کرونا ویکسینیشن مہم کا دوسرا مرحلہ
لاہور سمیت پورے پنجاب میں کرونا کی ویکسینیشن مہم کا دوسرا مرحلہ جاری ہے۔ مہم کا آغاز یکم دسمبر کو کیا گیا جو 31 دسمبر تک جاری رہے گی۔ مہم کے دوران 12 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔ مزید براں 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو کورونا ویکسین کی بوسٹر یا اضافی خوراک دینے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ ٹیکے حکومت کی طرف سے مفت لگائے جا رہے ہیں۔
کورونا ویکسین لگانے کے لئے حکومت کی طرف سے کیے گئے تمام تر اقدامات اور سہولیات کی فراہمی کے باوجود عوام کی ایک کثیر تعداد آج بھی کورونا ویکسین لگوانے سے نہ صرف انکاری ہے، شاید اس کی وجہ عوام کے ذہنوں میں کورونا ویکسین سے متعلق مختلف شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں ہیں جنہیں دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کورونا ویکسینیشن کی آگاہی مہم میں نہ صرف ریڈیو، ٹی وی، کیبل نیٹ ورک اور اخبارات کے ساتھ ساتھ موبائل پر بھی پیغامات دیے جا رہے ہیں بلکہ اس مہم میں محکمہ صحت کی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر بھی آگاہی فراہم کر رہی ہیں۔
محکمہ صحت پنجاب اور یونیسیف کے اشتراک سے کورونا سے بچاؤ کی ویکسی نیشن مہم کے دوسرے مرحلے میں آگاہی پروگرام کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اس میں علما اکرام کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس میں علماء کرام کے ذریعے عوام کو کورونا ویکسین کی افادیت سے آگاہ کیا گیا اور علما اکرام سے استدعا کی گئی کہ وہ کورونا سے محفوظ رکھنے کے لئے عوام کو کورونا ویکسین لگوانے کی تلقین کریں، کیونکہ آج بھی منبر اور محراب سے اٹھنے والی آواز کو معتبر جانا جاتا ہے اور اس آواز پر عمل کیا جاتا ہے۔
محکمہ صحت اور یونیسیف کے اشتراک سے شروع ہونے والی علما آگاہی مہم کا ٹارگٹ مجھے سونپا گیا۔ اس مقصد کے لئے میں نے حکام بالا سے باہمی مشاورت کے بعد ایک پلان تشکیل دیا۔ جس میں طے پایا کہ کورونا ویکسین سے متعلق علما آگاہی مہم میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما اکرام اور لاہور کے تمام ٹاؤنز کی بڑی بڑی مساجد کے خطیب کے ساتھ آگاہی نشست رکھی جائے اور یہ تمام آگاہی نشستیں سرکاری دفاتر یا ان کے کمیٹی روم اور ہال میں رکھنے کی بجائے مختلف مکاتب فکر کے علماء کے اپنے مدارس اور مساجد میں ہی رکھی جائیں۔
اور کورونا ویکسین سے متعلق ان کے خدشات دور کرتے ہوئے کورونا ویکسین مہم کی کامیابی میں ان سے تعاون و مدد حاصل کی جائے۔ کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ علماء اور خطیب حضرات بطور صحت کے سفیر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اور پھر ایسے ہی ہوا۔ ان آگاہی نشستوں میں علما اکرام اور خطیب حضرات کے ساتھ میرے تجربات کیسے رہیں، انہوں نے کورونا ویکسین سے متعلق کیا خدشات اور تحفظات بیان کیے اور ان کے کیا جواب دیے گئے۔ میں یہاں آپ کے ساتھ شیئر کرتی ہوں۔
اس ضمن میں ہر مسلک اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کے لئے بارہ آگاہی پروگرام ان کے اپنے مدارس اور مساجد میں رکھے گئے۔ ان اداروں میں جامعہ اشرفیہ، جا معہ نعیمیہ، مجلس وحدت مسلمین، داتا دربار مسجد، اور وزیر خان مسجد سمیت دیگر ادارے بھی شامل ہیں۔ یہاں میں یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتی ہوں کہ محکمہ صحت کی ایک خاتون نمایندہ ہونے کے باوجود علماء کرام کی طرف سے عزت و احترام اور پذیرائی دی گئی۔ ان آگاہی نشستوں میں کو رونا کے پھیلاؤ، بچاؤ اور ویکسین لگانے کی افادیت کے بارے میں تفصیل سے معلومات فراہم کی گئیں۔ علماء سے استدعا کی گئی کہ وہ کورونا سے بچاؤ اور ویکسین کی افادیت کے حوالے سے اپنے جمعہ کے خطبات میں عوام کو آگاہی دینے کا فریضہ سر انجام دیں گے۔
محکمہ صحت حکومت پنجاب اور یونیسیف پنجاب کی طرف سے کی جانے والی کاوش کو علماء کرام کی طرف سے نہ صرف پذیرائی ملی بلکہ ان کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔ ان سیشن کے دوران علماء نے ویکسین کے حوالے سے مختلف سوالات بھی اٹھائے مثلا
1۔ ویکسین میں شامل اجزا حلال ہیں یا حرام؟
2۔ کیا یہ ویکسین موثر ہے؟
3۔ کیا اس کے کوئی خطرناک مضر اثرات ہیں؟
4۔ کیا یہ ویکسین آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے لگائی جا رہی ہے؟
5۔ کیا حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لئے یہ محفوظ ہے؟
6۔ میں شوگر اور دل کے مرض میں مبتلا ہوں، کیا ایسی حالت میں کورونا ویکسین لگوانا میرے لئے نقصان دہ تو نہیں؟
ان سوالات اور خدشات کے جواب دیتے ہوئے میں محکمہ صحت کے نمائندہ کی حیثیت سے علماء اکرام کو بتایا کہ کورونا کی یہ ویکسین نہ صرف حلال ہے بلکہ یہ ویکسین ہر طرح سے محفوظ اور موثر ہے۔ اور ہر طرح کے مضر اثرات سے بھی پاک ہے۔ تاہم کورونا ویکسین لگوانے سے معمولی درجے کا بخار، سر درد، ٹیکہ لگنے کی جگہ پر درد یا جلد کا سرخ ہو جانا اور تھکاوٹ وغیرہ عوامل ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ کسی بھی طرح سے خطرناک نہیں ہیں۔ یہ ویکسین حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے بھی محفوظ اور موثر ہے۔
اس لیے حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں سمیت تمام خواتین کا ویکسین لگوانا بہت ضروری ہے۔ آبادی کو کنٹرول کرنے کے خدشات سے متعلق سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اس ویکسین کا آبادی کنٹرول کرنے سے کوئی تعلق نہیں، ماضی میں جب پولیو مہم شروع کی گی تب بھی کہا گیا تھا کہ پولیو کے حفاظتی قطروں کا مقصد آبادی کنٹرول کرنا ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ خدشات بھی بے معنی نکلے اس لئے کہ جب ماضی میں پولیو کے خلاف قطرے پلانے کی خصوصی مہم شروع ہوئی تب اور آج پاکستان کی آبادی دیکھیں تو خدشات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں،
علماء سے یہ بھی درخواست کی گئی کہ وہ معاشرے میں اس ویکسین کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں اور افواہوں کا بھی ازالہ کریں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ویکسین لگانے کے دو سال بعد موت واقع ہو سکتی ہے۔ علما کے ساتھ آگاہی نشست میں یہ پیغام بھی دیا گیا کہ وہ منبر اور محراب سے لوگوں کو ہاتھ دھونے اور صفائی کی اہمیت کے حوالے سے بھی پیغامات کو اپنے خطبے کا موضوع بنائیں۔ محکمہ صحت اور یونیسیف کے اشتراک سے علما کے ساتھ ہونے والے آگاہی مہم کے مختلف اجلاسوں میں علماء اکرام کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ باہمی تبادلہ سے ان کے ذہنوں میں کورونا ویکسین سے متعلق
خدشات کافی حد تک دور ہو گئے ہیں۔ علما نے یقین دہانی کرائی کہ اب وہ منبر و محراب سے اپنے خطبہ جمعہ میں نہ صرف لوگوں کو کورونا ویکسین لگوانے کی تلقین کریں گے بلکہ پاکستان کو کورونا فری ملک بنانے میں اپنا مثبت کردار بھی ادا کریں گے۔ کیونکہ بیماریوں سے پاک صحت مند انسان ہی مضبوط مستحکم اور خوشحال پاکستان بنا سکتے ہیں۔




