پہلے میں کا چلن
تاریخ و ادب میں لکھنؤ کی تہذیب کے حوالے سے شائستگی، مروت، نرم خوئی اور ادب آداب کے اظہار کے لئے ”پہلے آپ“ کی اصطلاح اور اس کا تذکرہ تو شاید سبھی نے سن رکھا ہے، ہمارے ہاں اس کے برعکس غیر علانیہ اور غیر محسوس طریقے سے ایک رویہ عام دیکھنے کو ملتا ہے جسے ”پہلے میں“ کا عنوان دینا شاید غلط نہ ہو۔
یہ بلا جانے کب، کیسے ( اور کہاں سے ) ہمارے معاشرے میں در آئی، اس کا تجزیہ تو ہم ان پر چھوڑتے ہیں جن کا یہ کام سمجھا جاتا ہے۔ جی ہاں، نفسیات، اخلاقیات اور سماجیات کے ماہرین اپنے علمی پس منظر اور لیاقت سے، اس کیوں کو ڈھونڈنے میں ہم سب کی مدد کر سکتے ہیں، البتہ یہ نشاندہی شاید ہم ضرور کر سکتے ہیں کہ یہ ادا ہماری روزمرہ کی زندگی میں، شب و روز، کیا گل کھلاتی ہے اور کہاں کہاں، کیا کیا قیامت ڈھاتی ہے۔
” پہلے میں“ کا شاندار اور ریکارڈ توڑ نمائش کا مظاہرہ، ہر اس مقام پر باآسانی دیکھا جاسکتا ہے جہاں قطار میں لگ کر کام کی انجام دہی کے لئے پابند کیا گیا ہو۔ اس ناگوار پابندی کی صورت میں، جتنی طویل قطار ہوگی، اتنی ہی کمال کی قطار شکنی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔
قطار شکنوں، کی کئی قسمیں ہیں۔ یہ اب آپ کی قسمت ہے کہ آپ کے مقدر میں کون سا شاہکار آپ کے مقابل ہو۔
ان کا خاصہ یہ ہے کہ یہ ہر ایسے موقع پر تاخیر سے پہنچنے کا طویل ( خاندانی ) تجربہ رکھتے ہیں اور ان کی بے صبری اور بے تابی ایسی کہ سب کو روندتے ہوئے، قطار توڑ کر کسی طرح، سب سے پہلے، ونڈو تک پہنچ جائیں۔ اس تمنا میں یہ، قطار کے مختلف مقامات سے نقب لگاتے ہوئے، اپنی جگہ بنانے کی بار بار قسمت آزمائی کرتے ہیں۔ مایوسی ان کے قریب سے نہیں گزری اس لئے ہر ناکامی اور قطار میں پہلے سے موجود شخص کی مزاحمت کے باوجود ان کی مہم جوئی پر حرف نہیں آتا۔
یہ معصوم اور بھولی صورت ہوتے ہیں اور موقع کی مناسبت سے چہرے پر، مزید مسکینی سجا لیتے ہیں تاکہ، قطار میں موجود کسی دردمند شخص سے التجائیہ، اس آرزو کی تکمیل میں فتح یاب ہو سکیں۔ ان کی صورت گویا یوں ہوتی ہے کہ اگر انھیں قطار میں انسانی بنیاد پر سمویا نہ گیا تو ان کے ساتھ اس طرز عمل سے کوئی بھی سانحہ، ان پر گزر سکتا ہے لہٰذا انھیں پناہ دینے میں ہی عافیت ہے۔
یہ، جائے قطار پر یوں ظاہر ہوتے ہیں جیسے یہ اپنی جگہ کی، پچھلے جنم میں ایڈوانس بکنگ کرا گئے تھے اور اب قطار میں پہلے سے موجود افراد کے آگے اپنا حق جتا کر، اسی کے لئے تقاضا کر رہے ہوں۔ یہ اپنے رویے سے کچھ یوں ظاہر کرتے ہیں جیسے پہلے سے موجود، مقررہ وقت پر قطار میں شامل، شاید یہ سماجی ذمہ داری نبھا کر کسی جرم کے سزاوار ہوئے ہیں۔ وہ بھی، ان ہی کی طرح دیر سے آتے اور ہمت، حوصلے اور ہوش ربا جرات سے اپنی جگہ بناتے (یا بنوا لیتے ) ۔ یہ التجا کے بھی قائل نہیں ہوتے بلکہ دھونس، دھمکی اور دیدہ دلیری سے کام اور جگہ نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ یہ تب تک اپنی جستجو سے باز نہیں آتے جب تک قطار میں ان کا کوئی ہم مزاج ان سے بالمشافہ نہ ہو جائے۔
” پہلے میں“ کے عملی مظاہرے ( اور کرتب ) سڑک پر بھی روزانہ کی بنیاد پر نہایت وافر مقدار میں دستیاب ملتے ہیں۔
وہ لوگ جو کسی تقریب میں کبھی وقت پر نہ پہنچنے کا طویل ریکارڈ قائم کر چکے ہوتے ہیں، ان کی ڈرائیونگ اور اس دوران ان کے تیور دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے، جیسے، اگر ”پہلے میں“ کے جذبے کو ترک کر کے، کسی کو اوورٹیک کی مہلت دے دی تو سب کے سامنے سبکی ہی نہ ہو جائے۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا، جب انھیں خود اوور ٹیک کی حاجت ہو تو بھی یہ ”پہلے میں“ کا اشتہار بن جاتے ہیں اور اس پوزیشن میں بھی ان کی خود پرستانہ اور بے تابانہ کیفیت دیدنی ہوتی ہے۔
اگر کسی مصروف چوراہے کے ٹریفک سگنل پر، سگنل کام چھوڑ دے تو ”پہلے میں“ کے وہ قیامت خیز مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ یہ قیاس کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اگر اس معاشرے سے اچانک ٹریفک سگنل ختم ہو جائیں تو ”پہلے میں“ کی یہ تکرار ہمیں کس اندوہناک انجام سے دوچار کرے گی۔
” پہلے میں“ کے اصول پر آؤٹ ڈور ہی نہیں، ان ڈور بھی، اسی خشوع و خضوع سے عمل کیا جاتا ہے اور اخلاقیات کی تمام حدیں نہایت اعتماد اور بہادری سے پار کی جاتی ہیں۔
اس کے سب سے سبق آموز مناظر، تقریبات میں کھانے کے موقع پر کثرت سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ نہیں معلوم وہ کون سی تڑپ ہے جو مدعوین کو اس لمحے دینا و مافیا سے بے خبر کر دیتی ہے اور وہ اس مغالطے کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اس کے بعد شاید زندگی بھر، یہ مرحلہ دوبارہ نہ آئے، اس لئے یہ نادر موقع ضائع نہ ہو۔ یہ الگ دکھ بھری داستان ہے کہ اس دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے میں سرگرداں، یہ سرفروش اپنی مقبوضہ خورد و نوش کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔
ہاں، یہ تصور کرنا قطعی مشکل نہیں کہ جب، سب حاضرین ”پہلے میں“ کے جذبے سے سرشار ہوں تو محفل کس رنگ پر ہوگی۔
یہی رنگ سیاسی جماعتوں کی طرف سے کارکنوں کی دعوت میں نبرد آزمائی کے دوران نمایاں نظر آتا ہے۔ یہاں اس مجرم کی تلاش بھی ضروری ہے جس نے کھانے کے لئے کھلنے کی اصطلاح ایجاد کی۔ منطقی امر ہے کہ جب کھانے کے لئے کھلنے کا اشارہ ملے تو انسان کا انسان رہنا کیوں کر ممکن ہے۔
معصومانہ سا خیال آتا ہے کہ شاید کھانا لگانے کی ترکیب، صورت حال میں کسی تبدیلی کی وجہ بن سکے، مگر شاید اس سے زیادہ اہم سوال پھر ”پہلے میں“ کا ہے، جس کے سبب، محمود و ایاز سبھی اس حمام میں ہم نوالہ و ہم پیالہ دکھائی دیتے ہیں۔


