اکرام الحق شیخ نے بھٹو کو پھانسی دینے سے 8 گھنٹے قبل خبر فائل کی


یہ 3 اپریل 1978 ء کی بات ہے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور کے نیوز روم میں رات کے 10 بج رہے تھے۔ نوائے وقت راولپنڈی آفس سے چیف رپورٹر اکرام الحق شیخ کی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کی قبل از وقت فائل کی گئی ”ایکسکلوسیو سٹوری“ نے کھلبلی مچا دی تھی۔ اکرام الحق شیخ نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے بارے میں ایک مختصر لیکن جامع خبر فائل کی تھی جس کا انٹرو یہ تھا کہ ”سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو آج ( 4 اپریل ) صبح پھانسی دے دی گئی ہے۔ ان کی میت ایک خصوصی طیارے میں گڑھی خدابخش پہنچائی گئی ہے۔ جہاں ان کو سخت حفاظتی میں سپرد خاک کر دیا گیا“

یہ دو سطری خبر روزنامہ نوائے وقت لاہور کے نیوز ایڈیٹر کو کلیئر کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔ لہذا روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر مجید نظامی کو آگاہ کیا گیا تو وہ فوری طور پر خلاف معمول رات کو نوائے وقت کے دفتر آ گئے انہوں نے اکرام الحق شیخ سے فون پر بات کی تو انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ”میری خبر سو فیصد درست ہے۔ میں اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں ادارہ کی مرضی کہ وہ اسے شائع کرے یا نہ کرے جہاں تک میری خبر کا تعلق ہے۔ میرے سورس نے بتا یا ہے۔ 4 اپریل 1978 ء کی صبح 6 بجے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی جا چکی ہو گی“

اگرچہ حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل پھانسی دینے کے تمام انتظامات مکمل کر لئے تھے لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی اکرام الحق شیخ پاکستان کے واحد اخبار نویس تھے جنہیں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کی تاریخ اور وقت کا علم تھا۔

مجید نظامی صاحب کا شمار ملک کے دبنگ صحافیوں میں ہو تا تھا لیکن اتنی بڑی خبر شائع کرنے سے قبل گہری سوچ میں ڈوب گئے انہوں نے اکرام الحق شیخ سے کہا کہ ”آپ کی خبر شائع کر رہا ہوں لیکن یہ خبر درست ثابت نہ ہوئی اخبار بھی بند کر دیا جائے گا اور ہم سب جیل میں ہوں گے۔“ کچھ دیر تک مجید نظامی صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے اچانک انہوں نے نیوز ایڈیٹر کو ہدایت کی روزنامہ نوائے وقت کے صفحات سے تمام خبریں اتار دی جائیں اور جلی حروف سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کی خبر شائع کی جائے ان کی تصاویر اور سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کا مواد شامل کیا جائے اس کے ساتھ ہی انہوں نے خبر کو خفیہ رکھنے کے لئے حکم جاری کر دیا اور روزنامہ نوائے وقت کے دفتر کو تالے لگوا دیے تاکہ کوئی کارکن اخبار کی اشاعت سے قبل باہر نہ جائے۔

روزنامہ نوائے وقت کے عملہ نے ساری رات دفتر میں جاگ کر گزار دی۔ اگلے روز ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیے جانے کا 11 بجے سرکاری طور پر اعلان کیا گیا اکرام الحق شیخ کے پاس کوئی گاڑی تھی، نہ سکوٹر بلکہ ان کا تعلق اس دور کے صحافیوں سے تھا جنہوں نے پیدل، بسوں اور ویگنوں میں سفر کر کے رپورٹنگ کی۔ ان کا شمار پاکستان کے سینئر صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اہم سیاسی واقعات اور سپریم کورٹ میں نواب احمد خان قتل کیس کی سماعت کی کوریج کی۔

اکرام الحق شیخ اس وقت کے روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر طارق وارثی کے ہمراہ محسن پاکستان نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان کا خصوصی انٹرویو کرنے جا رہے تھے جس میں انہوں نے پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا انکشاف کیا تھا لیکن بوجوہ وہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے دفتر تک لے جانے والی گاڑی تک بروقت پہنچ نہیں سکے۔ بی بی سی کا شہرہ آفاق نمائندہ مارک ٹیلی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے خبر قبل از وقت فائل کرنے سے رہ گیا جس پر بی بی سی کی انتظامیہ نے اس سے باز پرس کی یوں اکرام الحق شیخ نے دنیا کے ایک باخبر صحافی کو پیشگی خبر دینے میں شکست دی۔ یہ بات مجھے روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد کے نیوز ایڈیٹر بشارت علی سید نے اکرام الحق شیخ کی تدفین کے موقع پر بتائی اگرچہ میں نے روزنامہ نوائے اسلام آباد میں مسلسل 41 سال سروس کرنے کے بعد استعفا دے دیا تھا۔

تاہم بشارت علی سید اس لحاظ سے روزنامہ نوائے وقت میں مجھ سے غالباً دو سال سینئر تھے لیکن وہ مجھ سے دو سال قبل روزنامہ نوائے وقت سے استعفا دے کر گھر آ بیٹھے۔ جنازے میں افضل بٹ، جاوید صدیق، سردار سلطان سکندر، طارق محمود سمیر، ریاض اختر، ابرار سعید اور ایم ایم گورمانی موجود تھے۔ مجھے اکرام الحق شیخ کے ساتھ 30 سال سے زائد کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ میں ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

آج الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے۔ بہت کم لوگوں کو اکرام الحق شیخ کے بارے میں علم ہے کہ وہ اپنے دور کے بڑے اخبار نویس تھے۔ انہوں نے پولیٹیکل رپورٹنگ میں اپنا نام پیدا کیا اور اعلی روایات قائم کیں۔ ان کے جنازے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ محمد ظفر الحق، سینیٹر ظفر علی شاہ کے علاوہ کسی اور سیاست دان نے ان کے جنازے میں شرکت نہیں کی جب ان کا عروج تھا۔ اپنے دور کے بڑے بڑے سیاست دان ان کے دروازے کے باہر ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ اتنے بڑے صحافی کی وفات ان کے عزیز و اقارب کی بہت بڑی تعداد تو موجود تھی لیکن بالخصوص ادارہ نوائے وقت کی انتظامیہ کوئی کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے اخبار نویس ہی تھے۔ جڑواں شہر کے صحافیوں نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اکرام الحق شیخ مرحوم سے ٹیلی فون پر رابطہ رہتا تھا۔ میں ان کو اپنی یادداشتیں لکھنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کرتا رہا تاہم بشارت علی سید ان کی کے آر ایل ہسپتال اسلام آباد میں آخری ملاقات ہوئی جہاں وہ ہفتہ میں دو بار ڈائلاسیز کراتے تھے تو انہوں نے بھی اکرام الحق شیخ پر زور دیا کہ وہ اپنی یادداشتیں لکھیں تو انہوں نے کہا کہ میں علالت کے باعث لکھ نہیں سکتا البتہ بول سکتا ہوں۔ بشارت علی سید نے انہیں اپنی یادداشتیں ریکارڈ کرانے کا مشورہ دیا لیکن موت نے اس کی مہلت نہیں دی راجہ محمد ظفر الحق اکرام الحق شیخ کی وفات پر افسردہ تھے۔ انہوں نے اکرام الحق شیخ کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”شرافت کا مجسمہ اور پیشہ صحافت کا وقار اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو گیا ہے۔“

پرنٹ میڈیا میں ایکسکلوسیو سٹوری غلط ثابت ہو جائے تو اس کی کم ازکم سزا ملازمت سے برطرفی ہوتی تھی۔ میں نے نوائے وقت میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں شہباز شریف کی فیملی کو پاکستان کے کسی ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت نہ دینے کے فیصلہ کی خبر فائل کی لیکن اخبار کی اشاعت سے چند گھنٹے قبل چوہدری شجاعت حسین نے شہباز شریف کی فیملی کو لاہور ائر پورٹ پر اترنے کی اجازت دلوا دی جس سے میری خبر غلط ثابت ہو گئی۔ مجھے ایک ہفتہ کے لئے گراؤنڈ کر دیا گیا (ڈیسک پر بھجوا دیا گیا)۔ جب مجید نظامی صاحب کو میری خبر کی صداقت کا علم ہو تو مجھے دوبارہ رپورٹنگ سیکشن میں بھجوا دیا گیا۔ اسی طرح میں اور سہیل عبدالناصر نے 28 مئی 1998 ء ایٹمی دھماکہ کرنے کی ایکسکلوسیو سٹوری فائل کی تو اس وقت ہم چین سے نہیں بیٹھے جب تک اس روز دھماکے نہیں ہو گئے۔

میں نے 27 اگست 2007 ء کو صبح 9 بجے وقت نیوز پر جنرل پرویز مشرف کے آج دوپہر صدارت سے استعفا دینے کی خبر فائل کر دی تو خبر ٹیلی کاسٹ ہونے کے بعد مجید نظامی صاحب نے خبر کی صادق کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے خبر تو فائل کر دی تھی لیکن یہ کھٹکا لگا رہا کہ یہ خبر کہیں باؤنس نہ ہو جائے اس لئے میں نے ملازمت سے استعفا دینے کے لئے اپنے آپ ذہنی طور تیار کر لیا تھا جب دو پہر کو پریس کانفرنس میں جنرل پرویز مشرف نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تو میں خوشی سے پھولا نہیں سمایا تھا۔

مجید نظامی صاحب نے ایم ایم گورمانی جو کہ روزنامہ نوائے وقت کے جنرل مینجر تھے۔ کو ان کی طرف سے ایک ہزار روپے کا انعام دینے کی ہدایت کی یہ انعام کی رقم آج بھی میرے پاس محفوظ ہے لیکن اس خبر کے ایک ہفتہ بعد میں نے گورنر پنجاب سلمان تاثر کے ہٹائے جانے خبر فائل کی جو اس لئے باؤنس ہو گئی کہ سلمان تاثیر نے کیبنٹ ڈویژن سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن پر عمل درآمد نہیں ہونے دیا۔ حلف برداری کی تاریخ طے ہو گئی۔ اس گورنر کی سفارشی ہیلری کلنٹن انتخاب ہار گئیں۔ ہیری کلنٹن کا ایک پاکستانی نژاد قریبی آدمی تھا جو اپنے ایک آدمی کو گورنر لگوانا چاہتا تھا لیکن جب ہیلری کلنٹن صدر ہی منتخب نہ ہوئیں تو جنرل پرویز مشرف نے اس کی سفارش کو رد کر دیا۔ میرے پاس نوٹیفیکیشن بھی تھا لیکن پیشہ وارانہ مسابقت کی وجہ سے میرے ریذیڈنٹ ایڈیٹر نے اس نوٹیفیکشن کو مشکوک قرار دے کر مجھ پر ایک ہزار روپے جرمانہ کرا دیا یہ نوٹیفیکشن آج بھی میری آرکائیوز میں محفوظ ہے۔

روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد کے سابق میگزین ایڈیٹر ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی نے اکرام الحق شیخ کی زندگی میں ہی ایک خاکہ تحریر کیا تھا جس میں لکھا تھا کہ ”اکرام الحق شیخ ایک بے مثال اخبار نویس تھے۔ وادی صحافت میں شرافت کا ایک مجسمہ تھے۔ وہ اپنے دور ایک نامور اخبار نویس تھے۔ پیرانہ سالہ کے باعث گوشہ نشینی اختیار کر رکھی تھی لیکن ان کے پایہ کے اخبار نویس سالوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔“

میں نے اکرام الحق شیخ کے ساتھ سینئر رپورٹر کے طور کام کیا ہے۔ وہ مرحوم ثمر جالندھری کے بھائی تھے۔ دونوں بھائیوں نے صحافت میں بلند مقام پیدا کیا ہے۔ میں نے اپنے زمانہ طالبعلمی میں ہی اکرام الحق شیخ کو پیدل دوڑتے اور بھاگتے ہوئے خبر کا تعاقب کرتے دیکھا آج کے دور میں جب خبر صحافی کے پاس چل کر آتی ہے۔ اسے تین عشرے قبل میدان صحافت میں آنے والی مشکلات کا اندازہ نہیں ہر وقت مسکراتے چہرہ اور شرافت کے مجسمہ کا دوسرا نام اکرام الحق شیخ تھا۔

Facebook Comments HS