کے میدان میں ایک نئی سرسراہٹ پھیل رہی ہے. اچانک ایک ہلچل سی پیدا ہو چکی ہے. شاید کسی انہونی کے ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے. سردی کے اس شدید ترین موسم میں سیاست میں گرمی کے پیدا ہونے کا امکان ہے. اسلام آباد کے بڑے گھر میں براجمان کپتان بھی اس اچانک موو پر بھونچکا رہ گیا ہے. اس کی باتوں سے مایوسی صاف چھلک رہی ہے. شائد اس کو بتا دیا گیا ہے کہ اس کی رخصت کے پروانے پر دستخط کر دیے گئے ہیں. کہتے ہیں بڑوں کو پتہ چل چکا ہے کہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے. لہذا اس بوجھ کو جتنی جلدی ممکن ہو اتار پھینکا جائے. اسی میں سب کی بھلائی ہے.
بقول چند یوٹیوبر کے اس بات کا اندیشہ پیدا ہوچلا ہے کہ کہیں وہ ایسی چال نہ چل جائےجو اپوزیشن کے لیے مشکلات کا باعث ہو. ایک نجی چینل کے ہوسٹ نے یوٹیوب پر اپنے ویلاگ میں بتایا ہے. کپتان مارچ میں نئے آرمی چیف کےنام کا اعلان کر سکتا ہے. جس کی سن گن اپوزیشن کو ہوگئی ہے. لہذا اگلے سال کے پہلے دو مہینوں کے اندر کپتان کی رخصتی کی مہم کو منطقی انجام تک پہنچانے کی سوچ پروان چڑھ رہی ہے. کپتان اگر قبل از وقت یہ تعیناتی کرے گا. تو کیا وہ ادارے کو اعتماد میں لے گا یا نہیں. اگر اس کا جواب نفی میں ہے. تو تاریخ ایک دفعہ پھر اپنے آپ کو دہرانے جارہی ہے. ماضی میں بھی ایسی ہی صورت حال پیدا ہوئی تھی. جب وزیراعظم اور آرمی چیف آنکھ مچولی کھیلتے کھیلتے بند گلی تک جا پہنچے تھے اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی.اس بلف گیم کی بدولت وزیراعظم صاحب کو زندگی کے کئی سال سرور پیلس میں گزارنے پڑے. موصوف دس سال کے لیے نکالے گئے تھے. اور شائد سات آٹھ سال بعد واپس آ دھمکے تھے. ان کی واپسی کیسے ہوئی اور ان کی جماعت نے انتخابات میں کیسے حصہ لیایہ ایک الگ داستان ہے. ویسے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان کو ہر دفعہ نکالا کیوں جاتا ہے.
تین دفعہ وزیراعظم کے عہدہ جلیلہ سنبھالنے والی اس ہستی کے سیاسی سفر کا اگرجائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ موصوف ایک غیر متوازن سوچ کی وجہ سے ہمیشہ لڑ جھگڑ کر اقتدار سے بےدخل ہوئے. تینوں ادوار میں ان کی اداروں کے ساتھ نبھ نہیں سکی. ایک دفعہ وہ عدلیہ پر بھی چڑھ دوڑے تھے. جس کی وجہ سے بنچ نے سماعت کے دوران ہی نکل بھاگنے میں عافیت جانی. ملک کی سب سے بڑی عدالت کی تقسیم کو بعض ناقدین ان کے کریڈٹ میں ڈالتے ہیں.
آج کپتان کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے اگر اس نے ویسی ہی حماقت کرنے کی کوشش کی. کیا انیس سو ننانوے کی تاریخ دھرائی جائے گی یا اس دفعہ کچھ نیا ہوگا. یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے. کہ ماضی کے مقابلے میں کپتان کی پوزیشن بدرجہا درجے بہتر ہے. یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ ایک کمزور ترین حکومت کا کپتان ہے. مگر وہ ایک فائٹر ہونے کی وجہ سے لڑائی کے ہنر جانتا ہے. ایک پلس پوائنٹ بھی اس کے پاس ہے. یعنی اس کا خاص دوست ماضی کے حکمران کے خاص دوست سے خاصہ تگڑا ہے.جس کی وجہ سے کپتان کسی حد تک مطمہن ہے. وہ جانتا ہے اس کے دوست کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں.
آج بات اگر مگر کے اردگرد گھوم رہی ہے. الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے چند لکھاری قومی اسمبلی کے اجلاس کے التوا کے پس منظر میں کچھ رولا تلاش کرتے پھر رہے ہیں. کہ شائد کپتان کسی مشکل میں گرفتار ہے. یا متوقع قانون سازی کے دوران اس کو مطلوبہ اکثریت نہ ملنے کا خوف درپیش ہے.
کہا جاتا ہے. یہ ایک سوچ سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے چلائی جانے والی مہم ہے . جس کا مقصد حکومت اور ادارے کے درمیان مبینہ دراڑ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے سوا اور کچھ نہیں. یہ چائے کی پیالی میں طوفان کے برابر ہے. ن لیگ کے ہمدرد ایک صحافی کے بقول یہ دل کو بہلاوا دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں.
اگر کپتان 2021 کے پہلے چار ماہ نکال گیا تو وہ اپنی مدت پوری کرے گا.نومبر 2022 میں اس نے ایک بڑی تعیناتی بھی کرنی ہے. اس کے بعد اس کے لیے چین ہی چین ہے. اس سارے قصے میں ایک طبقے کی لاٹری نکل آئی ہے. وہ طبقہ ہے یو ٹیوب پر بیٹھے ہوئے دوکاندار جن کا مال دھڑا دھڑ بک رہا ہے.جب کہ عوام کو ان قصے کہانیوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے.ان کو صرف اپنی دال روٹی سے غرض ہے.
Facebook Comments HS

