بلوچستان :پاکستان کا سینہ


بزرگوں سے ایک کہاوت سنتے تھے کہ اگر بدن پر کہیں کانٹا چبھ جائے تو کانٹے کو نکالنے کی کوشش کرتے ہیں نہ کہ اسی کانٹے کا غصہ نکال کر اپنے ہی جسم کو چھلنی چھلنی کرنے کے۔

اس کہاوت کو یہاں بیان کرنے کا مقصد اتنا ہی ہے کہ ہم بحیثیت قوم ایک بدن کے مثل ہیں اور بلوچستان کو ہم اپنا سینہ فرض کرلیتے ہیں کیونکہ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناتے اس کا سینہ کہلایا جانا بنتا بھی ہے۔ باقی صوبوں اور انتظامیہ کو ہم اس دل کی طرف جانے والی وینز (رگیں ) تصور کرلیتے ہیں

اس ضمن میں رگوں کی ذمہ داری تو یہ بنتی ہے کہ وہ دل میں فشار خون کے لئے راستہ ہموار کریں تاکہ نظام بہتر طریقے سے چل سکے اور کسی بیماری کے نمو پانے کی صورت میں پورا بدن تکلیف میں مبتلا نہ ہو۔

بالکل اسی طرح دل اور اس کے ساتھ لگے آرگنر اور دل کے والوز یعنی وہاں کی عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر دل میں خون کی آمدورفت کسی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو بھی جائے تو وہ اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچا کے اذیت کا ساماں پیدا نہ کریں۔

کسی بھی علاقے کے حالات کا انحصار وہاں کے سیاسی، علاقائی، لسانی، جغرافیائی اور سماجی منظرنامے پر ہوتا ہے اس لئے وہاں خوشحالی یا بدحالی کا سہرا بھی انہی عوامل میں کسی ایک کو پہنایا جاسکتا ہے یا سب کو ہی پہنایا جاسکتا ہے، جہاں تک بلوچستان کے مسئلے کا تعلق ہے وہاں کے مسائل کی بنیادی وجہ لسانی یا سماجی ہونے کی بجائے سیاسی یا جغرافیائی ہے۔ بلوچستان چوں کہ پاکستان کے تینتالیس فیصد رقبے پر مشتمل ہے اور آبادی کے لحاظ سے فقط چار یا پانچ فیصد گنجان آباد ہے اس لئے وہاں انتظامی مسائل کا ہونا فطری اور ناگزیر سی بات ہے، وسائل کی تقسیم کے سلسلے میں بھی اس وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔

دوسرا شروع سے ہی بلوچ مزاج کو سمجھنے کی بجائے ان پر چڑھ دوڑنے والی پالیسی نے زخموں پر نمک کا کام کیا۔ اس وجہ سے ہم ماضی کی حکومتوں کو کسی صورت بھی کلین چٹ تو نہیں دے سکتے بس اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ سارا ملبہ وفاقی حکومتوں پر ڈالنا اور ریاست پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا بھی نا انصافی ہوگی۔ اس طعن و تشنیع کا جو حصہ مقامی اور قبائلی سرداروں کا بنتا ہے وہ ان کو بھی ملنا چاہیے۔ اتنی کم آبادی پر خواندگی کی شرح کم تو نہیں لیکن اعلیٰ تعلیم کی شرح قابل ترس حد تک کم ضرور ہے جس کی بڑی وجہ سماجی رویے ہیں جو خود ہی بچوں کو میٹرک کے بعد پڑھانے پر رضامند نہیں ہونے دیتے۔

میں خود بلوچستان گیا اور میں نے جائزہ لیا کہ تقریباً نوے فیصد حضرات صرف میٹرک تک کی تعلیم کو تعلیم سمجھتے تھے اور حیران کن طور پر وہ سب کے سب کسی نہ کسی سرکاری نوکری سے وابستہ بھی تھے جس پر حاضری دینے کے لئے وہ صرف مہینے کے اختتام پر جاتے تھے اور مہینے کے آغاز میں تنخواہ لے کر پھر وہی معمول۔ اس میں ریاست کو دوش دیا جاسکتا ہے؟

اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا ممکنہ حل کیا ہے اور کیسے سماجی رویے بدلے جا سکتے ہیں؟

جواب آسان سا ہے کہ سماجی رویے بدلنے اور معاشی حالات کے بدلنے کو ایک طویل اور مشقت طلب جدوجہد کی ضرورت ہے جس کے ثمرات بھی دیرپا ہوں گے ۔

لیکن اس سے پہلے ہمیں کم ازکم اپنی حدود کی پہچان ضرور رکھنی ہے کہ ہمارے نزدیک آزادی کا مفہوم کیا ہے اور ہم کون سی آزادی کے خواہش مند ہیں؟

دنیا میں آزادی کا ہر تصور اک قفس کی دیواروں کے اندر ہی اندر اپنی مرضی کے مطابق گھومنے تک ہے اس قفس کا دروازہ کھلا ہوا تو ہے اور آپ کی مرضی اس میں سے نکل کر کسی شکاری کے ہاتھ لگ جائیں یا اسی قفس کے اندر رہ کر اپنے آپ کو محفوظ رکھیں، یہ قفس ریاست کے اصول و ضوابط ہیں جو رعایا کی ہی حفاظت کے لئے مرتب کیے جاتے ہیں۔ یہاں شکاری کون ہے پھر؟ وہی جس کو ہم اتنے برسوں سے دیکھتے چلے آئے ہیں اور جس نے ہمارے دوسرے پنچھی (بنگالی عوام) کو بھی پنجرے سے منہ نکالنے پر دبوچ لیا تھا۔

محتاط رہیں اور پنجرے کی دیواروں کو نعمت سمجھ کر اسی کو اندر سے مضبوط اور سہانا بنانے کی کوشش کریں۔

Facebook Comments HS

One thought on “بلوچستان :پاکستان کا سینہ

  • 05/01/2022 at 6:41 شام
    Permalink

    Good attempt to show the real problems of .Baluchistan and pepole

Comments are closed.