نئی سوچ اور فکر کی ضرورت
پاکستان کی سیاست کا ایک مجموعی نقطہ منفی طرز پر مبنی سیاست کا کھیل ہے۔ اس کھیل نے ہماری سیاست، جمہوریت اور معاشرتی سیاسی اقدار کو تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔ کوئی بھی سیاسی، سماجی، مذہبی یا معاشرتی فورم یا بحث کے مراکز ہوں سب ہی مثبت پہلووں کے مقابلے میں منفی طرز کے پہلو نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تنقید کرنا ہر کسی کا بنیادی حق ہے اور یہ عمل معاشرے کی اصلاح میں معاونت کا کردار ادا کرتا ہے۔ مگر یہاں تنقید کم اور تضحیک کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔
ہم مجموعی طور پر ایک دوسرے کی شعوری یا لاشعوری طور پر تضحیک کر کے نہ صرف خوش ہوتے ہیں بلکہ ہمیں اطمنانیت کا احساس ہوتا ہے۔ ہم اس فکری مغالطہ کا شکار ہیں کہ محض اپنے سچ کو ہی مکمل سچ اور دوسروں کے سچ کو جھوٹ پر مبنی بیانیہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح اپنی رائے کو دوسروں پر مسلط کرنا بھی ہماری فکر کا حصہ بن گیا ہے۔ یہ ماحول عملی طور پر سیاسی، سماجی، مذہبی اور فکری بنیادوں پر انتشار، نفرت اور ایک دوسرے کے وجود کو قبول نہ کرنے کی روش کو تقویت دے رہا ہے۔
اس وقت ہم قومی سیاست کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ ہم نے منفی سیاست کو اپنے سیاسی مخالفین کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری پارلیمانی مباحث کو دیکھیں تو واقعی شرم آتی ہے کہ کس منفی طرز عمل کے ساتھ ہمارے ارکان اسمبلی نے پارلیمنٹ کو محاذ آرائی کا مرکز بنا دیا ہے۔ منی بجٹ میں جو کچھ پارلیمنٹ میں ہوا اور جو ہاتھا پائی دیکھنے کو ملی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی ماضی کی سیاسی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے ان ہی غلطیوں کو دہرا کر اپنے ہی سیاسی نظام کو خراب کرنے کے کھیل کا حصہ بن گئے ہیں۔
جو گالم گلوچ، منفی اور تضحیک پر مبنی گفتگو ارکان پارلیمنٹ کرتے ہیں تو سیاسی کارکن یہ ہی رویہ کیونکر سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال نہ کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت محاذ آرائی پر مبنی اس سیاست کو اپنی سیاسی طاقت سمجھتا ہے۔ کیونکہ نان ایشوز کی سیاست میں محاذ آرائی پر مبنی طرز کی سیاست قیادت کے مفاد میں ہوتی ہے اور وہ لوگوں کو غیر حقیقی یا غیراہم ایشوز میں رکھنے کو ہی اپنی سیاسی طاقت سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا سیاسی جماعتیں یا ان کی قیادت داخلی محاذ پر بڑی یا سخت اصلاحات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ اگر ہم سیاسی اصلاحات کو بنیاد بنا کر آگے بڑھیں گے تو ان کی اپنی سیاسی طاقت کمزور ہوگی۔
سیاسی جماعتوں اور قیادت کا کام قوم میں اپنے ایجنڈے کے تحت امید پیدا کرنا، بہتر مستقبل کا خاکہ پیش کرنا، پہلے سے جاری خرابیوں پر اپنا متبادل نظام پیش کرنا، لوگوں کو متحرک، منظم اور تنظیم میں تبدیل کرنا، لوگوں کو مسئلہ کے حل میں مسئلہ بنانے کی بجائے مسئلہ کے حل کی طرف لانا یا جوابدہی، شفاف نظام کو پیش کرنا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں سیاسی قیادت چاہے وہ حکومت میں ہو یا حزب اختلاف کی سیاست کا حصہ ہوں لگتا ہے کہ وہ مسئلہ کے حل کی بجائے بگاڑ پیدا کرنے کے کھیل کا حصہ بن گئے ہیں۔
ہمارے ٹی وی ٹاک شوز ہوں یا اخبارات کی اہم سرخیاں کو دیکھیں یا علمی و فکری مباحث کو دیکھیں تو ہمیں تین پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔ اول مباحث میں امید کے پہلو کم اور مایوسی کا بیانیہ زیادہ ہوتا ہے اور منظرنامہ اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ ہم تباہ ہو گئے ہیں اور بچنے کا کوئی راستہ ممکن نہیں۔ دوئم تنقید کی بجائے ہماری گفتگو میں عملی طور پر دوسروں کے بارے میں تضحیک کا پہلو نمایاں ہوتا ہے اور یہ پہلو ایک منظم سیاسی ایجنڈے کا حصہ بھی ہوتا ہے۔ سوئم متبادل بیانیہ دینے کی بجائے ماضی یا حال کا ماتم کرتے ہیں اور مستقبل پر ان کی نظر کم ہوتی ہے۔ چہارم ہم طاقت کے مراکز کو کمزور کرنے اور ان کے منفی طرز پر مبنی ایجنڈے پر مزاحمت کرنے کی بجائے خود کو اس کا حصہ بنا کر اپنی طاقت کو بھی قائم کرتے ہیں۔
ایک اہم فکری نقطہ ہے کہ اگر آپ کا علم، تجربہ، صلاحیت یا سوچ و فکر دوسروں میں امید یا روشنی پیدا کرنے کی بجائے اندھیرا یا مایوسی کو پیدا کرتا ہے تو لوگوں کی صلاحیت بے معنی ہے۔ اسی طرح ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ میڈیا کے محاذ پر جس خوفناک انداز میں سیاسی ایجنڈا جس میں عملی طور پر سیاست کم اور شخصیت پرستی کی حمایت اور مخالفت کا کھیل بالادست ہے۔ اس کھیل کو بنیاد بنا کر ایک منظم سوچ کے ساتھ اہم سیاسی، سماجی، معاشی، قانونی، معاشرتی معاملات پیچھے چلے گئے ہیں۔
جو بیانیہ بن رہا ہے وہ محض سیاست میں ایک دوسرے کی مخالفت بن کر رہ گیا ہے اور اس کے نتیجے میں ہماری مجموعی ترقی کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔ یہ نہیں کہ معاشرے میں مثبت لوگ انفرادی یا اجتماعی طور پر اچھے خیالات یا وہ تبدیلی کا اہم ایجنڈا نہیں رکھتے۔ اصل بحران ان لوگوں کو ریاستی اور حکومتی سطح پر آگے لانے کی بجائے پیچھے کی طرف دھکیلنا اور ان کے مقابلے میں ایسے لوگوں کی پذیرائی کرنا ہے جو ایک مخصوص طبقہ کے مفادات کے تابع ہوتا ہے۔
ہمارا بنیادی کام ریاست کے نظام کو شفاف بنانا ہوتا ہے۔ ایسا نظام جو عام لوگوں کی توقعات کے مطابق ہو اور ان کے بنیادی حقوق کا ضامن ہو۔ یہ ہی عمل عملی طور پر ریاست، حکومت اور معاشرے کے ساتھ لوگوں کے تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔ اس وقت ہماری ریاست، حکومت اور معاشرے سمیت ادارہ جاتی سطح پر مختلف نوعیت کے سنجیدہ چیلنجز موجود ہیں۔ ان چیلنجز سے ہمیں کیسے نمٹنا ہے اور کیسے ایک متبادل بیانیہ دے کر نظام کی نئے انداز سے تشکیل نو کرنی ہے یہ ہی ہماری ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔
ہماری علمی و فکری مباحث میں اصل ایجنڈا کہ ہم نے کیسے اپنے نظام کو درست کرنا ہے اور یہ عمل روایتی یا فرسودہ طور طریقوں سے نہیں بلکہ نئی جدیدیت کی بنیاد پر کام کرنا ہو گا۔ ہماری دانش کو بہت سے معاملات کو Out of Box کی بنیاد پر مسائل کے حل کے ایجنڈے کی طرف آنا ہو گا۔ کیونکہ جس انداز سے ہم اپنے نظام کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ مسائل کا حل نہیں۔ ہمیں دنیا کے تجربات سے سیکھنا ہو گا کہ انہوں نے معاشرے کی ترقی میں کن بنیادی فہم کو اپنی بنیاد بنایا اور کیسے وہ ترقی کے قومی دھارے میں شامل ہوئے۔
یہ کام سیاسی جماعتوں سے زیادہ معاشرے میں رائے عامہ بنانے والے طبقات جن میں سول سوسائٹی اور میڈیا سرفہرست ہیں کو کرنا ہے اور ان کو موجودہ ریاستی یا حکومتی یا طرز حکمرانی کی خامیوں کی نہ صرف نشاندہی کرنی ہے بلکہ ان کا معقول حل بھی پیش کرنا ہے۔ لوگوں کو اس بات پر قائل کرنا ہو گا کہ وہ بھی زندہ باد یا مردہ باد سمیت شخصیت پرستی کے کھیل میں خود کو الجھانے کی بجائے ایک نئے کردار میں خود کو پیش کریں جو قومی مسائل کے حل میں بہتری کے کردار کی طرف پیش رفت کریں۔
معاشرے میں لوگوں کے سیاسی اور سماجی شعور کو آگے بڑھانا ہو گا لیکن اس کے لیے پہلے رائے عامہ کے لوگ خود کو بھی ایک متبادل بیانیہ کے طور پر پیش کریں۔ کیونکہ یہاں تو عام آدمی سے زیادہ مسئلہ رائے عامہ بنانے والوں کی سطح پر موجود ہے۔ کیونکہ جب معاشرتی سطح پر تھنک ٹینک یا سوچ بچار کرنے والے افراد یا ادارے اپنا بیانیہ کسی مخصوص سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے یا جذباتیت کی بنیاد پر تشکیل دیں گے تو اس سے بہتری کا نتیجہ نکالنا ممکن نہیں ہو گا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا رائے عامہ بنانے والے افراد یا ادارے ایک متبادل ایجنڈے کے لیے تیار ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر یہ لوگ تیار نہیں تو ہمیں ان کے مقابلے میں نئی قیادت، افراد یا اداروں کو سامنے لانا ہو گا۔ کیونکہ ہم ایسی جگہ پر کھڑے ہیں جہاں ہمیں اپنے بحران کے حل کے لیے ایک نیا متبادل نظام درکار ہے۔


