کیا آپ کسی ذہنی مریض کو اس کی مرضی کے بغیر پاگل خانے میں داخل کروا سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی بھی ریاست میں ہر شہری کو کیا انسانی حقوق حاصل ہوتے ہیں؟
اگر کوئی انسان نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جائے تو کیا اس کے حقوق بدل جاتے ہیں؟
کیا کسی بھی ذہنی مریض کو اس کے رشتہ دار ’پولیس افسر یا ڈاکٹر پاگل خانے میں داخل کروا سکتے ہیں؟

ان سوالوں کا جواب دینا آسان نہیں کیونکہ اس کا تعلق طب اور نفسیات ’قانون اور اخلاقیات جیسے گمبھیر موضوعات سے جڑا ہوا ہے۔

میں پاکستان کے قوانین سے آگاہ نہیں ہوں کیونکہ میں پچھلے چالیس برس سے کینیڈا میں مقیم ہوں لیکن چونکہ میں نے کینیڈا کے تین صوبوں نیوفن لینڈ ’نیو برنزوک اور اونٹاریو کے تین نفسیاتی ہسپتالوں میں بطور ماہر نفسیات کے کام کیا ہے اس لیے میں یہاں کے قوانین سے آگاہ ہوں۔

کینیڈا کے قوانین کے مطابق آپ کسی بھی نفسیاتی مسائل کے شکار مریض کا اس کی اجازت کے بغیر علاج نہیں کر سکتے۔

کینیڈا کا ایک قانون مینٹل ہیلتھ ایکٹ کہلاتا ہے۔ اس قانون کے مطابق اگر کوئی انسان

* ذہنی مرض میں مبتلا ہو
* اس مرض کی وجہ سے وہ خودکشی کے بارے میں یا
* کسی کو قتل کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہو تو کسی بھی ڈاکٹر کا یہ سماجی اخلاقی اور پیشہ ورانہ فرض ہے کہ وہ فارم ون بھرے اور پولیس کو مطلع کرے تا کہ وہ اسے ہسپتال لے کر جائیں جہاں اس کے ذہنی مرض کا علاج کیا جا سکے۔

انسانی تاریخ میں ایک وہ دور تھا جب ذہنی مریض پاگلوں کی طرح گلیوں اور بازاروں میں کپڑوں سے بے نیاز گھوما پھرا کرتے تھے اور غیبی آوازوں سے باتیں کیا کرتے تھے۔ بعض لوگ تو ان مریضوں کو سنت اور سادھو اور مجذوب مانتے تھے اور بعض بچے ان کا مذاق اڑاتے تھے ’آوازیں کستے تھے اور پتھر بھی مارے تھے۔ بعض لوگ انہیں جنونی اور مجنوں کہتے تھے۔

پھر ساری دنیا میں پاگل خانے بنے تا کہ ان ذہنی مریضوں کو گلیوں اور بازاروں سے اٹھا کر ہسپتال لے جایا جائے اور ان کا علاج کیا جائے۔ ہسپتالوں میں بھی انہیں گھوڑوں اور گھوڑیوں کی طرح زنجیروں سے باندھ دیا جاتا تھا اور سمجھا جاتا تھا کہ وہ خطرناک انسان ہیں۔ انہیں کھانے پینے کے لیے بھی پیالہ اور چمچ تو دیا جاتا تھا چھری کانٹا نہیں دیا جاتا تھا کہیں وہ نرسوں اور ڈاکٹروں پر حملہ آور نہ ہو جائیں۔

ڈاکٹروں کا یہ بھی خیال تھا کہ چودھویں کی رات کو سمندر کی طغیانی کی طرح پاگل کا ذہن بھی بے قابو ہو جاتا ہے۔ چونکہ چاند LUNAR کہلاتا تھا اس مناسبت سے پاگل خانے LUNATIC ASYLUM کہلانے لگے۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں جوں جوں سائنس ’طب اور نفسیات نے ترقی کی اور لوگوں میں انسانی حقوق کا شعور بیدار ہوا تو ذہنی مریضوں کی زنجیریں کاٹ دی گئیں۔ اب ہسپتالوں میں مریضوں کا احترام کیا جاتا ہے اور وہ چھری کانٹے سے کھانا کھاتے ہیں۔ اب ہم جانتے ہیں کہ نفسیاتی مسائل اور ذہنی امراض کے شکار لوگوں کی اکثریت پر امن ہوتی ہے۔

بہت کم ذہنی مریض ایسے ہوتے ہیں جو خود کشی یا قتل کے بارے میں سوچتے ہیں ایسے مریضوں کا ڈاکٹر اور نرسیں علاج کرتے ہیں۔ کینیڈا میں اگر ڈاکٹر نہ ملے تو رشتہ دار عدالت میں جاتے ہیں جہاں جسٹس آف پیس رشتہ داروں کی کہانی سنتا ہے اور فارم ٹو پر کر کے پولیس کو حکم دیا جاتا ہے کہ مریض کو ہسپتال لے جائے۔

اگر ذہنی مریض کو ہسپتال میں محسوس ہو کہ اس کے انسانی حقوق کا احترام نہیں کیا جا رہا تو وہ ڈاکٹر کے فیصلے کے خلاف درخواست دیتا ہے اور ہسپتال میں ایک عدالت قائم کی جاتی جس میں مریض اور ڈاکٹر دونوں اپنا موقف بیان کرتے ہیں اور وہ مقامی عدالت فیصلہ کرتی ہے۔ ہسپتال میں مریضوں کی قانونی مدد کے لیے جو شخص متعین کیا جاتا ہے وہ
PATIENT ’S ADVOCATE
کہلاتا ہے۔

بیسویں صدی میں نفسیات سائنس اور طب نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب ادویہ تھراپی اور تعلیم سے نفسیاتی مسائل اور ذہنی امراض کا کامیاب اور تسلی بخش علاج ممکن ہے۔ اسی لیے اب مغربی دنیا میں پاگل خانوں کو بند کیا جا رہا ہے اور نفسیاتی مسائل کے شکار لوگوں کا جنرل ہسپتالوں اور کلینکس میں علاج کیا جاتا ہے۔ بعض ممالک میں تو اب ایسی نرسیں بھی ہیں جو مریضوں کے گھر جا کر انہیں ادویہ دیتی ہیں ٹیکے لگاتی ہیں اور ان کی خوراک اور صحت کا خیال رکھتی ہیں ایسی نرسیں کمیونٹی ہیلتھ نرسز کہلاتی ہیں۔ اب ذہنی مریض کے رشتہ داروں کو بھی ذہنی صحت کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے تا کہ مریض ’اس کے رشتہ دار‘ ڈاکٹر اور نرسیں مل کر کام کر سکیں کیونکہ ذہنی مریضوں کا خیال رکھنا ہم سب کی سماجی ذمہ داری ہے۔

مجھے یہ کالم لکھتے ہوئے وہ سہ پہر یاد ہے جب میں اپنے نرس این کے ساتھ اس مریضہ سے ملنے گیا تھا جو پاگل پن کے دورے کے دوران اپنے کپڑے پھاڑ کر آدھی رات کو سڑک پر نگل گئی تھی۔ میں نے اس کی منت سماجت کی کہ تم کپڑے پہنو اور میری نرس کے ساتھ علاج کے لیے ہسپتال چلو۔ میں نہیں چاہتا کہ میں پولیس کو فون کروں اور وہ تمہیں تمہاری مرضی کے بغیر ہتھکڑی لگا کر ہسپتال لے جائیں۔ میری مریضہ اپنی ذہنی بیماری کے باوجود میری عزت کرتی تھیں اس لیے وہ نرس کے ساتھ ہسپتال چلی گئیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا ذہنی مریضوں کے بارے میں رویہ ہمدردانہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ ذہنی مریض وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی کا توازن قائم کرنے کی کوشش میں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ اس ہمدردانہ رویے کا اظہار غالب نے اپنے ایک شعر میں یوں کیا تھا

؎ میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اٹھایا تھا کہ سنگ یاد آیا

اب ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قوم کے فنکار ’شاعر اور دانشور عام انسانوں سے زیادہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ وہ نہ صرف حد سے زیادہ حساس ہوتے ہیں بلکہ غیر روایتی زندگی بھی گزارنا چاہتے ہیں۔ انہیں اپنے آدرشوں کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے اور بعض دفعہ قربانی دیتے دیتے وہ ذہنی توازن بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ چاہے وہ میر تقی میر ہوں یا جون ایلیا‘ سارہ شگفتہ ہوں یا گل بہار بانو ’ایسے فنکار‘ شاعر اور دانشور ہماری ہمدردی کے مستحق ہیں کیونکہ وہ اپنے فنون لطیفہ سے ہمیں محظوظ بھی کرتے ہیں اور مسحور بھی۔ وہ ہماری زندگیوں کو بامقصد بھی بناتے ہیں اور بامعنی بھی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 498 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments