نیا سال نئے چیلنجز کے ساتھ مبارک

پاکستان کے ہمسیایہ ملک چین اورانڈیا میں اومیکرون کے مریضوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے وہاں مختلف شہروں میں لاک ڈاون اورکرفیو بھی لگایا جارہا ہے۔متحدہ عرب امارات میں اومیکرون سے بچنے کے لئے ملازمین کو ورک فرام ہوم کی اجازت دے دی گئی ہے۔سپین اور نیدر لینڈ میں کرفیو اور لاک ڈاون لگایا جارہا ہے۔دنیا بھر میں اومیکرون کے باعث کرسمس اور نئے سال کی تقریبات کومحدود کردیا گیا تھا۔کرسمس کے موقع پر ہزاروں فلائٹیں منسوخ ہوئیں،ویب سائٹ فلائٹ ایویئر کے مطابق 24 سے 26 دسمبر تک دنیا بھر میں تقریبا 5700 پروازیں منسوخ ہوئیں۔کورونا کا نیا ویرئنٹ اس قدر تیزی سے پھیلتا ہے کہ طبی ماہرین بھی سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ اب اس نئی آفت کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟کیونکہ ڈاکٹروں کی ایک بہت بڑی تعداد پہلے ہی کورونا کے مریضوں کا علاج کرتے کرتے اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔خیر نئے سال کا سورج الحمدللہ طلوع ہوچکا ہے اب ہمیں زندہ رہنے کے لئے ہر آفت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔
نئے سال کے دیگر چیلنجز میں تعلیم،صحت،مہنگائی،روزگار، جیسے چیلنجز شامل ہیں جس کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنا ہونگے۔وزیر اعظم عمران خان نے سال 2020 کو عوام کا سال قرار دیا تھااپنے ایک بیان میں اس وقت وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ”حکومت کی بھرپور کوشش ہوگی کہ جہاں معاشی استحکام کا عمل مزید مستحکم ہو وہاں اس استحکام کے ثمرات عام آدمی تک میسر آئیں اور انکی زندگیوں میں بہتری واقع ہو۔” اسی طرح سال 2021کے آغاز پر عوام کے ریلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اوگرا کی سفارشات کے برعکس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم سے کم اضافہ کرنے کی منظوری دی تھی۔اس وقت وزیر اعظم نے 14 روپے سے زائد مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کی سمری کو مسترد کر دیا تھا۔ موجودہ نئے سال میں بھی عوام وزیر اعظم عمران خان سے اشیائے خوردنوش،پٹرول،بجلی،سوئی گیس کی قیمتوں میں ریلیف دینے کی امید رکھتے ہیں۔صحت کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت خیبر پختونخواہ کی طرح پنجاب کی عوام کو بھی نئے سال پر”نیا پاکستان صحت کارڈ”کا تحفہ دے رہی ہے۔مرحلہ وار جنوری سے مارچ تک پنجاب کے تمام مستقل رہائشی خاندانوں کو دس لاکھ روپے تک کسی بھی سرکاری یا نجی ہسپتال سے علاج معالجے کی سہولت دستیاب ہوگی۔صحت کی یہ سہولت ملنے پر پنجاب کے عوام نہ صرف وزیر اعظم عمران خان بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے بھی شکر گذار ہیں۔ اگر شعبہ تعلیم کے چیلنجز کی بات کریں توگذشتہ چند دنوں میں ایسی اصلاحات کی گئیں ہیں جواسلامی ملک کا ایک خواب بن کر رہ گیا تھا،تعلیمی نصاب میں قرآن پاک کی تعلیم شامل کرنا ایک بہت بڑاخواب تھاجو اب پورا ہوگیا ہے۔دینی تعلیم کے لئے نئے اساتذہ بھی بھرتی کئے جارہے ہیں جس سے پڑھے لکھے افرادکو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔موجودہ سال میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کوئی بھی اکیلے نہیں کرسکتا اس کے لئے حکومت، اپوزیشن اور عوام کو مل کر چلنا ہوگا۔

