ان کی غلامی میں نہیں جینا مجھے
کچھ دن پہلے کی بات کرتا ہو۔ اس دن میں کافی بے قید تھا کام کاج بھی کچھ خاص نہیں تھا۔ سوچا کچھ آ رام کر لیتے ہیں۔ کیو کہ بڑے عرصے بعد مسلسل چند گھنٹے آ رام کے لیے میسر ہوئے۔ جیسے ہی میں اپنے کمرے میں گیا اور چارپائی کو جھاڑا اور لیٹنے کی کوشش کہ چارجنگ پر لگے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔ من و من میں خیال آ یا کہ لو جی برسوں بعد آ نے والی ریسٹ بھی ہاتھ سے گی۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ جو بھی کال ہو گی وہ کسی کام کے علاوہ نہیں ہو گی۔
مگر اس دن ایسا نہ ہوا۔ یہ کال میرے ایک دوست کی تھی جو اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر مجھے کال کر رہا تھا۔ خیر میں نے بھی فوراً کال اٹھائی اس دوست نے حال چال پوچھنے بنا ایک سوال پوچھا کہ افضل جھانوالہ ایک بات بتائیں میں نے بھی کہا حکم کریں۔ تو اس نے کہا کہ مقامی سیاست دانوں کا تھانوں اور کچہری میں کیا کام ہے۔ میں بھی سوچ میں پڑھ گیا کہ اب بھلا بندہ کیا جواب دیں یہ نہ ہو کہ میں گھر جاؤں اور پہلے کی طرح پھر کسی نے پکڑا ہوں مجھے۔
لیکن میں نے حوصلہ کیا اور پیارے دوست کے سوال کا جواب دینا شروع کیا۔ میرے خیال میں مقامی سیاست دانوں کی صفات میں کونسلر، ناظم، ایم پی اے اور ایم این اے ہی ہوتے ہیں۔ میں ان لوگوں کو سیاست دان تو نہیں مانتا مگر ان کے ساتھ لفظ سیاست استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے کہنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ سیاست تو ایک مقدس پیشہ ہے کسی ایسے بندے کی بس کی بات نہیں ہے۔ اس پیشے کے ساتھ منسلک ہونے کے لیے انسان کو سونے کی طرح بار بار بھٹی سے کندن بننا پڑتا ہے۔ جو ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ لوگ ووٹ کی عزت سے ناواقف ہوتے ہیں اور ناواقف لوگوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ حقیقت میں ایک مداری کی طرح اپنے کھیل کو دکھانا شروع کرتے ہیں اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد اپنا کام دکھاتے ہیں اور رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے میں ایک گاؤں کی سیاست کی بات کرتا ہوں۔ جہاں لوگوں میں باہمی اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے مختلف برادریوں کا مختلف گروہوں میں تقسیم ہونا ایک عام سی بات ہے۔
ایسے معاشرے میں یہ سیاسی لوگ اپنا چورن بیچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں عوام قانون کے تابع ہو نہ کے کسی واحد فرد کے۔ مگر یہاں پر شخصیت پرستی کو اپنے لیے فخر اور اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ یہ مقامی سیاسی لوگ میرے خیال میں لفظ سیاست کے لغوی معنی سے بھی واقف نہیں ہو گے۔ لیکن ہر الیکشن میں ایک عجیب سا منظر دکھائی دیتا ہے جو انسان ہر طرف سے فارغ ہو گا وہی ہمارا لیڈر ہو گا۔ میری بات کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں کرنا بلکہ اصلی اور حقیقی لیڈر کی تلاش کرنا ہے۔ جو صحیح معنوں میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکے جو اس بات کی فکر کر سکے کہ معاشرے میں کن کن مسائل سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ وہ کیا پریشانی ہے۔ جو ہمارے جوان لڑکوں کو ان کی جوانی سے معزول کر رہی ہے۔ اگر منشیات کا کوئی بیوپاری ہے تو کون ہے۔ اور کیوں ہے۔ اور اسلامی ریاست میں اگر شراب بکتی ہے تو کون بیچتا اور کون پیتا ہے۔ اور کون اجازت دیتا ہے۔ زنا کے اڈے کہاں ہیں؟ اور ان کو اسلامی ریاست میں کون استعمال کرتا ہے۔
اگر ہم اپنی زندگی کو مثالی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ ساری باتیں دیکھنی ہوگی۔ اگر لوگ بیمار ہوتے ہیں تو کس وجہ سے بیمار ہوتے ہیں کہ ہم صاف پانی پی رہے ہیں کیا اس کے لئے کوئی بندوبست کیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ ساری باتیں سوچنے والا ہے اور کرنے کی جرات رکھتا ہے تو وہ ہو گا ہمارا لیڈر ہے۔ یہ ہے حقیقی معنوں میں سیاست سے واقفیت رکھنے والا انسان۔ خیریت یہ تو تھی ایک سیاست کی پہچان ایک فرض کی پہچان۔ پولیس تھانوں میں میں ان سیاستدانوں کی پہچان ابھی باقی ہے۔
میرے خیال میں پولیس کو اس کا حقیقی کام یہ لوگ کرنے ہی نہیں دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ سیاسی سانپ جانتے ہیں کہ ہم نے مسلسل اسی عوام کا استعمال کرنا ہے۔ اب اگر اچھے اور برے کی پہچان کرنی شروع کر دی تو ان کی دکانداری ایک ہی سیزن میں فلاپ ہو جائے گی۔ اور اگلے سیزن میں اس دکان پر کوئی آنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ اسی لیے پولیس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جاتے ہیں۔ اگر پولیس والے کسی گاؤں میں جانا چاہیے تو تو وہاں کے سردار وڈیرے کی اجازت کے بنا جا نہیں سکتے ہیں۔
کیونکہ ان لوگوں نے بھی گھر یعنی مقامی سطح پر زندگی گزارنی ہوتی ہے اگر کچھ زیادہ کریں گے تو ایک ڈویژن کافی بڑا ہوتا ہے۔ اسی لیے ان کا کسی وقت بھی کہیں بھی ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے۔ ان سردی کی راتوں میں جب ایک کانسٹیبل اپنی ڈیوٹی ختم کر کے اپنے گھر کی طرف جاتا ہے۔ تو اس کے من میں ہزاروں خیالات ہوتے ہیں راستے میں اس کے ساتھ کیا ہو جائے یہ خدا جانتا ہے۔ لفظ پولیس ایسے ہی نہیں بنا آخر کچھ تو ذہانت ہوں گی ان میں۔
بچپن میں جب ہم سکول جایا کرتے تھے تو ہمارے استاد محترم ہمیں لفظ پولیس کی تشریح کر کے بتاتے تھے۔ پولیس کا مطلب امن امان کا بندوبست کرنے والا، جرائم کو روکنے والا اور قانون کا نفاذ کرنے والا۔ لیکن یہاں پر یہ مقامی سیاسی لوگ یہ کام کرنے نہیں دیتے ہیں۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ مقامی سیاستدانوں کا نظام زندگی میں سوا بگاڑ پیدا کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے۔ ان وڈیروں نے سیاسی لوگوں نے مختلف گروپ بنائے ہوتے ہیں۔
اور یہ لوگ تمام شرابی، زانی اور چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں، منشیات فروشوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ بد معاش لوگ ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ اور ہم جیسے غریبوں کا مال و عزت ہر وقت خطرے میں ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر تھوڑی بھی آواز بلند کی تو اگلے ہی دن گھر میں رکھی بکریاں مرغیاں یا ٹوٹے ہوئے لوہے کے ٹرنک میں پڑے پیسے لوٹ لیے جائیں گے۔ اگر ان چوروں لٹیروں ڈاکوؤں کی اس رینج سے ہم بچ نکلے تو اگلے ہی دن نہر ( لو ہر باری دوآب ) کی کسی بھی بل پر لگا ہوا نا کا ہمیں ہماری جیب اور زندگی کے ساتھ ساتھ پرانی سائیکل یا موٹر سائیکل کو الوداع کہنا پڑ سکتا ہے۔
اسی ڈر نے آج تک ہمیں ہمارے حقوق کی بات کرنے سے روکا ہوا ہے۔ میں تو اس لئے کہ یہی جواب دے رہا ہوں کہ اگر ہم نے زندگی گزارنی ہے تو ہمیں ان سیاسی وڈیروں کے تابع نہیں ہونا چاہیے بلکہ قانون کے تابع ہو جانا چاہیے تب ہی ہم اپنی زندگی میں کچھ آزادی محسوس کر سکیں گے۔ وگرنہ ایسے ہی ہم ڈر کی زندگی میں مبتلا رہیں گے۔ اور زندگی کی خوبصورتی کو محسوس نہیں کر سکیں گے اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ ہم غریبوں کو ایک دوسرے کی آواز بننا چاہیے اور اچھے لیڈر کی پہچان کرنا چاہیے تا کہ آنے والے دنوں میں وہ اچھا لیڈر چاہے غریب ہو یا ایک امیر آدمی ہوں لیکن انسان ہوں۔ تب ہی مسائل حل ہو سکیں گے۔ اور ہم ایک با اعتماد اور عزت بھری زندگی گزار سکیں گے۔


