مشرقی یورپ کے ملک رومانیہ سے پاکستانی گاؤں تک

دو دن سے بہاول پور میں شدید سردی ہے یا پتہ نہیں مجھے ٹھنڈ بہت لگ رہی ہے۔ واک کرنے گیا۔ پارک کی دھوپ میں واک کرنا بہت اچھا لگا۔ ایسے میں ایک عجیب سوچ ذہن میں آئی۔ جب میں مر جاؤں گا۔ قبر کے اندر سو رہا ہو ں گا اور وہاں میرا دھوپ سینکنے کو من چاہے گا تو۔۔۔
مجھے مرنے سے ڈر نہیں لگتا۔ایک دن تو اپنے اللہ کے پاس جانا ہے۔ یہ عاجز یہ با ت جانتا ہے کہ دنیا کا ہر انسان مستقل طور پہ ایک نہ ایک آزمائش میں ضرور ہوتا ہے اور کسی نہ کسی معاملے میں خود کو انتہائی بے بس بھی محسوس کرتا ہے چاہے کروڑوں اربوں روپے کے وسائل بھی کیوں نہ رکھتا ہو۔ واک کے دوران ایک ناول کا پلاٹ بھی ذہن میں آیا۔ سوچا قسط وار لکھ کے فیس بک وال پہ ڈال دوں لیکن کیا کیا جائے کہ ادب کی دنیا میں بھی سرقہ بہت ہے۔ آپ کی سوچی اور لکھی ہوئی تحریر کو یار لوگ کاپی پیسٹ کر کے دوسری جگہ اپنے نام سے چھپوا دیتے ہیں۔خیر۔
واک کے بعد مُلّاکے ٹی اسٹال پہ گیا اور اُسے کہا میرے لیے جوشاندہ تیز پتی والی چائے بناؤ۔نو بجے سے پہلے ایک ٹریول چینل لگایا جس میں رومانیہ کے ایک گاؤں Transylvania کے لوگوں کے کلچر، طرز بودوباش اور معیشت پہ ڈاکومنٹری دکھائی جا رہی تھی۔ واضح رہے اس گاؤں کا ذکر کلاسک کا در جہ رکھنے والے ایک عالمی شہرت یافتہ ناول میں بھی ہے۔
رومانیہ کے گاؤں میں خاص بات وہاں سائنٹیفک اصولوں کے مطابق قائم ایک فوڈ فیکٹری تھی جس میں سیب کا جوس بوتلوں میں پیک کیا جارہا تھا۔ وہاں کام کرنے والی لیبر گاؤں کی مقامی خواتین تھیں۔ چینل والوں نے بتایاکہ سیب کا یہ جوس خالص ہوتا ہے جو شہروں میں بھیجا جاتا ہے۔ ایسے ہی چند دن پہلے ڈنمارک پہ ٹریول چینل کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں کوپن ہیگن کے قریب ایک گاؤں میں چاکلیٹ بنانے کی فیکٹری دکھائی گئی جس کا چاکلیت ڈنمارک سے باہر دوسرے ملکوں کو بھی جاتا تھا۔ ہمارے پیارے وطن پاکستان میں شمالی علاقہ جات کے ہمارے لوگ اپنے جنت جیسے علاقے چھوڑ کے روزی کمانے کراچی، راولپنڈی اور پشاور جاتے ہیں۔ اگر ان کے علاقوں میں پیدا ہونے والے پھلوں کے خالص جوس کی فیکٹریا ں مقامی طور پہ لگ جائیں تو اپنے گاؤں کے اندر ہی برسرِ روزگار ہو جائیں اور انھیں کراچی یا دوسرے بڑے شہروں میں نہ جانا پڑے۔ مشورہ ہے کہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں غریبوں کو روزگار مہیا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی اپنایا جائے کہ ان کے دیہاتی علاقوں میں زرعی، ڈیری و دیگر اشیاء کی جو پیداوار ہوتی ہے ان سے فروٹ جوس، ڈیری پراڈکٹس کی پیکنگ کی فیکٹریا ں، مقامی طور پہ پیدا ہونے والے ڈرائی فروٹس سے وٹامن سپلیمنٹس بنانے والی فیکٹریاں اور دیگر چھوٹی صنعتیں جو گاؤں کے خام مال پہ انحصار کرتی ہوں وہ مقامی طور پہ گاؤں میں ہی لگائی جائیں۔
اس طرح جہا ں لوگو ں کو مقامی طور پہ ہی روزگار مل جائے گا وہاں گاؤں سے شہر کی طرف آبادی کی ہجرت بھی رک جائے گی اور بڑے شہروں کا جو حجم بڑھ رہا ہے وہ پھیلاؤ بھی رک جائے گا۔ مُلّا کہہ رہا تھا، "اکبر بھائی، تین چار دن پہلے سرگودھا سے آنے والا مُسمی مالٹا بہاول پور کی منڈی میں تین سو روپے من بِکا ہے۔ شدید سردی کی وجہ سے اُس کی طلب کم ہو گئی ہے۔”۔ اب بیچارہ کسان کہاں جائے؟۔ یہ جو ہم گتے کے ڈبہ میں بند اورنج جوس پیتے ہیں یہ دراصل چین سے درآمد کردہ کیمیکل سے بنایا جاتا ہے۔ اگر مقامی کسانوں کو جوس محفوظ کرنے کا طریقہ سکھا دیا جائے۔ مشینری بنکوں کے ذریعے دے دی جائے تو موسم کی شدت کی وجہ سے کسی فروٹ کی مانگ کم ہونے سے جو قیمتیں گرتی ہیں تو وہ کسان بجائے نقصان اُٹھانے کے اپنے گاؤں میں ہی لگی جوس فیکٹری میں ان کا جوس بوتلوں میں محفوظ کر لیں اور عوام کو بھی چائنیز کیمیکل والے جوس کی بجائے خالص جوس ملے۔
یورپ میں تو دیہاتوں میں قائم فوڈ فیکٹریز جن میں سے کئی کے مالکان خود کسان ہوتے ہیں سبزیوں کے جوس بھی سائنٹیفک طریقوں سے بوتلوں میں محفوظ کرتی ہیں۔ وہاں کے لوگ بیماریوں سے بچنے اور بطور وٹامن ٹانک ناشتے میں سبزیوں کا جوس بھی لے لیتے ہیں۔ہمارے ہاں تو ناشتہ میں انڈہ اور دہی رکھ کے بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ علمِ طب میں انڈہ اور دہی بیک وقت کھانا اچھا نہیں سمجھا گیا۔ علمِ طب میں تو مچھلی کو کسی اور جانور کے گوشت کے ساتھ یہاں تک کہ مختلف جانوروں اور پرندوں کے گوشت کو اکٹھا کھانا بھی بیماری کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ ادھر ہمارے ہاں شادیوں کے کھانے میں رشتہ داروں پہ اپنی دولت کا رعب جمانے کے لیے چکن، مٹن، بیف اور مچھلی کی ڈشیں بیک وقت رکھ دی جاتی ہیں۔ بہاول پور میں کچھ عرصہ پہلے ایک کاروباری شخصیت کی بیٹی کی شادی ہوئی۔ بارات ملک کے ایک بڑے شہر سے آئی۔ ان لوگوں نے سمجھا تھا کہ شاید ہرن اور تیتر بہاولپور میں گلیوں میں پھرتے ہیں لہذا کھانے میں ہرن، تیتر اور بٹیر کے گوشت کی فرمائش کر دی۔ کاروباری شخصیت نے پیسہ خرچ کر کے ہرن کے گوشت کا بندوبست کر لیا۔ دس پندرہ مزید مہنگی ڈشیں بھی شامل کر دیں۔ صرف کھانے کا بل پچیس لاکھ روپے کے قریب بنا۔ بیٹی کو پچاس تولہ سے زیادہ سونا بھی ڈالا۔ داماد کو سلامی میں گاڑی دی۔
میاں بیوی کی آپس میں نہ بنی اور بیٹی دو ماہ بعد طلاق لے کے بہاول پور واپس آ گئی۔ لڑکی کا باپ دل کا مریض ہے۔ ایک بھائی نے بہن کو اپنے بنگلہ میں کمرہ دیا ہوا ہے اور باپ کو بتایا ہوا ہے کہ وہ اپنے سسرال میں رہ رہی ہے۔ اس وقت ملک میں مردوں کی طرف سے دی جانے والی طلاق سے بھی زیادہ شرح خواتین کی طرف سے لیے جانے والے خلع کی ہو گئی ہے۔ عدالتوں کا ریکارڈ اُٹھا کے دیکھ لیں۔۔۔ پتہ نہیں کیا ہو گا معاشرے کا؟۔ مشترکہ خاندانی نظام تو پہلے ہی بہت تیزی سے ٹوٹ رہا ہے۔ بات کہاں سے چلی اور کہاں پہنچ گئی۔ واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ اکبر شیخ اکبر کا مشورہ ہے غریب ممالک بھی اپنے کسانوں کو سبزیوں کا جوس محفوظ کرنے کا طریقہ سکھائیں اور یورپ کو ایکسپورٹ کر کے زرِ مبادلہ کمائیں۔
Transylvania دیکھ کے مجھے اپنا گاؤں چندی پور یاد آ گیا۔ غریب عورتیں کپاس کی فصل تیار ہونے کا انتظار کرتیں۔ کپاس کی فصل کی چنائی کرکے گاؤں کے چوپال، اوطاق یا ڈیرہ کہہ لیں اُس میں ہر عورت ایک من یا کم وبیش جتنی کپاس اُس نے چُنی ہوتی، اُس کے سولہ یا اُس سے کم برابر حصّے بناتی۔ میرے چچا شیخ علی میاں ایک حصّہ ہر عورت کو بطور اُجرت دے دیتے باقی کپاس بیوپاری لے جاتا۔ مغرب کے بعد ڈیرے میں لکڑیوں کی آگ جلائی جاتی۔ اُس کے گرد کرسیاں، موڑھے اور چارپائیا ں پڑی ہوتیں۔گاؤں کے لوگ آکے آگ بھی سینکتے اور سا رے دن کا حال احوال کرتے۔ چچا شیخ علی میاں باقاعدگی سے ریڈیو پہ بی بی سی خبرنامہ سنتے۔ میں بھی اپنے والد صاحب کے ساتھ آ جاتا۔ کرسی پہ خاموشی سے بیٹھا بی بی سی اور بعد میں گاؤں والوں کے تبصرے سنتا۔ پھر میرے والد، چچااور گاؤں کے بوڑھے لوگ یہ دنیا ہمیشہ کے لیے چھوڑ کے چلے گئے کھبی نہ واپس آنے کے لیے۔ اب نہ کوئی بی بی سی سنتا ہے نہ تبصرہ کرتا ہے۔
Facebook Comments HS

