ٹوٹتے گھروں کے نام


ریت میں پاؤں رکھ کر ساحل پر گھر بناتے وقت اس کے خیالوں میں ہمیشہ ایک ایسا ہی گھر تھا جو بار بار بکھرتا ٹوٹ جاتا مگر پھر پہلے جیسا ہی بن جاتا تھا۔ اسے معلوم تھا کی سمندر کی لہریں اسی انتظار میں رہتی ہیں کہ کب وہ ریت کا گھر بنائے اور لہریں سمندر کی ساری توانائی سمیٹ کر ساحل کی طرف روانہ ہوں جیسے ازل سے ان کا مقصد صرف ریت کے گھر کو گرانا ہی ہو، مگر وہ پھر بھی لہروں کی پہنچ سے دور گھر نہیں بناتی تھی۔

اسے لہروں میں چھوٹے بچوں کی ہنسی سنائی دیتی تھی جو ریت کا گھر گرنے کے بعد ساحل کی ہوا میں بکھر جاتی تھی، اور وہ بہت دیر اور دور تک ہوا کے دوش پر اس ہنسی کا تعاقب کرتی تھی۔ کبھی کبھی وہ ساحل کی ریت پر بیٹھی صرف یہ سوچا کرتی تھی کی اسے ریت کا گھر بنانے سے زیادہ پیار ہے یا ان لہروں کی ہنسی سے جو اس کا گھر گرا دیتی تھیں۔

مگر آج وہ صرف ساحل سے دور بیٹھی سمندر سے بھی گہری خاموشی میں گم تھی۔ اور ساحل کی ہوا بہت دیر سے ایک ضدی بچے کی طرح اس کے آنچل کو لہرا لہرا کر یہ کہہ رہی تھی کہ آؤ گھر بناتے ہیں اور گراتے ہیں۔ لہریں بھی دور سے اسے پکار رہیں تھیں کیونکہ اس کے ریت کے گھر کے بنا ان کا کھیل ادھورا تھا۔ مگر وہ شام جس کی دہلیز پہ بیٹھ کر وہ سمندر میں ڈوبتے سورج کی ٹھنڈک محسوس کیا کرتی تھی اور اپنے انگنت خوابوں کی تتلیاں ٹوٹے ہوئے پروں کے سہارے ڈوبتے سورج کو روانہ کرتی تھی اور رفتہ رفتہ جواں ہوتی لہروں پہ نئے خواب بنتی تھی، وہ شام آج بہت افسردہ تھی اور سلگتی شفق اس کی روح کو گل کیے جاتی تھی۔

آج شام کی دہلیز پہ ماتم برپا تھا اس برباد گھر کا جو سمندر کی لہروں سے بہت دور کسی اور جہان میں اس نے بنایا تھا اس کی معصوم سوچیں اس کے ذہن و دل سے نکل کر اس کے سامنے شرمندہ کسی سزا کے حکم کے انتظار میں سر جھکائے کھڑی تھیں۔ اس کے تخیل پہ بجلیاں برس رہی تھیں شکوہ خود سے ہی اشک بن کر برس پڑا۔ شکوہ جاں سے کہ اسے بتایا تو ہوتا کہ ہر گھر ٹوٹ کر پھر سے پہلے جیسا ہی نہیں بن جاتا، ریت کا گھر ساحل پہ ہی بکھرتا اور بنتا ہے کہ اس کا لہروں سے ایک رشتہ ہے۔

شکوہ جاں سے کہ اسے بتایا تو ہوتا کہ انسانوں کے جنگل میں بنایا گھر جفا کی آندھیوں سے ٹکرائے تو ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں بکھر جاتا ہے جو پھر کبھی دوبارہ پہلے جیسا نہیں بن پاتا۔ اسے بتایا تو ہوتا دیار غیر میں سورج ڈوب بھی جائے تو شام سلگتی رہتی ہے ٹوٹے خوابوں کی تتلیاں دل سے روانہ نہیں ہوتیں بلکہ راکھ بن کر آنکھوں میں دفن ہو جاتی ہیں جہاں نئے خواب پھر کوئی نہیں بنتا۔ شکوہ جاں سے کہ اسے بتایا تو ہوتا کہ محبت سمندر ہے اور جہاں سمندر نہیں ہوتا وہاں جہان ساحل نہیں ریگستان ہوتا ہے، جہاں کوئی سہارا کوئی سایہ میسر نہیں ہوتا۔ جہاں پیاسی، آوارہ سلگتی روحوں کا ہجوم سورج کی تپتی تھاپ پہ ماتمی رقص کرتا ہے۔

محبت کی معصومیت اور سچائی پر سے اس کا ٹوٹا ہوا یقین ریزہ ریزہ ہو کر آنسوں کی صورت آنکھوں سے رواں تھا کہ کچھ لمحوں بعد اس نے محسوس کیا کہ سمندر خاموش ہو چکا تھا اور لہریں ساکت۔ ساحل کی ہوا اس کا آنچل چھوڑ کر ساحل کی ریت کے ہر ذرے میں سما چکی تھی۔ مگر سورج جسے بہت پہلے ہی سمندر کی بے حدوں میں ڈوب جانا چاہیے تھا اس کی آخری کرن اب بھی مریض مرگ کی آخری سانس کی طرح کسی کے انتظار میں اٹکی ہوئی تھی۔ اس نے ڈوبتے سورج کی آخری کرن کا ہاتھ تھاما اور ساحل کی گیلی ریت پر پاؤں رکھے جس نے ریت کے ذروں میں قید ہوا کو آزاد کر ڈالا لہروں کی جنبش نے سمندر کی خاموشی توڑ ڈالی پھر اس نے اپنی معصوم سوچوں کو اپنے آنچل میں سمیٹا اور ڈوبتے سورج کی آخری کرن کا ہاتھ تھامے سمندر کی بے حدوں میں ڈوب گئی۔

Facebook Comments HS