چائے کی پیالی میں چھپے طوفان اور بیچاری پبلک
ابھی جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ کی گرد بیٹھی نہیں تھی کہ کل ایک انگریزی اخبار نے دعوی کر دیا کہ سابق جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم نے سابق جیف جسٹس ثاقب نثار خان کے خلاف بیان حلفی پر نواز شریف کی موجودگی میں دستخط کیے ، خبر شائع ہوتے ہی تمام وزراء نے ٹویٹر پر محاذ سنبھال لیا اور اپنی توپوں کا رخ اس خبر کی طرف کرتے ہوئے نہ صرف ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی بلکہ اپوزیشن کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ان وزراء میں فواد چوہدری، وفاقی وزیر شفقت محمود نے بھی یہ خبر شیئر کی اور کہا کہ سچ ہمیشہ سامنے آئے گا۔
وزیر مملکت فرخ حبیب، ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور اور معاون خصوصی شہباز گل پیش پیش تھے۔ اور یہ صرف آج کل کی بات نہیں ہے، سیاستدانوں کو مہروں اور پتلیوں کی طرح نچانے والے ہمیشہ ایسے ایسے چھوٹے مسائل کی تلاش میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے عوام، قارئین، سامعین اور ناظرین قومی مسائل کو بھول کر باہم دست و گریباں ہو کر ، لٹیروں کی لڑائی سے نہ صرف محظوظ ہوں بلکہ اس میں اپنا حصہ بھی ڈالیں۔ موجودہ سیاسی اندھوں کی ایک چھوٹی سی مثال دیتا چلوں کہ آج فیس بک پر کسی خاتون نے اپنے ناراض پوتے کی تصویر شئیر کی جس نے غصے کی وجہ سے منہ بنا یا ہوا تھا کہ میرے پوتے کے کام دیکھیں میرے ساتھ روٹھا ہوا ہے۔
کمنٹس بھی پڑھنے کے لائق تھے، سب نے حسب توفیق اس پوسٹ کو سراہا لیکن ایک نظریاتی سیاسی کارکن نے نواز شریف کی بچے جیسے تصویر کے ساتھ کمنٹس کرتے ہوئے لکھا کہ اس ناراض منے کی طرح ہے آپ کا پوتا بھی، مجھے ہنسی کے ساتھ ساتھ ان کارکنان کی سیاسی سمجھ بوجھ اور ڈھٹائی پر بھی رونا آیا جن کی سوچ کے مطابق پاکستان کے تمام مسائل کی بنیادی وجہ اس وقت بھی لندن میں بیٹھا ہوا نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری ہے۔ مہنگائی اور بد امنی کے ساتھ ساتھ کرپشن کا ایک بہت بڑا طوفان قوم کو لپیٹے ہوئے لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نیرو، روم کو جلتا دیکھ کر چین کی بانسری بجانے میں مگن دکھائی دیتا ہے۔ تعصب، سیاسی اندھا پن اور فریب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو یہ ایک پرانی حکمت عملی ہے کہ کسی ایک شخص یا طبقے کو نشانہ بنا کر دیگر افراد و طبقات اور مسائل سے توجہ ہٹائی جاتی ہے۔ پچھلی حکومتیں بھی یہی کرتی تھیں اور اب بھی اس بدعت پر عمل ہو رہا ہے۔
موجودہ حکومت کے بر سر اقتدار آتے ہی، میں حتی المقدور کوشش کرتا ہوں کہ سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی خبروں سے ایسے دور رہوں جیسے والدین اپنے بچوں کو مضر صحت اشیاء اور دو اؤں سے دور رکھتے ہیں۔ خدا کی قدرت دیکھیں کہ نام نہاد تاجر اور بد دیانت عوام کی مافیا عمران خان کے اقتدار میں آتے ہی اس کی یوں دشمن بن گئی ہیں کہ دن بدن اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ نوٹس پہ نوٹس لینے کے ساتھ عوام کو مرغیوں اور بھینس کے بچھڑے پالنے جیسے نادر و نایاب نسخوں سے شروع ہونے والی تقاریر کی بھر پور تشہیر اس وقت بھوکی، ننگی اور غربت میں پستی عوام کو کوئی دلاسا نہ دے سکی، جب گھی، چینی، پٹرول اور اشیائے صرف کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ غریب کو زمین پر پٹخنے میں کامیاب ہو گئیں۔
بادشاہ سلامت کے نو رتن اور مشیران و وزیران کی پوری جماعت ابھی تک سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر اپنی کمزوریوں اور نا اہلی کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ انٹرنیٹ کی ایجاد اور دنیا کے گلوبل ویلج بننے کا سب سے بڑا نقصان ہماری قوم کو ہوا ہے کیونکہ ہم ایک ایسی سادہ لوح قوم ہیں جس کو ہمیشہ کسی نہ کسی مداری نے اپنی ایجاد کردہ ڈگڈگی پر نچا کر ہماری قیمت وصول کی ہے۔ سابقہ دس سال کے الیکٹرانک میڈیا کے کرنٹ افئیرز کے شو دوبارہ دیکھ لیں یا موجودہ سیاسی تجزیہ کاران کے بیانات پر ایک نظر ڈال لیں، آپ کو محسوس ہو گا کہ جیسے ہی کوئی برسر اقتدار جماعت، اسٹیبلشمنٹ یا اشرافیہ کو کسی مرحلے پر کوئی دشواری پیش آئی تو عوام کی توجہ اس مسئلہ سے ہٹانے کے لئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی اور ہماری بھولی بھالی پبلک اپنے کان کو دیکھنے کی بجائے کتے کے پیچھے بھاگ پڑی۔
مثال کے طور پر حال ہی میں حکومت مہنگائی، بد امنی، اقرباء پروری اور کرپشن جیسے مسائل سے نمٹنے کی بجائے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور بیرون ملک مقیم افراد کو ووٹ کا حق دینے کے درپے ہے۔ آج کا اخبار ہی اٹھا کر دیکھ لیں، آپ کو اپوزیشن کو رگڑا لگانے والے بیانات اور شیخی خوروں کے طویل مکالمہ جات کے علاوہ عوام کو وعدہ فردا کے لارے لگانے والے ٹاک شوز میں بیٹھے چین کی بانسری بجاتے نظر آئیں گے۔ موجودہ حکومت کی کارکردگی کے سارے کس بل تو خیبر پختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات نے نکال دیے ہیں لیکن ابھی بھی ہمارے وزیر اعظم کے خوشامدی مصاحب ان کو سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہوئے شرمسار نہیں ہوتے۔
اندر کی خبر یہ ہے کہ موجودہ حکومتی جماعت کے تمام اجلاس صرف اس بات پر ختم ہوتے ہیں کہ اپنے لاؤ لشکر اور تمام ہتھیاروں کا رخ نواز شریف اور اس کے خاندان کے قیمتی کپڑوں سے لے کر ہر سچ جھوٹ کی طرف رکھیں۔ ترقیاتی کاموں اور عوامی ریلیف کے کاموں کی بجائے اپنے تمام سیاسی اور غیر سیاسی ٹویٹس کا رخ بھی صرف عوام کو یہ باور کروانے میں ہوتا ہے کہ صرف عمران خان ہی واحد صادق اور امین ہے جس نے سابقہ ساٹھ سالوں کا گند صاف کرنا ہے۔
عوام کے لئے اشیائے خوردنی، ایندھن، سبزیات اور دالوں کے مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی بے تحاشا بڑھتی ہوئی قیمتوں ایک آفت ہی ثابت ہوئی ہیں لیکن ادویات کی چار سو فیصد تک بڑھتی ہوئی قیمتوں نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا ہے ٹیکسوں کے حجم میں اضافہ ’یوٹیلٹی بلوں کے ذریعے بڑھتا ہوا بوجھ‘ پٹرولیم، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ یہ سب تو مسائل کی سنگینی کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کا یہ کامیاب حربہ ازل سے آ رہا ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک ہماری قوم کی تعلیم و تربیت اسلامی اور جدید اصولوں کے مطابق نہیں ہوتی۔
دیکھا جائے تو ہر سیاسی مداری اپنا منجن بیچنے کی آڑ میں مداری کے تربیت یافتہ بکرے کا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے جس کا مقصد وہی پرانا اور گھسا پٹا کرتب دکھا کر عوام کی جیبیں خالی کرنا ہے، اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے موجودہ دور کے مداری سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کو اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے ہمارے قوم کی بھولی بھالی اور عقل سے عاری قوم کو بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
کوئی بھی افواہ پھیلانے کے بعد ایک آدھ ہفتے تک اس پر مختلف ٹاک شوز میں بیٹھ کر دونوں جانب سے دھواں دار بمباری کی جاتی ہے لیکن جدید فرانزک ہتھیاروں سے لیس اس ڈرامے کے کرتا دھرتا اسی دوران عوام پر کوئی نہ کوئی خفیہ بم پھینک کر اس افواہ کو جعلی ثابت کر دیتے ہیں اور عوامی گردن اتنی صفائی سے قلم کی جاتی ہے کہ پوری قوم گنگ اور پریشان نیا تماشا دیکھنے کی منتظر ہوتی ہے۔ اسی دوران بادشاہ سلامت کی شان میں رطب السان شاہی بہروپیے اور مداری بھی اپنے اپنے حصہ کی بین بجا کر عوام کو راضی کرنے میں مشغول رہتے ہیں تاکہ ظل الہی تک یہ پیغام پہنچایا جا سکے کہ عوام خوش و خرم ہے اور آپ کے لئے ہر وقت دعا گو ہے، ایک مثال ہی لے لیں کہ دو دن پہلے ہی ایک وفاقی وزیر کی سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں محترمہ نے دھڑلے سے یہ دعویٰ کیا ہوا تھا کہ اسلامو فوبیا کے خلاف وائٹ ہاؤس نے جو بل منظور کیا ہے، اس کا سارا کریڈٹ مرد مومن عمران خان کو جاتا ہے جس نے اپنی تقریروں سے دنیا میں ایسی کھلبلی مچائی کہ ہمیں کسی تلوار و تفنگ کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔
یاد رہے کہ تحفظ رسالت کے لئے دنیا کے کونے کونے میں رہائش پذیر ہر مسلمان نے حتی المقدور کوشش کی اور دنیا کے کونے کونے میں پر امن مظاہروں اور جلسوں سے بیرونی طاقتوں کو یہ باور کروایا کہ ہم نے ناموس رسالت و مذہب کی ہر حال میں حفاظت کرنی ہے لیکن شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کی کارکردگی کی رپورٹ تو ٹویٹر، فیس بک اور واٹس ایپ سٹیٹس کی شکل میں شام کو عالی جاہ کے حضور پیش ہوتی ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی رتن پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور ظل الہی کی تعریف میں یوں رطب السان ہے کہ زمین آسمان کے قلابے ملانے میں بھی کوئی دیر نہیں کرتا۔


