جام صاحب کا فلسفہ فیس بک


جام صاحب پر کبھی کبھی فلسفہ کا نزول ہوتا تھا اور وہ ایسی باتیں کرتے کہ واقعی فلاسفر محسوس ہوتے اور سننے والے ان کی دانائی پر عش عش کر اٹھتے۔ ایک دن ان پر فلسفہ کا نزول ہوا تھا قسمت کی یاوری تھی کہ ہم ان کے ساتھ تھے۔ بیٹھے بیٹھے فرمانے لگے کہ تم نے کبھی فیس بک پر غور کیا ہے؟ ہم نے جواب دیا استعمال کرتا ہوں، آج کے دور میں رابطہ کا موثر ذریعہ ہے۔ وہ فرمانے لگے تم ٹھیک کہتے ہو۔ بنیادی طور پر فیس بک کے موجد کے ذہن میں بھی یہی بنیادی باتیں ہونگی لیکن اگر تم گہرائی میں دیکھو تو یہ پوری زندگی کا فلسفہ بیان کرتی ہے۔ اس بات پر ہم چونکے اور کہا کہ یار جام تمہاری مذاق کی عادت نہیں گئی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ ثابت کرسکتے ہیں۔ ہم نے کہا کریں تو انہوں نے ارشاد کیا دیکھو
1) فیس بک آپ کو اپنے دوستوں کے انتخاب کی آزادی دیتا ہے۔ اس طرح زندگی بھی آپ کو فیصلہ کرنے کی آزادی دیتی ہے مگر یہ آزادی کبھی بھی مکمل نہیں ہوتی مثال کے طور پر فیس بک پر آپ کو وہی دوست ملتے ہیں جو آپ کے شہر کے، دوستوں کے دوست وغیرہ ہوتے ہیں یہی حال زندگی کا ہے۔ کہتے ہیں یہ پہلا سبق ہم نے فیس بک سے حاصل کیا ہے۔ ہم تو ان کی بات پر دنگ رہ گئے اور کہا کتنی عام سی بات سے انہوں نے خاص بات نکال لی ہے۔
2) دوسرا سبق فیس بک کی نیوز فیڈ سے حاصل کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ کو صرف وہی نظر آتا ہے جو آپ کے سامنے ہوتا ہے باقی سے آپ نا بلد ہوتے ہیں۔ فرمانے لگے کہ آپ اپنی زندگی میں جتنا بھی علم حاصل کرلیں آپ کا علم مختصر اور محدود ہے اس لیے یہ زندگی کے اس پہلو پر روشنی ڈالتی ہے۔
3) تیسرا سبق یہ ہے کہ آپ اپنی فیس بک پر اپنا بہتر رخ دکھاتے ہیں جو کہ آدھا سچ ہوتا ہے یہی بات زندگی میں ہے کہ آپ لوگوں کو صرف وہ رخ دکھاتے ہیں جو آپ دکھانا چاہتے ہیں۔ اس لیے فیس بک پر بری باتیں کم اور خوش کن لمحات شئیر کرتے ہیں۔ لیکن آپ کو دیکھنے والے لوگ اس کو پورا سچ مان لیتے ہیں یہی حال زندگی کا ہے۔
4) چوتھا سبق فیس بک سے یہ ملتا ہے کہ ہم اپنا اکاونٹ خود بناتے ہیں پر اس کے غلام بن جاتے ہیں۔ اس طرح زندگی میں بھی ہم اپنا ایک عکس بناتے ہیں اور ساری زندگی اس کی غلامی کرتے ہیں۔
5) فیس بک ہمیں ڈیلیٹ کرنے کی سہولت دیتا ہے اور دوستی ختم کرنے کی اور بلاک کرنے کی بھی، یہی سہولت ہمیں زندگی بھی دیتی ہے لیکن ہم زندگی میں اس کا استعمال بہت کم کرتے ہیں
6) فیس بک بتاتی ہے کہ ہم الیکٹرونک کی دنیا میں رہتے ہیں اور زندگی میں اپنی سوچوں میں کیا دونوں سچ ہیں یا صرف اک ہیولہ؟
جام صاحب کا فلسفہ فیس بک سن کر ہم تو اپنی انگلیاں چبانے لگے اور ہم سوچ رہے تھے کہ زندگی کے ہر پہلو میں سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے اور آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
Facebook Comments HS