ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی باگڑی کمیونٹی کے مسائل


ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی باگڑی برادری پاکستان سمیت سندھ کے ہر ضلع میں رہائش پذیر ہے۔ باگڑی برادری پاکستان بننے سے لے کر آج تک سندھ بھر میں آباد ہے، باگڑی برادری کا رہنا سہنا، کھانا پینا اور ثقافت پاکستان میں بسنے والی دیگر برادریوں سے مختلف ہے۔ معاشرے میں باگڑی برادری کو کم ذات برادری سمجھا جاتا ہے، اس برادری کا مختلف چیزوں کی طرح لہجہ بھی مختلف ہے، جسے سمجھنے اور اپنے ذہن میں بٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

باگڑی برادری کس طرح اپنی زندگی بسر کرتی ہے آپ کو اندازہ ہے؟ صدیوں سے باگڑی برادری کا رہن سہن کا اپنا ہی روایتی انداز ہے، اپنی زندگی کے دوران مختلف مقامات پر ہجرت کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، ایسے لوگوں کو خانہ بدوش بھی کہتے ہیں۔ صدیوں سے سخت محنت اور مشقت کرنے کے باوجود ان کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، زمانے کے رنگ ڈھنگ تو بدل گئے لیکن باگڑی برادری آج بھی کس مپرسی کی حالت میں ہے۔ باگڑی برادری ایک سادہ طریقے اپنے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ باگڑی برادری کے مکانات کچے بنے ہوئے ہیں، اور ان گھر میں جھونپڑی نہ ہو تو ان کا گھر نامکمل لگتا ہے۔

باگڑی برادری ہر شہر میں آباد ہے۔ حیدرآباد میں دریا کے کنارے باگڑی برداری ایک طویل عرصے سے رہائش پذیر ہے، باگڑی برادری سندھ اور پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں آباد ہے، باگڑی برادری کے افراد زیادہ تر چھوٹے شہر یا گاؤں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ حیدرآباد حسین آباد میں آباد باگڑی برادری کے کئی خاندان نقل مکانی کر گئے۔ اب تک باگڑی برادری کے مطابق حسین آباد میں ڈیڑھ سو سے دو سو خاندان وہاں موجود ہیں۔ جو ایک پرسکون زندگی بسر کر رہے ہیں۔ باگڑی برادری کے مطابق ان کے لوگ چھوٹی قمیص اور گھیر کی شلوار پہننا پسند کرتے ہیں، باگڑی برادری کے گھر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ باگڑی برادری کے افراد ایک ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لگایا کرتے ہیں۔

ایچ آر سی پی حیدرآباد ریجن کی اسسٹنٹ کوارڈینیٹر غفرانہ آرائیں کا کہنا ہے کہ حیدرآباد اور اندرون سندھ میں آباد باگڑی برادری کافی مسائل کا شکار ہے۔ ان میں زیادہ تر کم عمری میں شادیاں کی جاتی ہے اور ان کی خواتین زیادہ تر روزی کماتی ہیں اور مرد خواتین کی نسبت کم کام کرتے ہیں۔ جبکہ معاشرے میں ان کو ایک عجیب نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ باگڑی قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد اکثر باغات کے ٹھیکے اٹھاتے ہیں اور زمیندار انہیں اپنا منافع نہیں دیتا ہے اوپر سے ان پر قرضہ نکال کر انہیں خاموش رہنے کے لیے دھمکاتے ہیں۔ کئی مقامات پر بااثر افراد انہیں جنسی طور پر زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔ جبکہ ضلع حیدرآباد اور دیگر شہروں میں ان کے جبراً مذہبی تبدیلی کی واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں، ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹرز ان کا علاج معالجہ بھی صحیح نہیں کرتے۔ کوئی مذہبی تنظیمیں راشن یا خیرات تقسیم کرتی ہیں تو ان کو غیر مسلم ہونے کی وجہ سے نظرانداز کیا جاتا ہے۔

باگڑی برداری کا نام باگڑی کیسے پڑا؟

باگڑی برادری کے مطابق پاکستان بننے سے پہلے باگڑی برادری کے لوگ باغوں میں کام کرتے تھے، اس لیے ان کے نام کے ساتھ باگڑی لگ گیا اور یہی ان کی شناخت کا سبب ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں ایک علاقہ باگڑ ہے وہاں سے آ کر سندھ میں آباد ہونے والے افراد کو باگڑی کہا جاتا ہے۔ اور معاشرے میں انہیں باگڑی برادری کے طور پر پہچانا اور پکارا جاتا ہے، اور وہ بھی بڑے فخر کے ساتھ اپنے آپ کو باگڑی کہلانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ باگڑی برادری کی مطابق اس وقت تک باگڑی برادری میں سرکاری ملازمت نہ ہونے کے برابر ہے جس کی تعداد آٹے میں نمک جیسی ہے۔ ایک سروے کے مطابق باگڑی برادری میں بیروزگاری اور مالی پریشانی کی وجہ سے تعلیم کی شرح 10 فیصد سے کم ہے۔

سروے کے دوران باگڑی برادری کی افراد نے بتایا کہ لوگ ہمارے لباس اور زبان کی وجہ سے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں اگر ہم کہیں کام کرنے یا ہوٹل میں جاتے ہیں تو وہاں لوگوں کا طرز عمل مختلف نوعیت کا ہوتا ہے، ہمیں کھانے پینے کے برتن دینے کے لیے ہچکچاہٹ کی جاتی ہے یا برتن الگ رکھے جاتے ہیں۔

باگڑی برادری کے افراد زیادہ تر کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں۔ باگڑی برادری کے افراد زیادہ تر کھیتی باڑی، اور سندھ اور اندرون سندھ میں زمیندار کے پاس کام کرتے ہیں۔ اور وہ سبزی و پھل کی خرید و فروخت اور ریڑھی لگا کر اپنا گزر سفر کرتے ہیں۔ باگڑی برادری کے افراد زیادہ تر ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہے، ان کا رہن سہن اور ثقافت بھی ہندو مذہبی روایت کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ تمام تہوار بھی اسی مذہبی جوش و خروش سے مناتے ہیں، غیر ترقی یافتہ ہونی کی وجہ سے باگڑی برادری احساس کمتری کا شکار ہے۔ باگڑی برادری اپنی کلچر کی مطابق اپنے اولاد کی شادی 10 سے 18 سال کی عمر میں کروا دی جاتی ہے۔ اس برادری سے تمام تر افراد سادی قسم کھانا پینا اور لباس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شلوار قمیص اور بزرگ خواتین پڑاہا پہننا پسند کرتی ہے۔ باگڑی برادری کے لوگ مختلف مخصوص دن پر ورت بھی رکھا کرتے ہیں۔

باگڑی برادری اور ان کے مسائل۔

باگڑی برادری کی ایک بزرگ لچھمن داس نے احساس محرومی کا شکار ہوتے ہوئے بتایا کہ دنیا میں کئی چھوٹی قومیں موجود ہیں مگر ہم اپنے آپ کو معاشرے کے مطابق چھوٹا سمجھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس جدید دور میں باگڑی برادری کے لوگ مسائل سے دوچار ہے۔ ہم پی پی پی کو ووٹ دینا پسند کرتے ہیں، یہاں ہم بہت پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ باگڑی برادری کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے۔ ہم سندھ کو اپنی ماں اور پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں زندگی بسر کرنا بڑا مشکل ہے۔ ہم سندھ کے اصل وارث ہیں، مگر حکومت اور ارباب اختیار کی عدم توجہ کی وجہ سے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حیدرآباد کے علاقے حسین آباد اور کمیونٹی کے متحرک نوجوان ساجن کا کہنا ہے ہمارے علاقے کے ایم پی اے جبار خان ہمارے مسائل حل کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے و پی پی کو ووٹ دیتے ہیں، مجموعی طور پر باگڑی برادری کافی مسائل کا شکار ہے ان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کو سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے چاہیے۔

باگڑی برادری کے لوگ اکثر نقل مکانی میں مصروف رہتے ہیں۔

باگڑی برادری اکثر جگہوں سے نقل مکانی کرتی رہتی ہے وہ ایک مخصوص جگہ پر کم رہتے ہیں۔ اگرچہ یہ معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ سماج میں انہیں خانہ بدوش اور بھکاری سمجھا جاتا ہے۔ اس برادری کے بچے ہوں یا بڑے، یا خواتین مگر محنت کش لوگ ہوتے ہیں، اس دور میں یہ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی باگڑی برادری اپنے آپ کو غیرمحفوظ سمجھتی ہے۔ باگڑی برادری کا ایک فورم بھی بنا ہوا ہے مگر وہ اپنی قوم تک ہی محدود ہے، حکومت کو اس اہم مسئلے پر توجہ دینی چاہیے اور باگڑی برادری کے بنیادی مسائل، تعلیم، روزگار اور صحت اور صفائی حل کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر منصوبہ بندی کرنی چاہیے کیونکہ باگڑی برادری اپنی ایک تاریخ اور ثقافت کی حامل ہے۔

Facebook Comments HS