اے ٹی ایم کے اندر اور باہر کی دنیا

یہ اے ٹی ایم ہے۔ اس میں سے پیسے نکلتے ہیں۔ لیکن جو نکالنے جاتے ہیں وہ بہت دیر بعد باہر نکلتے ہیں۔
اصل میں ان کا کچھ قصور بھی نہیں۔ دھول سموگ اور آلودہ ماحول میں رہتے رہتے ایک اے ٹی ایم ہی وہ واحد جگہ ہے جو اندر سے صاف، پرسکون، موسم کے حساب سے آرام دہ اور پچانوے فیصد گھروں سے زیادہ لگژری جگہ ہے۔
لہذا تاحیات ایک کمرے کے مکین جب اس میں داخل ہوتے ہیں تو ان کا جی چاہتا ہے تھوڑی دیر اور یہیں رہیں۔ ممکن ہو تو دروازہ لاک کر کے اندر ہی لیٹ رہیں۔ مگر باہر قطار لگی ہوئی ہے۔ مجبوری ہے۔ لہذا اوت کے سوت نکالتے رہتے ہیں۔
یہ دیکھیو۔ یہ ایک اور آیا۔ بارش میں بھیگتا اور چھینٹے اڑاتا تیز تیز قدم اٹھاتا کسی سائے کی تلاش میں ہے۔ سردی سے کپکپاتا ہے۔ پیروں میں کھیڑی جوتی پہنی ہے۔ جس کی بندھنی کھلی ہوئی ہے۔ اور وہ اس کے پیچھے شڑپ شڑپ کر رہی ہے۔ نظر اے ٹی ایم پر پڑی۔ یہ اندر گیا۔ اندر انورٹر اے سی سے گرم ہیٹر کی ٹکور کرتی ہوا جب اس کے یخ بستہ بدن سے ٹکرائی تو اسے ایک گونہ سکون میسر ہوا۔ اس کا جی چاہا کہ اے سی کو جپھی ڈال لے۔
باہر مگر اس اثنا میں قطار لگ چکی ہے۔ لوگ بے چینی سے پوز بدل بدل کر کے اسے دیکھتے ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ کیسے اس کو اٹھا کر باہر پھینک دیں۔ اس نے بینکوں کے عملے کی طرح عین کرکٹ میچ کے ری پلے کی سپیڈ سے اپنے کیسے میں سے بٹوا نکالا۔ پھر ٹٹول کر کارڈ نکالا۔ دس ایک سیکنڈ اسے غور سے دیکھتا رہا کہ کس سمت سے مشین میں ڈالے۔ کچھ سمجھ نہ آیا تو ڈال دیا۔ اندر نہ گیا۔ نکال کر دوبارہ تیس سیکنڈ گھورتا رہا۔ بالآخر تیر کا نشان دکھائی دیا۔ اب اس طرف سے ڈالا۔ کوڈ لگایا۔ اب سوچنے لگا کہ پیسے تو نکلوانے نہیں میں تو ٹھنڈ کے باعث آیا تھا۔ چلو بیلنس چیک کر لیتے ہیں۔ بیلنس چیک کیا۔
اب باہر والوں میں دو ایک خواتین بھی آ گئیں۔ قطار مزید لمبی ہوئی۔ اور منتظرین اس بے تابی سے اپنا وزن ایک ٹانگ سے دوسری ٹانگ پر منتقل کرنے لگے جیسے ان سب کا پیشاب زور دے رہا ہو۔ بہت زور سے پیشاب آیا ہو تو آدمی دونوں ٹانگوں پر زیادہ دیر برابر وزن ڈال کر کھڑا نہیں ہو سکتا ۔ لاشعوری طور پر چہل قدمی شروع کر دیتا ہے مبادا نکل جائے۔ ایک بھاری بھرکم آدمی نے دروازہ کھولا
”او بھائی کتنی دیر ہے۔ باہر لمبی لائن ہے۔“
”بس آ گیا۔“
اب جلدی جانا ہو گا۔ کم بخت سب کو اسی وقت آنا تھا۔ خیر کچھ پیسے بھی نکلوا لیتا ہوں۔
اس نے خود کلامی کی۔
کیش ودڈرال۔ ٹوں۔
ہیں۔ آپ کا بیلنس ناکافی ہے۔
”ووڈ یو لائک تو سیو انوائرنمنٹ بائی ناٹ پرنٹنگ ریسیٹ؟“
غصے میں اس نے ”نو“ دبا دیا۔ اور رسید نکالی۔
اب کیا کروں۔
اتنے میں دوبارہ دروازہ کھلا
”بھائی آ جاؤ۔ کیا کر رہے ہو یار؟ باہر لوگ ہیں۔
پینٹ کوٹ والے بابو نے سخت لہجے میں کہا۔ اس کے ساتھ ہی پوری قطار میں کچھ ایسی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں جیسے شہد کی مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں۔
”یہ کیا کرتے رہتے ہیں اندر جاہل؟ دو منٹ کا تو کام ہوتا ہے۔“
ایک ماڈرن سی آنٹی نے اپنے استری شدہ بال سیٹ کرتے ہوئے ”کام“ کے دورانیے کے متعلق اپنا تجربہ بیان کیا۔
”ابے بائی! اس بھ ***** آلے کو بول نکل بارررر۔“
ایک پتلو سا لونڈا پیور کراچی کے لہجے میں بولا۔
رفتہ رفتہ شور بلند ہوا۔
وہ اندر ان کے تیور دیکھ کر گبھرا گیا۔ اسی شدید غصہ آیا۔ اب کی بار جونہی کارڈ نکلا اس نے کچھ ایسے انداز سے کہ کسی کی نظر نہ پڑے ایسے انگلی کی ضرب سے واپس اندر دھکیلا، مشین نے واپس باہر پھینکا چاہا، مگر یہ انگلی سلاٹ پر رکھے کھڑا رہا۔ کمپیوٹر اور انسان میں لڑائی شروع ہو گئی۔ دو تین بار کی کوشش کے بعد کارڈ اندر گیا۔ چرر، کررررڈ کی آواز آئی اور اب کی بار باہر نہ نکلا۔ پھنس گیا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔ اس نے مشین کے ساتھ لگا فون اٹھایا اور بینک کو مطلع کرنے کے لئے فون ملا دیا۔ اتنے میں بینک کا ایک اہلکار بھی آ گیا۔
اس نے سکون سے دروازہ کھولا اور ہجوم کی طرف دیکھ کر بولا
”کارررڈ وچ پھنس گے۔ ہیلپ لین تے کال کیتی کھڑاں۔ اے بینک آلا بھرا وی آ گئے۔ ہالے ٹیم لگ سی۔ بئی مشین تے ونجو۔“
کارڈ بیچ میں پھنس گیا ہے۔ ہیلپ لائن کال ملائی ہوئی ہے۔ یہ بینک والا بھائی بھی آ گیا ہے۔ ابھی مزید وقت لگے گا۔ تم دوسری مشین پر جاؤ۔

