سیاسی سسرال


چائے کے کپ کب کے خالی ہوچکے تھے اور اب ٹھنڈے پڑے تھے، انھیں ایک دفعہ پھر سے گرم کرنے کی کوشش کی گئی تو تھرماس نے معذرت کرلی۔ دسمبر کا مہینہ تھا اور تھرمامیٹر کا پارہ اپنے انتہائی حد تک سکڑ چکا تھا۔ اب تو لگ رہا تھا کہ ان دونوں کے پاس بلدیاتی انتخابات پر مزید کہنے کو کچھ باقی رہا ہی نہیں تھا۔

اس دفعہ بڑے ووٹ کی بولی کیا رہی اور چھوٹے جیسے جنرل کونسلر، کسان اور یوتھ وغیرہ کے کیا ریٹس تھے، کون سا امیدوار کتنے پیسے لے کر کس کے حق میں بیٹھ گیا، سیاست عبادت سمجھ کر کون کرتا ہے، کاروبار کس کے لیے ہے اور اصلی خدمت کی نیت کس کی ہے، جنھوں نے انتخابات میں تجوریاں لٹا دیں ان کے کیا ارادے ہیں، الیکشن کمیشن کتنا خودمختار ہے اور لوگ اس کی کارکردگی سے کتنے مطمئن ہیں ایسے بہت سے موضوعات کا احاطہ ہو چکا تھا۔

اس دوران دونوں دوستوں میں سے ایک جس کو سب میاں جی کہہ کر بلاتے تھے داڑھی کھجا کر گویا ہوئے اور پچھلے پندرہ بیس منٹ سے پھیلی ہوئی خاموشی کو توڑ ڈالا، انھوں نے کہا ”بھائی صاحب! اماں نے تو میرے ناک میں دم کر رکھا ہے، کہ شادی کرلو، اجازت دے دو لڑکی ڈھونڈ لیں، تو سمجھو! اب اماں کو اجازت مل ہی گئی ہے۔“

دوسرا دوست جو اس سے عمر میں بڑا تھا، اس کا نام معاذ جان تھا لیکن سب اسے مختصراً جان صاحب کہہ کر بلاتے تھے، یہ دونوں ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم تھے اور ایک فلیٹ میں ساتھ رہتے تھے اور ان کی بحث کبھی ختم نہیں ہوتی تھی، جان صاحب شادی شدہ تھے، جب انھوں نے میاں جی کا یہ شگوفہ سنا تو تو وہ حیران ہو کر پہلے تو میاں جی کی طرف دیکھتے رہے اور پھر بولے، ”کیوں کسی خاتون کونسلر سے کرنی ہے شادی“ اور پھر قہقہہ لگا کے ہنس دیے۔

میاں جی نے کہا، ”ارے نا جی! جان صاحب، یہ مختص سیٹوں میں وہ صحیح سیاست والا نشہ نہیں ہوتا، چس ہی نہیں آتی، مجھے تو کسی سیاست دان کے گھر ہی رشتہ کرنا ہے بھلے کوئی ناظم یا تحصیل ناظم ہی کیوں نہ ہو، آج سے بس یہی مشن ہے میرا۔“

جان صاحب چونک گئے اور کہا ”کیا ہو گیا میاں جی، اس الیکشن نے تیرے دماغ پر کوئی برا اثر تو نہیں چھوڑ دیا، ۔“

”نا جی! جان صاحب، اس الیکشن نے تو میرے ہوش ٹھکانے لگا دیے، دیکھو جی، نوکری سرکاری ہو یا پرائیوٹ، غلامی کا دوسرا نام ہے، چند ہزار روپے مہینے کے ملتے ہیں اور اس کے بدلے سینکڑوں قسم کی پابندیاں لگ جاتی ہیں، اب میں بس کسی سیاستدان کے گھر بیاہ کر کے نوکری چھوڑ دوں گا۔ اور یہ میاں جی کا آخری فیصلہ ہے۔“

جان، بڑی پراسرار نظروں سے میاں جی کو دیکھ رہا تھا اور اسے یقین ہو گیا تھا، کہ میاں جی کے دماغ کا کوئی سکریو ڈھیلا ہو گیا ہے، لیکن اس نے اسے روکنے کی بجائے سننا مناسب سمجھا، ۔

میاں جی نے مزید کہا کہ نوکری اس کے بس کا کام نہیں، اسے یقین ہے کہ وہ بادشاہت کے لئے پیدا ہوا ہے یہ غلامی وہ زیادہ دنوں تک برداشت نہیں کر پائے گا۔ اور سیاست میں گھسنے کا اس سے بڑا اور آسان طریقہ کوئی نہیں کہ کسی سیاستدان کے گھر شادی کی جائے۔

جب جان صاحب نے اسے استفساریہ نظروں سے دیکھا، تو اس نے جان کے بولنے سے پہلے ہی اس کا سوال سمجھ لیا اور اسے ہاتھ کے اشارے سے بولنے سے منع کر دیا اور ان سنے سوال کا جواب دے کر کہنے لگا، ”سب ایسا ہی کرتے ہیں، سب۔ دیکھئے میرے پاس اچھا خاندان ہے، الحمدللہ! لیکن سیاسی بیک گراؤنڈ اور پیسے کی کمی کے، خود اکیلے تو سیاست میں کامیاب ہونا میرے لیے کافی مشکل ہے، لیکن بس یہی ایک طریقہ ہے میرے پاس۔“

جب جان صاحب نے پھر کچھ کہنا چاہا تو میاں جی نے اس کا پہلا ہی جملہ ہوا میں کاٹ دیا اور کہا ”جان صاحب کیا آج نہیں دیکھے آپ نے ہیڈ لائنز، تحصیل چیئرمین یا مئیر کے لئے کھڑے سارے امیدوار کسی کے سالے ہیں، داماد ہیں، بہنوئی ہیں، بیٹے ہیں یا بھانجے اور بھتیجے ہیں۔ کسی کا بھتیجا ہارا ہے تو کسی کا داماد جیت گیا ہے، سیاست اب رشتوں اور رشتے داریوں کی جنگ ہے۔

اس نے مزید کہا کہ کیپٹن صفدر صاحب کو ہی دیکھ لیجیے جو آج کل ’مرد اول‘ بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں، بلکہ زرداری صاحب سے تو کوئی بڑی مثال ہے ہی نہیں، وہ بھٹو صاحب کے داماد کیا بن گئے کہ لوگوں نے اسے اس اعزاز میں صدر پاکستان بنا دیا۔ میاں جی کی ریسرچ آج اس کے دماغ سے نکل کر براستہ زبان تیر برسا رہی تھی، میاں جی نے مزید کہا اسفندیار ولی کون ہے؟ اعظم خان ہوتی اور امیر حیدر ہوتی کون ہیں اور اب ایمل ولی؟ مولانا فضل الرحمان اور مولانا عطاء الرحمٰن کون ہیں، اب تو ان کی نئی پیڑی نے بھی ایوان حکومت کے راستے دیکھ لئے ہیں، میاں جی کہنے لگے کہ اگر میں نام اور پارٹیاں گنوانا شروع کردوں تو خیبر سے بولان تک سیاست کی یہی روش ملنی ہے۔ آپ کوئی بھی پارٹی اٹھا لیں، رشتہ داریوں سے بھری پڑی ملے گی، کوئی کسی پارٹی کا کتنا ہی بڑا اور اچھا ورکر کیوں نہ ہو، ٹکٹ تقسیم ہونے کے وقت پارٹی کے کسی بڑے لیڈر کے رشتہ دار سبقت لے جاتے ہیں۔

جان صاحب کنوینس ہوچکے تھے، لیکن میاں جی نے مزید کہا، عمران خان جو موروثی سیاست کے سخت مخالفوں میں سے تھے بھی اپنی پارٹی اور حکومت کو رشتے داریوں کی ضد سے نہیں بچا سکے، پرویز خٹک صاحب، اسد قیصر اور ان جیسے بہتوں نے اپنے پورے پورے خاندان بذریعہ پاکستان تحریک انصاف سیاست میں بھرتی کرا دیے۔ اور عوام کو بڑا فخر محسوس ہوتا ہے جب وہ کسی بڑے سیاستدان کے داماد، بہو، بھانجے یا بھتیجے کے جلسوں میں ناچتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور پھر اسے ووٹ بھی ڈالتے ہیں۔

وہ مسکرایا اور ڈبیا سے آخری سگریٹ نکال کر سلگا دی، اور پہلے کش کے بعد کسی چھوٹے راکٹ جتنا دھواں ہوا میں چھوڑا اور مسکرا کر ٹی وی کی طرف اشارہ کیا اور بولا، ”بھلے میاں جی کا نام نہ آئے ایسے ہیڈ لائنز میں، بس لکھا ہوا چلے کہ فلانے صاحب کے داماد (میاں جی) تحصیل چیئرمین یا ناظم بن گئے، تو میری اگلی نسلوں تک کا بھلا ہو جائے گا۔“

اس بات پہ دونوں دوست کھل کر ہنسے۔ اور جان صاحب نے میاں جی کے ہاتھ سے آدھا لگا ہوا سگریٹ لے کر ایک گہرا کش لگایا۔ اور کہا ”میاں جی تو سیاست میں ناکام بھی ہو گیا تو تیرا تو کیرئیر کونسلنگ میں بھی چانس لگ جائے گا، ہم بچارے ملازمت پیشہ لوگوں کا کیا ہو گا۔“

یہ کہانی تو یہاں ختم ہو گئی، اب دیکھتے ہیں خیبر پختونخوا کے باقی کی اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی الیکشنز میں رشتے داریاں کیا رنگ دکھاتی ہیں۔

نوٹ! یہ تحریر خیبرپختونخوا بلدیاتی الیکشن جو ابھی دسمبر میں منعقد ہوئے تھے کے نتائج اور اس سے بننے والے ہیڈلائنز کو بنیاد بنا کر لکھی گئی ہے، اور اس کے دونوں کردار افسانوی ہیں۔

Facebook Comments HS