2021: پسندیدہ 5 کتابیں جو میں نے پڑھیں

2021 میری زندگی میں مشکل ترین سالوں میں سے ایک رہا ہے, غروب ہوتا ہوا سورج بھی کچھ سکھا کے گیا, مشکل یوں تھاکہ اس سال کے پہلے دن میں نے خود کو کراچی سول اسپتال میں پایا. لیکن میرا موضوع آج دو ہزار اکیس کے تجربات نہیں بلکہ کتابوں کا ایک معمولی عاشق ہونے کے ناطے اپنے اس سال پڑھی گئی 5 کتابوں پر مختصراً بات کرنا ہے . اول اول میں نے دس کتابیں چن لی تھی لیکن طوالت کی غرض سے پانچ ہی پر اکتفا کیا جائے گا.
عموماً ہر سال 60 ,65 کتابیں پڑھتا ہوں اور اس سال کم بیش یہی تعداد رہی لیکن آج میں ان 5 کتابوں کے متعلق بات کروں گا جن کو آپ پڑھیں گے تو یقینا آپ کو بھی مزہ آئے گا. حالانکہ اس سال اردو لیٹریچر میں M.A کرنے کے بعد مجھے اردو لیٹریچر کا بہت سا مواد پڑھنا پڑا لیکن بہت کچھ اور بھی تھا.
1: پہلی کتاب ابولکلام آزاد کی "غبار خاطر ” تھی . 1942 میں جیل میں لکھی گئی احمد یار جنگ کے نام یہ خطوط مسحورکن ہیں. اور ہر تیسرے چوتھے جملے بعد شعر کیا کمال ہے بھائی. نثری اسلوب تو کیا کہنے آپ کی حیرت خاتمہ تک برقرار رہے گئی. ہیں خطوط لیکن فلسفہ زندگی سے لبریز. مثال کیلئے ایک اقتباس ملاحظہ کریں.
"زندگی بغیر کسی مقصد کے بسر نہیں کی جاسکتی۔ کوئی اٹکاؤ ، کوئی لگاؤ ، کوئی بندھن ہونا چاہیے جس کی خاطر زندگی کے دن کاٹے جا سکیں۔ یہ مقصد مختلف طبیعتوں کے سامنے مختلف شکلوں میں آتا ہے؛
زاہد بہ نماز و روزہ ضبطے دارد
سرمد بہ مئے و پیالہ ربطے دار
یہ کتاب اس طرح کی بہت سی انمول باتوں اور نظریوں سے پُر ہے جو زندگی کو جلا بخشتی ہیں.
2:دوسرے نمبر پہ کرشن چندر کی دو کتابوں کو رکھنا چاہوں گا چوں کہ دونوں کم و بیش ایک ہی پائے کی کتابیں تھیں. ایک” ایک عورت ہزار دیوانے” ایک خانہ بدوش لڑکی کی کہانی ہے کہ جس کی خوبصورتی اس کی دشمن بن بیٹھی ہے ہر کوئی اسے اپنانا چاہتا ہے لیکن ہوس کیلئے, لیکن ایک سچا پٹھان عاشق اس پہ دل ہار بیٹھتا ہے اور آخر کار عشق کی ہزاروں یہ داستانوں کی طرح یہ بھی ٹریجڈی بن جاتی ہے. دوسری کتاب ” دوسری برف باری سے پہلے ” ہے جس میں کرشن چندر کا قلم جوبن پر نظر آتا ہے. لالچ ,ہرس ,جنسی خواہشات کی زورآوری جیسی بہت سی مضامین کو خوبصورت پیرائے میں بیان کیا گیا ہے . کرشن چندر کہتے ہیں کہ ” اولوالعزم عورتیں جو زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی ہیں اپنی جنس سے وہی کام لیتی ہیں، جو مرد اپنی عقل سے لیتے ہیں۔ عورت اپنی جنس سے ایک ہتھیار کا کام لیتی ہے”.
3:تیسری کتاب "تدبر قرآن” ہے . ہر رمضان تفاسیر اور احادیث کی کتابوں کا رخ کرتا ہوں تو پچھلے دو رمضان تدبر قرآن کے 4جلدیں پڑھی تھی اس رمضان ایک ہی پڑھ پایا. تدبر قرآن امین احسن اصلاحی کی 9 جلدوں پر مبنی تفسیر ہے جس کو لکھنے کیلئے اصلاحی صاحب نے 55 سال صرف کئیے. فکر فراحی کے داعی اصلاحی کی تفسیر کا خاصہ نظم و ارتباط قرآن ہے جو جدید دور کے تقاضوں کے طور پر ہم آہنگ ہے اور بہت سارے مشتشریقین کا جواب بھی ہے .
4: چوتھی کتاب فلسفہ خوشامد ہے . یہ کتاب مشہور صحافی اور پروفیسر وارث میر کے کالموں کا مجموعہ ہے . وارث میر بے باک صحافی حامد میر صاحب کے والد محترم تھے. انھوں نے یہ کالم ضیا دور میں لکھے تھے. فلسفہ خوشامد آپ کو کالم پڑھنے کا گرویدہ بناتا ہے اور بتاتا ہے کہ ایک کالم نگار کو کیسا ہونا چاہئے. انھی کالموں کی پاداش میں وارث میر صاحب کو بے بہا مصیبتیں جھیلنی پڑیں.
5:پانچویں کتاب چار درویش اور ایک کچھوا ہے جس کے مصنف سید کاشف رضا ہیں. مضبوط کرداروں کے گرد گھومتی یہ کہانی بے نظیر کے سانحہ کارساز اور سانحہ لیاقت باغ کے گرد گھومتی ہے لیکن ایک اچھوتے پیرائے میں جس میں مصنف انتہاپسندی, فرقہ واریت اور جنس کے متعلق بہت ہی اچھوتے انداز میں گفتگو کرتے ہیں. کرداروں میں ایک کردار کچھوا بھی ہے جو بڑا ہی شاندار کردار ہے. محمد حنیف کے ناول ریڈ برڈ کی یاد دلاتا ہے. ناول کردار , پلاٹ اور دوسرے فنی محاسن میں اپنی مثال آپ ہے.
ان پانچ کے علاوہ بھی دو اور بہترین کتابیں تھیں لیکن وہ کسی اور دن اگلا بلاگ ان میں سے کسی ایک پہ ہوگا.
Facebook Comments HS

