برٹرنڈ رسل کا سوال کمرہ جماعت میں (قسط اول)۔
قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی اور جامعہ بلتستان کے ساتھ دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تدریس کے دوران اکثر طلبہ و طالبات برٹرنڈ رسل کا حوالہ دے کر ایک سوال رٹ لگا کر تلاوت کر لیا کرلیتے تھے۔ آج پھر یہ سوال ہائر سیکنڈری سکول تھوار روندو کے ایک سٹوڈنٹ نے کلاس ڈسکشن کے دوران پوچھا۔ پہلے برٹرنڈ رسل کا سوال کو دیکھتے ہیں۔ سوال کو تفصیل سے ٹٹولتے ہیں۔ پھر سوال کا تجزیہ و تحلیل کر لیتے ہیں۔ اگر ہر چیز کو خدا نے پیدا کیا ہے تو بتایا جائے کہ خود خدا کو کس نے پیدا کیا؟
دقت نظری سے دیکھا جائے ؑ تو اس سوال کی جڑٰیں قدیم یونانی فلسفے سے جا ملتی ہیں۔ ہمارے ہاں اس سوال کو اکثر ایسے لوگوں سے سننا ہوتا ہے جنہوں نے مغربی مفکر جناب برٹرنڈ رسل کی تحریروں سے فلسفے کا آغاز کیا ہو یا تو فلسفہ پڑھا ہی نہی یا پھر مغربی ادب و فلسفے کی بے ربط مطالعات کی وجہ سے غلط فہمی کا شکار ہوئے ہوں۔ خاص طور پر جنہوں نے مارکسزم سے خاصی انسیت رکھی ہو۔ کیونکہ مارکسزم خود ہیگلیائی منطق اور فلسفہ پر انحصار کرتا ہے اس لیے بھی مارکسی مفکرین اس حوالے سے مغالطہ کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ ہیگل منطقی اعتبار سے خارجی علت ومعلول کے نظام سے انحراف کرتا ہے۔
وہ ارسطو کی طرح وجود ذہنی اور وجود خارجی کا قائل نہیں۔ مارکسزم اور ہیگل کا جدلیاتی منطق کا عظیم مفکر جناب باقر الصدرؒ نے اپنی تصانیف ”فلسفتنا“ اور ”اقتصادنا“ میں تفصیلاً فلسفیانہ محاکمہ پیش کیا ہے مگر ہمارے طلاب اور اساتذہ اس حوالے سے لاعلم ہیں۔ اسی لئے یہ مادی مفکرین علم کلام کی اصطلاحات ”خالق“ اور ”خدا“ کو فلسفہ کی اصطلاح ”واجب الوجود“ سے خلط ملط کر جاتے ہیں جس کی وجہ سے سوال کا جواب ملنے کی بجائے کنفیوژن پیدا ہوجاتا ہے ۔
یاد رہے کہ ہر علم کی اپنی خاص اصطلاحات ہوتی ہیں۔ ممکن ہے ایک اصطلاح مختلف علوم میں برابری کے ساتھ ایک ہی لفظ کے ساتھ استعمال ہو مگر اپنے مخصوص معنیٰ و مفہوم میں۔ اگر مشترک معنوی اور اشتراک لفظی کے مابین فرق کا خیال نہ رکھا جائے تو مغالطہ ایجاد ہوتا ہے۔ فلسفے کا استاد جناب سید جواد نقوی کے بقول ’فلسفہ میں خدا اور خالق کی اصطلاح کا استعمال کرنا درست نہی کیونکہ یہ اصطلاحات علم کلام یا پھر مذہب کے اندر رائج اصطلاحات ہیں نہ کہ فلسفہ میں۔
فلسفہ کے اندر ان اصطلاحات کی جگہ ”مبداء آغازی‘ یا پھر“ واجب الوجود ”کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں“ ۔ ہم جانتے ہیں کہ فلسفیوں کا استاد علامہ طباطبائیؒ نے اپنی فلسفیانہ تصانیف ”بدایتہ الحکمہ“ اور نہایتہ الحکمہ میں اس طرح رقمطراز ہوئے ہیں کہ فلسفہ میں وجود کا مفہوم ”بدیہی“ ہے۔ فلسفہ ”وجود مطلق“ سے بحث کرتا ہے۔ اور اسی طرح عظیم استاد علامہ مرتظیٰ مطہریؒ نے کتاب ”عدل الہی“ میں نظام طولی اور نظام عرضی کی بحث کے دوران وجود کو تشکیک طولی اور تشکیک عرضی کے مختلف مرتبوں میں بیان کیا ہے۔
صدرالدین شیرازی کا فلسفیانہ نظام اس حوالے سے ایک جامع اور ترقی یافتہ نظام ہے مگر پھر بھی قارئین کے اعتبار سے اس بحث کو آسانی کی خاطر تین عرفی اصطلاحات میں تقسیم کرتے ہیں : واجب الوجود، ممکن الوجود اور ممتحن الوجود۔ اب رسل کا مغالطہ کی نشاندہی کر لیتے ہیں۔ فلسفہ کا ایک اوسط درجے کا طالب علم بھی جانتا ہے کہ اس سوال کے اندر کیا خامی ہے۔ یہاں ایک مثال دینا انتہای مناسب ہے۔ اب اگر کوئی کیمسٹری کا طالب علم یہ سوال کرے کہ تمام مرکبات جلتے ہیں، پس پانی ایک مرکب ہے جو نہی جلتا ( بلکہ جلتی ہوئی چیزوں کو بجھا دیتا ہے ) اس لئے میں نہیں مانتا کہ مرکبات جلتے ہیں۔
اگر مرکبات جلتے ہیں تو پھر پانی کو بھی جلنا چاہیے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ یہ سوال ایک ایسا ہی انسان کرے گا جو مرکبات کی درجہ بندی اور ان کی طبعی خواص کے بارے میں جاہل ہو، یا پھر انتہای احمق ہو۔ کمیسٹری میں بنیادی مرکبات کی اقسام دو طرح کی ہیں : نامیاتی مرکبات اور غیر نامیاتی مرکبات۔ آپ جانتے ہیں کہ نامیاتی مرکبات جلتے ہیں یا پھر آگ کو آسانی سے پکڑ لیتے ہیں۔ جبکہ غیر نامیاتی مرکبات جلتی ہوئی چیزوں کو بجھا دیتے ہیں۔
جیسے تیل ایک نامیاتی مرکب ہے اور اسی طرح پانی ایک غیر نامیاتی مرکب ہے۔ کس نے کہا کہ تمام مرکبات جلتے ہیں؟ اگر سوال کرنے والے کو اس بات کا علم ہو جائے کہ صرف نامیاتی مرکبات جلتے ہیں، تو وہ کبھی بھی پانی والی بات کو نامیاتی مرکبات سے خلط ملط نہیں کرے گا۔ یہ ایک ذہنی مغالطہ ہے جو جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ رسل کا سوال میں بھی یہی مغالطہ ہے اور یہ اسی کیٹیگری سے تعلق رکھتا ہے۔ یا تو رسل فلسفہ کی اصطلاحات کو درست استعمال کرنے سے جہالت کی وجہ سے قاصر رہا یا پھر وہ ایک احمقانہ سوال کر گیا۔
تیسری صورت شاید جان بوجھ کر مغالطہ ایجاد کرنا مقصود تھا۔ اگر رسل فلسفہ کی درست اصطلاحات کا استعمال کرتا تو یہ مغالطہ کبھی پیدا نہ ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسل کا فلسفہ میں عظیم فلسفی ملا صدرا کی وجود کے مراتب کے حوالے سے کی گئی ”اصالت وجود“ ، ”حرکت جوہری“ اور ”تشکیک وجود“ یعنی وحدت و کثرت والی تفسیر کی آگاہی سے محروم ہونا ہے۔ اسی لیے انہوں نے کلامی اور مذہبی اصطلاحات کا سہارا لیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ رسل کا سوال مغرب سر زمین کے معاشرتی مسائل اور تضادات سے تھا۔
اسی وجہ سے ہمارے ہاں ناپختہ ذہن کے طلاب کے لئے سوال کا جواب ملنے کی بجائے الٹا کنفیوژن پیدا ہوجاتا ہے۔ اب ذرا رسل کے سوال کو فلسفیانہ بناتے ہیں۔ تمام موجودات کو واجب الوجود (خدا) نے پیدا کیا ہے تو خود واجب الوجود (خدا) کو کس نے پیدا کیا؟ یہاں مسئلہ غور طلب ہے اور دقت نظری کی اشد ضرورت ہے۔ یعنی کس نے کہا کہ تمام موجودات کو واجب الوجود نے پیدا کیا؟ فلسفے میں کوئی بھی فلسفی اس طرح کی دلیل نہیں دیتا، بلکہ فلاسفہ کا صرف یہ کہنا ہے کہ تمام ممکن الوجودات کو واجب الوجود نے پیدا کیا ہے نہ کہ تمام موجودات کو ۔
کیونکہ تمام موجودات میں تو خود واجب الوجود بھی شامل ہے۔ پس یہ کہنا کہ تمام وجودات کو واجب الوجود نے پیدا کیا کہنا صحیح نہیں۔ اس سے ”دور“ لازم آتا ہے اور دور باطل ہے۔ دوسرے الفاظ میں یعنی واجب الوجود نے ہی خود کو پیدا کیا کہنا درست نہیں۔ فلسفہ کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات جانتے ہیں کہ اس تصور سے یا تو ”تسلسل“ یا پھر ”دور“ لازم آتا ہے جو کہ فلسفہ اور منطق میں باطل ہے۔ جاری ہے۔


بس اپنے طور ہی لفاظی کی ہوئی ہے۔اگر ماڈرن فلسفہ مغالطہ پیش کرتا ہے تو کیا ثبوت ہے کہ جسے آپ ٹھیک سمجھ رہے ہیں وہ واقعی صحیح ہے۔ آپ فلسفے کو مذہبی تناظر سے پرکھ رہے ہیں جو کہ بذاتِ خود ایک بہت بڑا مغالطہ ہے۔