خودکشی، ذہنی امراض اور دفعہ 335 میں ترمیم؛ چند گزارشات
دسمبر کے آخری ہفتہ میں سینٹ میں مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 میں ترامیم کے بل پیش کیے گئے اور کچھ تو منظور کر لیے گئے اور ایک ترمیم، جو خودکشی کو ذہنی بیماری قرار دینے سے متعلق تھی، اس کو اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے لیے بھیج دیا گیا۔ پریس میں اس پر کوئی زیادہ بحث نظر نہیں آئی اور سینٹ میں ہونے والی بحث بھی ہماری سوسائٹی میں مروجہ رویوں کی ہی عکاسی کر رہی تھی جو بذات خود کوئی انہونی بات نہیں۔
جہاں چند سینٹرز نے خود کشی جیسے اقدام کے پس منظر میں ذہنی بیماری اور دوسرے ممالک میں ہونے والی قانون سازی پر توجہ دلائی وہیں مذہب میں اس پر سخت قدغن کو اجاگر کیا گیا اور اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ کہیں اس ترمیم کے ذریعے ختم ہونے والی سزا کے نتیجے میں خودکشی جیسے اقدام کو شہ تو نہ ملے گی۔ آج کا یہ بلاگ قانون سازی کے عمل بارے تو نہیں کہ جس کا کام اس کو ساجے، ہاں خودکشی اور اس کی وجوہات بارے ہمارے ہاں پائے جانے والے رویوں اور اس انسانی اذیت اور اس کے علاج بارے جدید طبی علم کی روشنی میں چند گزارشات ہیں، کہ شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔
عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) کے اندازوں کے مطابق ہر سال دنیا میں تقریباً سات لاکھ افراد خودکشی کر لیتے ہیں یوں عالمی سطح پر خود کشی کی شرح ہر ایک لاکھ کی آبادی میں 11.4 بنتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک بہت حساس موضوع ہے اور مختلف ممالک کے کلچر، قوانین اور مذہبی عقائد کی بنا پر یہ بات بھی یقینی ہے کہ بہت سی اموات رپورٹ ہی نہیں ہوتیں اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر حادثہ یا کوئی اور وجہ تحریر کر دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں بہت سے ممالک میں میں تو نظام کی کمزوری کی بنا پر وجہ موت رجسٹر ہی نہیں ہوتی۔
امیر، ترقی یافتہ ممالک میں مردوں میں عورتوں کی نسبت خودکشی کی شرح تین گنا زیادہ ہے جبکہ غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک میں یہ نسبت کی یہ شرح کم ہو کر 1.5 گنا رہ جاتی ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق پرتشدد وجہ اموات میں خودکشی کرنے والوں کا حصہ مردوں میں پچاس فیصد اور خواتین میں اکہتر فیصد ہے، جی ہاں آپ نے صحیح پڑھا، خواتین میں با تناسب پرتشدد موت کی شرح زیادہ ہے۔ اسی طرح خود کشی کی شرح عمر کے مختلف حصوں میں بھی مختلف ہو سکتی ہے۔
مثلاً دنیا کے تمام حصوں میں عموماً اس کی شرح ستر سال سے زیادہ عمر کے مردوں اور عورتوں میں سب سے زیادہ ہے، اس طرح یہ شرح مختلف ممالک میں عمر کے مختلف حصوں میں مختلف ہو سکتی ہے۔ ایک اور بات جو یاد رکھنے کے لائق ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق خودکشی سے ہونے والی ہر ایک موت کے پس منظر میں دس سے بیس کے درمیان خودکشی کی ایسی کوششیں ہیں جو انجام تک نہیں پہنچتیں۔ دنیا میں خود کشی سے ہلاک ہونے والے افراد میں سے تقریباً 77 فیصد کا تعلق غریب ممالک سے ہوتا ہے۔
خود کشی کے لیے کیڑے مار یا زرعی ادویات، اپنے آپ کو پھندا لگانا اور آتشیں اسلحہ کا استعمال عالمی سطح پر تقریباً ہر جگہ عام ہے، اگرچہ مختلف علاقوں میں مقامی سطح پر آسانی سے دستیاب وسائل اس سلسلے میں اہم ہوتے ہیں اور اس کے بارے میں مکمل معلومات، خودکشی کی روک تھام میں پالیسی سازوں کے لیے اہم ہوتی ہیں۔ اس پس منظر میں اگر وطن عزیز میں خودکشی جیسے عنصر کا مطالعہ کریں تو چند حقائق نظر آئیں گے۔
عالمی ادارہ صحت کے اندازے کی مطابق سنہ 2019 میں پاکستان میں تقریباً 19 ہزار افراد نے خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اس طرح اس کی شرح ہر ایک لاکھ کی آبادی میں 8.11 بنتی ہے لیکن ہمیں اس حقیقت کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا کہ ہمارے ہاں سرکاری سطح پر اس سلسلے میں کوئی اعداد و شمار نہیں جمع کیے جاتے۔ جو چند تحقیقی رپورٹس اب تک شائع ہوئی ہیں ان کے مطابق پچھلے 50۔ 60 سال میں اس کی شرح میں اضافے کا رجحان ہے جو کہ عالمی سطح پر تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
ہمارے ہاں خودکشی کی شرح تیس سال سے کم عمر بالخصوص خواتین اور ان میں بھی شادی شدہ خواتین میں نسبتاً زیادہ ہے۔ شادی شدہ خواتین میں یہ اضافی شرح، مغربی ممالک میں شادی شدہ خواتین کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ ہے جہاں شادی کو اس سلسلے میں ایک حفاظتی عمل تصور کیا جاتا ہے۔ اس طرح لگتا ہے کہ پاکستانی خواتین میں ازدواجی مسائل اور خاندانی نظام ایک واضح دباؤ کی حیثیت رکھتا ہے۔
اگر آپ ڈاکٹروں یا دوسرے ماہرین سے اس سلسلے میں بات کریں تو وہ خودکشی کرنے یا ایسی کوشش کو جرم گرداننے والے موجودہ قانون کو اس عمل اور ذہنی صحت بارے واضح تصویر کی راہ میں بطور رکاوٹ ہونے کے نشاندہی کریں گے۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان (PPC 325 ) کے مطابق خودکشی کی کوشش کرنے والا قید یا جرمانے یا دونوں کا سزا وار ہو گا اور قید کا عرصہ ایک سال تک ہو سکتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ قانون برصغیر میں برطانوی راج میں 1861 میں نافذ کیا گیا تھا اور جبکہ خود برطانیہ میں سنہ 1961 میں یہ قانون تبدیل ہو چکا ہے اور سوسائٹی میں بھی اس بارے تنقیدی رویوں میں تبدیلی آ چکی ہے اور اس بارے میں مسلسل تحقیق سے ایسی پالیسیز بن رہی ہیں جو زیادہ انسان دوست ہیں اور لوگوں کے لیے مدد حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے۔
لیکن ہم ہیں کہ دوسرے قوانین کی طرح اس کو بھی اپنے ماضی کی یاد کے طور پر اپنے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ دنیا کے اکثریتی ممالک میں اس سلسلے میں قوانین بدل چکے ہیں لیکن بیس ممالک ایسے ہیں جن میں یہ قدم ابھی بھی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ سنہ 2017 میں اس وقت کی سینٹ میں بھی اس قانون میں ترمیم کا بل پاس کر لیا گیا تھا۔ اس وقت اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس بل کو منظور کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ خودکشی اور اس کی وجوہات ایک طبعی مسئلہ ہے اور یہ کہ ایسے افراد، جو خود کشی جیسا قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، ذہنی دباؤ یا ذہنی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔
سنہ 2017 میں اسلامی نظریاتی کونسل کی کی سپورٹ کے بعد سینٹ نے یہ بل منظور کر لیا لیکن قومی اسمبلی سے پاس نہ ہونے کی بنا پر پچھلی حکومت کی مدت پوری ہونے پر غیر موثر ہو گیا۔ یہ بات یاد رہے کہ پاکستان نے بطور ایک ذمہ دار ریاست کے، عالمی ادارہ صحت کے (Mental health Actin Plan 2013۔ 2030 ) پر دستخط بھی کیے ہوئے ہیں جس کے مطابق اس عرصے میں خودکشی کی روک تھام اور اس کی شرح میں دس فیصد کمی لانا تھا۔
وطن عزیز میں 97 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے جبکہ باقی 3 فیصد بھی مذہبی اقلیتیں ہیں۔ ہماری مذہبی، سماجی اقدار اور ان میں موجود خودکشی بارے حساسیت کی وجہ سے اس موضوع پر بہت زیادہ تحقیق بھی نہیں ہوئی۔
خودکشی ایک پیچیدہ رجحان یا عمل ہے جس میں بہت سے عوامل کام کر رہے ہوتے ہیں، مثلاً ذہنی بیماری کی موجودگی، تکلیف دہ واقعات زندگی، انفرادی شخصی خصوصیات، سماجی دباؤ، خاندان میں پہلے سے کسی فرد کی خودکشی کا واقع وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
ذہنی امراض بالخصوص ڈپریشن (Depression) کی شرح پاکستان میں کافی زیادہ پائی گئی ہے لیکن اس اور دوسرے ذہنی امراض کی تشخیص اور علاج بہت ہی کم ہے۔ اسی طرح مسلسل سیاسی بے یقینی، کمزور ہوتی معاشی صورت حال اور عمومی طور پر حکومتی اداروں پر بے اعتمادی کی فضا ایک خوف اور بے چینی کی کیفیت کو جنم دیتی ہے جو کہ ذہنی صحت کے لیے اچھا نہیں۔ یہ مسائل سوسائٹی میں ذہنی صحت کے لیے روایتی طور پر موجود مضبوط حفاظتی عوامل مثلاً مذہب اور خاندانی نظام کے اثرات وغیرہ کو کمزور کر دیتے ہیں اور ڈپریشن اور دوسرے ذہنی دباؤ کی شرح میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں جو خودکشی کے رجحانات کو ہوا دیتے ہیں۔ اس لیے حالیہ سالوں تحقیق سے میں جہاں غربت اور بگڑتے معاشی عوامل کا خودکشی کے رجحانات پر منفی اثرات کا ادراک ہوا ہے وہیں ذہنی امراض بالخصوص ڈپریشن اور ذہین امراض بارے سماجی رویوں کے خودکشی جسے عمل پر اثرات ایک اہم امر ہے۔
خودکشی ایک انسانی المیہ ہے اور اس کوشش کی کامیابی کی صورت میں میں متاثرہ فرد تو بظاہر دکھوں سے نجات پاتا نظر آتا ہے لیکن اس کے متعلقہ گھر کے افراد، اس کی فیملی اور دوستوں عزیزوں اور جاننے والوں کی ایک طویل فہرست ہے، ایک نہ ختم ہونے والے عذاب کا سامنا کر گے ہیں۔ جہاں انہیں ایک طرف اپنے عزیز کے جانے کے غم کا سامنا ہوتا ہے تو دوسری طرف سماجی سطح پر خودکشی بارے عمومی رویوں کا اور لوگوں کی چبھتی نظروں اور تیکھے سوالوں کا جواب ڈھونڈنا پڑتا ہے اور اپنے خاندان کی نیک نامی اور بچوں کے مستقبل کی فکر رات کی نیند اڑا دیتی ہے۔
ایسی صورت حال میں اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی قانونی چارہ جوئی کے لیے پہنچ جائیں تو ہمارے معاشرے میں اس خاندان کی ذہنی اور نفسیاتی حالت سمجھنے کے لیے آپ کو کسی پی ایچ ڈی کی ڈگری کی ضرورت نہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں قانون کے نفاذ کی تیزی دیکھنی ہو تو اس کے لیے صرف آپ کا غریب ہونا ہی کافی ہے۔ اور اگر خود کشی کی کوشش ناکام ہو جائے ( جو کہ طبعی نقطہ نظر سے ماہرین کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ متاثرہ فرد کی تکلیف کو سمجھ کر دور کرنے کی کوشش کریں ) ، تو اوپر بیان کردہ نقشے میں اس متاثرہ فرد کا اضافہ اور خاندان کی تکالیف کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں ہمارے پاس کوئی ایسے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں جو بتا سکیں کہ کتنے افراد پر آج تک دفعہ 335 کے تحت مقدمہ درج کر کے عدالتی کارروائی کی گئی ہے لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ یہ بہت بڑے تعداد نہیں ہو گی۔ مشاہدہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ضخیم قانونی دفعات میں یہ ایک چھوٹی سی دفعہ پولیس اور ہسپتال کے عملے کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ متاثرہ فرد اور اہل خانہ سے کچھ نہ کچھ بٹور سکیں۔
اس قانون کے تحت خودکشی کے عمل کو ”مجرمانہ اقدام“ ( criminalisation) قرار دینے کے حق میں تین دلائل دیے جاتے ہیں۔
پہلا یہ کہ سزا کا خوف بذات خود ایک عبرت (deterrent) ہے لیکن تمام تر تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ جن ممالک میں سزا کا قانون ختم کر دیا گیا وہاں عموماً خودکشی کی شرح کم ہو گئی۔
دوسرے یہ کہ خودکشی کے لیے مجرمانہ سزاؤں کے قوانین دراصل اس سوسائٹی کی۔ ایسے اقدامات کے خلاف، اخلاقی مذمت کا اظہار ہیں لیکن در حقیقت عوامی شرمندگی ( دونوں قانونی اور ثقافتی سطح پر ) نہ صرف بچ جانے والے متاثرہ فرد یا مرنے والے کے متاثرین کو کسی قسم کی پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے بلکہ ایک کلنک کا ٹکہ بن کر زندگی اور اجیرن کر دیتی ہے۔
تیسرے سزا کا یہ قانون انتقام کی خواہش کا اظہار بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ انصاف ہوتا بھی نظر آتا ہے کہ ایسی قبیحہ جرم کے مرتکب کو سزا مل گئی، تاہم اس صورت میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ خود کشی کی کوشش کرنے والے یا کامیابی کی صورت میں اس کے علاوہ کوئی اور بھی متاثر ہے اور یہ کہ اس کا یہ فیصلہ عقلی لحاظ سے صحیح تھا نہ کہ اس وقت وہ کسی دباؤ یا کسی ذہنی بیماری کے زیر اثر فیصلہ کر رہا تھا۔
مندرجہ بالا دلائل کے ساتھ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن بارے انسداد خود کشی ( International association for prevention of Suicide) نے دفعہ 335 کو تبدیل کرنے اور خود کشی کو مجرمانہ عمل کے تعریف سے نکالنے کے چار فوائد گنوائے ہیں۔
1۔ اس قانون میں تبدیلی سے عوامی رائے عامہ بہتر ہو گی اور (stigma) میں کمی سے متاثرہ افراد کے لیے پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنا آسان ہو گا۔
2۔ قانون میں تبدیل (decriminalisation ) سے خودکشی جیسے عمل کو سمجھنے میں آسانی ہوگی اور متاثرہ فرد کی جلد نشاندہی اور امداد کے طریقوں کو آزمایا جا سکے گا۔
3۔ قانون میں تبدیلی (decriminalisation ) سے خودکشی جیسے اقدام کو پبلک ہیلتھ کے مسئلہ ٔ کے طور پر لیا جا سکے گا اور متاثرہ افراد کا بیمار کے طور پر علاج کیا جا سکے گا۔
4۔ قانون میں تبدیلی سے اس ذہنی اذیت سے نجات ملے گی جو ممکنہ قانونی چارہ جوئی اور قید کی سزا کی لازمی حصہ ہے۔
اس ساری بحث امید ہے کہ یہ بات واضح ہو گئی ہو گی کہ مروجہ قانون میں تبدیلی کی ذمہ داری صرف قانون ساز اداروں اور ان کے اراکین پر ہی نہیں چھوڑی جا سکتی بلکہ ہمیں دوسرے ممالک کے تجربوں سے فائدہ اٹھانا ہو گا اور جہاں سول سوسائٹی کے سطح پر اس بارے میں ایک مہم کے ذریعے عوامی بیداری میں اضافہ کرنا ہو گا۔ وہیں ہمارے قانون سازوں پر بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جدید تحقیق کی روشنی میں خودکشی جیسے پیچیدہ المیہ اور اس سے وابستہ عوامل کو سمجھ کر ایسی قانون سازی کریں جو انسانی زندگی میں آسانیاں لا سکے اور ان رویوں کو درست کرنے میں مدد گار ہو جو انسانی صحت پر منفی اثرات رکھتے ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ سینٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل اس سلسلے میں پہلے ہی ( 2017 میں ) اپنے رائے کا اظہار کر چکے ہیں اور ابھی تک کوئی ایسی تحقیق سامنے نہیں آئی جو اس تاثر کو درست ثابت کرے کہ دفعہ 335 میں ترمیم خودکشی کے رجحانات کو زیادہ کر دے گی۔


