ماچس، منی بجٹ اور موجاں ای موجاں


ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ ہم غریب نہیں ہیں۔ البتہ منی بجٹ کی پیشکش کے بعد اس اعلان کے ذریعے ہمیں آج ہی علم ہوا ہے کہ ہم غریب نہیں۔ کیوں کہ بقول وزیر خزانہ شوکت ترین کے بجٹ میں غریبوں کے استعمال کی اشیا مہنگی نہیں کی جا رہی ہیں۔

ہم چوں کہ ماچس استعمال کرتے ہیں اس لیے یہ بات سن کر چونک سے گئے، کیوں کہ ہم ماچس استعمال کرتے ہیں اور منی بجٹ میں ماچس پر بھی ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اور اس سے پہلے جو ہم خود کو کبھی نچلے تو کبھی بچلے (منجھلے ) یا پھر اچلے (اعلیٰ) درمیانہ طبقے کا فرد سمجھتے تھے، لیکن اب ہم کو پتہ چلا ہے کہ ہم امیر ہیں۔ کیوں کہ ہم ماچس استعمال کرتے ہیں۔

اور چوں کہ ماچس غریب استعمال نہیں کرتے اس لیے ماچس امارت کی نشانی ہے!

یہ بالکل اسی طرح کا فلسفہ جس طرح کا کہ رینے ڈیکارٹ نے لاطینی میں پیش کیا تھا کہ، ”کوگیٹو ارگو سم!“ جس کا انگریزی ترجمہ ”آئی تھنک دیئرفور آئی ایم“ کیا جاتا ہے اور اردو میں اس کا ترجمہ ”میں سوچتا ہوں لہذا میں ہوں“ کیا جا سکتا ہے!

اور پنجابی میں کہتے ہیں سوچیں پیا تے بندہ گیا۔

بات کچھ یوں ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی انصاف پرور حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرتے ہوئے تقریباً 150 اشیا پر سیلز ٹیکس کی مد میں ”رعایا“ کو دی گئی رعایت کو ختم کر دیا گیا ہے یا اس کی شرح 17 فیصد کر دی گئی ہے جس سے حکومت کو اپنے خزانے میں 343 ارب روپے اضافے کی توقع ہے۔ انہی اشیا میں نمک اور بہت سی چیزوں سمیت ماچس بھی شامل ہے جس کے بارے میں ہمارے وزیرخزانہ شوکت ترین صاحب سوچتے ہیں کہ اسے غریب استعمال نہیں کرتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ بھی ملکہ فرانس میری انٹونئیٹ جتنے ہی پرشکوہ اور سادہ لوح ہیں جو بدنام ہیں کہ انہوں کہا تھا کہ غریبوں کو روٹی نہیں ملتی تو وہ کیک کیوں نہیں کھاتے۔

اور پنجابی میں کہتے ہیں کہ بد نالوں بدنام برا!

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے پیش کیے گئے اس منی بجٹ کو غریب دوست وطن پرست زردار شریفوں یعنی اشرافیہ والی حزب اختلاف کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

بہت سے غریب پرور اور رقیق القلب رہنماؤں نے تو ان کے بقول اس ظالمانہ بجٹ سیشن میں شریک ہو کر اس کو سننا ہی گوارا نہیں کیا کہ ان سے یہ ظلم برداشت ہی نہیں ہو پاتا۔ جن میں مستقل طور پر بجٹ اجلاسوں سے غائب رہنے والے حزب اختلاف اور مسلم لیگ نون کے لیڈر شہباز شریف سمیت سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے ”شریک چیئرمین“ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری بھٹو بھی شامل ہیں۔

شہباز شریف تو حسب روایت اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، اور بلاول زرداری بھٹو شاید اپنے قول کے مطابق ان سے سابقہ بجٹ اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے کا سبب دریافت کرنے گئے ہوئے تھے اور جناب آصف زرداری جنہوں نے 27 دسمبر 2021ء کو محترمہ کی برسی میں اچانک شریک ہو کر عوام کو سرپرائز دیا تھا سو بجٹ اجلاس میں اچانک نہ شریک ہو کر لوگوں کو چونکانے میں کامیاب ہو گئے۔ بات یہ ہے کہ وہ کسی تقریب یا اجلاس میں شریک ہوں یا نہ ہوں بہرحال پیپلز پارٹی کے بلاشرکت غیرے شریک چیئرمین ہی رہیں گے۔

شہباز شریف اور آصف زرداری شریک چیئرمین وغیرہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے باوجود اپوزیشن کا مشترکانہ (مشترکہ + مشرکانہ) موقف ہے کہ یہ بجٹ ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دے گا۔ تاہم اپوزیشن کو یقین ہے کہ حزب اختلاف حکومت سے لاکھ اختلاف کرے لیکن حزب اختلاف اور حکومت کے شراکت داروں کو اس لہر سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا!

دفاعی ماہرین، سیاسی مبصرین اور دانشوروں کا خیال ہے کہ، ”شہباز شریف اس قسم کے اجلاس میں غیرحاضر خصوصاً بجٹ اجلاس سے عدم موجود اس لیے رہتے ہیں کہ بجٹ کی منظوری ریاست کے لیے ضروری ہے۔ “ اس کا مطلب کہ باقی لوگوں کی عدم موجودگی کا جواز بھی یہی ہے، کیوں کہ ریاست کے مفادات اور وفاداری کے سب ہی حلف بردار و حلیف ہیں۔ یہ اور بات کہ سیاسی حریف بھی ہیں۔

یوں یہ بھی ظاہر ہوا کہ جہاں ریاست سے وفاداری کے تحت حزب اختلاف کی بجٹ کی غیرعلانیہ حمایت لازم ہے وہیں سیاست میں اس کی مخالفت بھی ملزوم ہے۔ اور یہ بھی کے ریاست اور سیاست لازم و ملزوم نہیں۔

اگر یہی بات تھی تو پھر سب اچھی بات یہ تھی کہ اس اجلاس میں کوئی بھی نہیں ہوتا۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میں بار بار مارشل لا لگتا رہا ہے اور اجلاس و مجلس دونوں ہی برخاست ہوتے رہے ہیں۔

اور رہے عوام وہ دونوں کے بیچ میں ہیں سینڈوچ بنے ہوئے ہیں اور سینڈوچ بادشاہوں کی ایجاد کردہ و پسندیدہ چیز ہے۔

بہرحال وزیر خزانہ نے اس بجٹ سے غریب آدمی کے متاثر ہونے کے امکانات کو مسترد کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ چھوٹ درآمدی اشیا پر ختم کی گئی جو غریب آدمی استعمال نہیں کرتا۔ ہماری معلومات کی مطابق دالیں بھی درآمدات میں شامل ہیں۔ اور شوکت ترین صاحب کو پتہ ہے کہ غریب موجودہ دور میں دال بھی نہیں کھا رہے، اور اگر کچھ لوگ اب تک کھا بھی رہے تھے تو یہ بجٹ اس پر دال ہے کہ کوئی بھی غریب دال کھانے جو گا نہیں رہے گا! علاوہ ازیں کئی بار چینی اور گندم پہلے برآمد کی جاتی ہیں اور بعد میں درآمد، عموماً دونوں ہی صورتوں ‏میں غریب سوچتے ہیں کہ کھائیں یا نہ کھائیں؟

منی بجٹ کے بعد کتابیں مزید مہنگی جو جائیں گی۔ اور غریب ویسے ہی کتابیں نہیں پڑھتے۔ کتاب نہ پڑھنے والوں میں اکثریت ذہنی غربت کے شکار لوگوں کی ہوتی ہے، تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ لوگ اس لیے کتاب نہیں پڑھتے کہ وہ غریب ہیں یا اس لیے غریب ہیں کہ وہ کتاب نہیں پڑھتے!

باراک اوباما اور بل گیٹس جیسے امیر لوگ ہی کتابوں جیسی عیاشی افورڈ کر سکتے ہیں۔

یاد نہیں آ رہا لیکن کہیں سنا یا پڑھا تھا میاں محمد نواز شریف بھی کتابیں نہیں پڑھتے۔ شاید غریبوں سے یک جہتی کے اظہار کے لیے؟

البتہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نہ صرف کتابیں پڑھتی تھیں بلکہ کئی کتابیں لکھیں بھی۔ اصل میں ان کو باہر کی تعلیم اور اندر کے شعور نے بگاڑ دیا تھا شاید۔ حیرت ہے پھر بھی وہ غریبوں کی لیڈر سمجھی جاتی ہیں؟

نیوز پرنٹ پر اس لیے ٹیکس بڑھے گا کہ غریب لوگ اخبار نہیں پڑھتے۔ اور اکثر حکومتوں کی خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ لوگ اخبار نہ پڑھیں۔ اور موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ لوگ اخبار نہ ہی پڑھیں تو بہتر ہے۔ اس طرح سے نہ صرف لوگوں کے روزانہ دس بیس روپے بچ جائیں گے، جس کا و ہ سموسہ کھا سکیں گے، اور حکومت بھی بہت سارے مسائل سے بچی رہے گی۔

منی بجٹ منظوری کے بعد نمک بھی مہنگا ہو سکتا ہے۔ اس سے نمک کا استعمال کم ہونے کا امکان تو ہے نمک حرامی کا کچھ نہیں پتہ۔ بہت سارے امیر لوگ ویسے ہی نمک کا استعمال نہیں کرتے کہ بلڈ پریشر بڑھانے کا سبب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے کتنوں کو نہ تو نمک کی پرواہ ہے نہ ہی حرام اور حلال کی۔ اور بہت سے لوگ امیر بنتے ہی تب ہیں جب نہ نمک کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ ہی حلال و حرام کی تمیز۔ اب غریب لوگ بھی بہت سی دوسری اشیا کی طرح نمک کو چھوڑ سکتے ہیں اس کے بعد وہ جو چاہیں کریں کوئی بھی ان کو نمک حرامی کا طعنہ نہیں دے سکے گا، جب کہ نمک حلالی کی ضرورت بھی اوپشنل قرار پا سکتی ہے!

وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے منی بجٹ کے دفاع اور اس سے غریب آدمی کے متاثر نہ ہونے کے دعوے کو معیشت اور تجارت سے وابستہ افراد مسترد کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں وزیرخزانہ ان کو اور عوام کو تھمس اپ (انگوٹھا) اور وزیر اعظم وکٹری کا نشان دکھا سکتے ہیں۔ یعنی موجاں ای موجاں (ای موجیز) !

Facebook Comments HS