سیاسی اسلام کا مستقبل
طاقت کے زور پر افغانستان پر مسلط ہونے والے طالبان کے اسلامی نظام نے اپنے کرشمے دکھانا شروع کر دیے ہیں کہیں ڈمیز کے سر قلم کیے جا رہے ہیں تو کہیں داڑھی نہ کٹوانے کے احکامات صادر کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ بھوک و افلاس کے شکار 23 ملین عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے طالبانی اسلامی نظام کا دامن سرے سے خالی ہے طالبانی اسلامی نظام کا انسانی مسائل کے حل سے تعلق تھا ہے اور نہ کبھی ہو گا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ طالبانی یا اسی طرح کے دوسرے نظاموں نے انسانوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے ہمیشہ انہیں مشکلات اور مصائب سے ہی دوچار کیا ہے۔ اسلام کے نام پر سیاست کرنے والی تحریکوں اور گروہوں کا کیا انجام ہو گا اس حوالے سے کیے گئے مطالعہ کا نچوڑ قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
اسلامی حکومت کے قیام کی خواہاں اسلامی تحریکیں معاصر تاریخ کا نو مولود فنامنہ ہیں۔ قرون وسطی میں ایسی تحریکوں کا سراغ نہیں ملتا۔ سولہویں صدی کے بعد عالمی سطح پر اقتصادی، صنعتی، اور اجتماعی میدان میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کا اسلامی سیاسی تحریکوں کی پیدائش میں اہم کردار ہے۔ عالم اسلام مذکورہ تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہ کر سکا تو سنجیدہ چیلنجز نے سر اٹھایا۔ عباسی اور عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کی سیاسی اور اقتصادی طاقت جاتی رہی جس کے نتیجے میں اسلامی دنیا میں مسلمانوں کی شناخت کا بحران پیدا ہوا۔
دوسری طرف عالمی سطح پر یورپ کو عسکری، سیاسی، اقتصادی اور صنعتی میدان میں برتری حاصل ہوئی۔ عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے زیر اثر انیسویں صدی میں یورپ میں سیاسی تحریکیں اور پارٹیاں وجود میں آئیں تو ان کی تقلید میں اسلامی دنیا میں بھی بہت سی اسلامی تحریکوں نے جنم لیا جن میں سے اکثر کا ہدف خلافت اور اسلامی حکومت کا قیام تھا۔ اس دور میں مسلمان سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں کی فکر کا مرکز یہ نقطہ تھا کہ یورپ موجودہ ترقی تک کس طرح پہنچا ہے؟ اور مسلمان کن وجوہات کی بنا پر زوال کا شکار ہوئے ہیں؟
ان سوالوں پر سوچنے کے بعد عالم اسلام کے فکری رہنماؤں نے مسلمانوں کو مشکلات سے نکالنے کے لئے مختلف راہ حل پیش کیے ۔ کچھ کا کہنا تھا کہ اگر مسلمان مشکلات سے نکل کر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اسی راستے پر چلنا ہو گا جس راستے پر چل کر یورپ ترقی تک پہنچا ہے۔ ان کا نقطہ نظر تھا کہ مسلمان جدیدیت کی مخالفت کی بجائے خود کو اس میں ڈھالیں تب ہی جا کر ترقی کر سکتے ہیں۔ ان فکری رہنماؤں میں مصر سے رفاعہ طھطاوی، ، طہ حسین، ترکی سے عثمانی ترک جوان، ایران سے امیر کبیر اور ہندوستان سے سر سید احمد خان کے نام قابل ذکر ہیں۔
کچھ اور لوگوں کا خیال تھا کہ مسلمانوں کے زوال کا سبب فکری انحراف ہے۔ ان کے نزدیک دینی فکر کی اصلاح ہی مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل ہے۔ اس فکر کے سرخیل سید جمال الدین افغانی تھے۔ شیخ محمد عبدہ، رشید رضا بھی اسی نقطہ نظر کے قائل تھے۔ اس فکری رجحان نے تقریباً تمام اسلامی تحریکوں پر سب سے زیادہ اثرات چھوڑے۔
شناخت کے بحران اور مشکلات میں نیشنل ازم کے حامی فکری رجحان نے بھی جنم لیا اس فکری رجحان کے لوگوں کا کہنا تھا یورپ کی تمام تر ترقی کا راز نیشنل ازم اور قومی حکومتوں کا قیام ہے۔ یورپ میں ترقی کے راستے تب کھلے جب کلیسا کی عالمی حکومت کا خاتمہ ہوا اور ثقافت و زبان کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی قومی حکومتوں نے جنم لیا۔ اسی فکر کی بنیاد پر عثمانی سلطنت میں عرب نیشنل ازم کی تحریکوں نے سر اٹھایا۔ ہندوستان کی تحریک آزادی، مسلم لیگ کا قیام ایران کا آئینی انقلاب بھی اسی فکری رجحان کے عملی نمونے تھے۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں وجود میں آنے والی تقریباً تمام اسلامی تحریکوں نے ابتدا میں جدیدیت بالخصوص جمہوریت کی مخالفت کی، ان میں سے کچھ تحریکوں نے بعد میں جمہوری جدوجہد کا راستہ اپنا یا۔ اس حوالے سے اخوان المسلمین کی مثال دی جا سکتی ہے۔ ، اس تحریک کے رہنما سید قطب نے پوری دنیا کو دار الحرب قرار دیا اور صرف اسی خطے کو دارالاسلام قرار دیا جہاں اسلامی حکومت قائم ہو۔ انہوں نے، مسلمانوں کے لئے، ”دارالحرب“ کے خلاف جنگ کرنا، فرض قرار دیا۔ اخوان المسلمین کے راسخ العقیدہ لوگ انتخابات کو حرام سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود عالمی سطح پر تنہائی کے خوف سے اس تحریک کو جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے 80 کی دہائی میں باقاعدہ انتخابات میں حصہ لینا پڑا۔
”اسلام ہی تمام مسائل کا حل ہے“ کا نعرہ لگانے والی اسلامی تحریک اخوان المسلمین کو 2012 میں مصر میں حکومت بنانے کا موقع ملا۔ جبکہ 2011 میں تیونس میں نسبتاً معتدل سمجھنی جانے والی اسلامی تنظیم ”النھضہ“ کو بھی اقتدار میں شرکت کا موقع ملا۔ اخوان المسلمین اور النھضہ کے رہنماؤں نے اقتدار میں آنے کے لئے نعرہ لگایا تھا کہ الیکشن جیت کر نا صرف عوامی فلاحی حکومت قائم کریں گے بلکہ ملک میں آزادی اور جمہوریت کے فروغ کے لئے بھی اقدامات اٹھائیں گے۔
لیکن اقتدار میں آنے کے بعد دونوں اسلامی تحریکیں حکومت چلانے میں بری طرح ناکام ہوئیں تیونس میں النھضہ نے کسی حد تک روایتی شدت پسندی سے احتراز کرتے ہوئے سیکولر طبقات کے ساتھ تعاون کیا لیکن مصر میں اخوان نے حکومت سازی میں تمام جمہوری گروہوں کو حکومت میں شرکت سے محروم رکھتے ہوئے مذہبی شدت پسند عناصر کی حمایت کی۔ جس کے نتیجے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی آڑ میں مصریوں کے شہری حقوق کو پامال کیا گیا۔ عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے کی بجائے حکومت کا ہم و غم عوام کی اخلاقی و مذہبی تربیت کرنا رہ گیا۔
النھضہ کی حکومت 2013 جبکہ اخوان حکومت 2014 تک اپنا وجود برقرار رکھ سکی۔ اہم یہ نہیں کہ یہ حکومتیں کیسے ختم ہوئیں بلکہ اہم یہ ہے کہ سیاسی اسلام کی نمائندہ ان حکومتوں نے اپنے اپنے دور میں وہ کون سے کارنامے انجام دیے جو دوسری اسلامی سیاسی تحریکوں کے لئے نمونہ عمل بن سکیں یا ان کارناموں کو دنیا کے سامنے رکھا جا سکے۔ بد قسمتی سے اس حوالے سے دونوں کا دامن قابل ذکر کسی کارنامے سے خالی ہے۔
النھضہ اور اخوان اسلامی اصولوں کی روشنی میں انصاف کی فراہمی، انسانی حقوق کی رعایت، شہری آزادیوں اور احترام انسانی کی حفاظت میں ناکام رہیں۔ ایک صدی کا تاریخی پس منظر رکھنے والی اخوان المسلمین کی عملی میدان میں ناکامی در حقیقت اس تحریک کے دینی سیاسی بیانیے کی ناکامی تھی۔
سوڈان میں بھی اسلام پسندوں کی حمایت سے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے 1989 میں قائم ہونے والی حکومت ناکامی کی بدترین مثال ہے جس نے 30 سالوں میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالی کی اسی حکومت میں سوڈان دو حصوں میں تقسیم ہوا بدترین معاشی حالات کی وجہ سے یہ حکومت بھی 2019 میں ختم ہو گئی۔ اسلام پسندوں کی مذکورہ حکومتوں کی ناکامی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ یہ تحریکیں مستقبل میں ہر طرح کا اثر کھو دیں گی یا سیاسی اسلام کا مستقبل اسلام کے نام پر قائم ہونے والی حکومتوں کے دوام پر منحصر ہے۔ شدت پسندانہ رویہ سے احتراز برتنے والی کچھ تحریکوں کو ممکن ہے کچھ عرصہ جمہوریت کے سائے میں پناہ مل جائے جبکہ شدت پسند تحریکیں بھی شدت پسندی کے کاروبار کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھیں گی۔
پولیٹیکل اسلام کے مستقبل پر قلم اٹھانے والے اولیویہ رائے کا کہنا ہے کہ سیاسی اسلام نے در حقیقت جدیدیت کی کوکھ سے جنم لیا ہے اس کے زندہ رہنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ جدیدیت کو قبول کر لے۔ سیاسی اسلام اب تک کوئی مکمل سیاسی نظام پیش کرنے سے قاصر رہا ہے۔ اقتصادی نظام سیاسی اسلام کے لئے بڑا چیلنج ہے مسلمان اب تک سوشلسٹ اور سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان گھوم رہے ہیں۔ اسی طرح گراہم فولر کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بھی اسلامی ملک نے جامع، سیاسی نظام متعارف نہیں کروایا۔
ایک بات تو طے ہے کہ جب تک مسلم ممالک میں بد نظمی، غربت، پسماندگی، استبداد، کرپشن اور امریکا جیسے طاقتور ممالک کی مطلق العنان حکمرانوں کی حمایت جاری رہے گی۔ مختلف شدت پسند گروہ موجود رہیں گے یا پھر وجود میں آتے رہیں گے اسی طرح نسبتاً غیر متشدد گروہ بھی نفاذ شریعت کے نعرے کے ساتھ عالم اسلام کی ایک آبادی کی حمایت کے ساتھ فعال رہیں گے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی اسلام کے علم بردار گروہوں کے مستقبل کا دار و مدار عوامی حمایت اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ سیاسی اصولوں کے مطابق خود کو ڈھالنے پر منحصر ہے۔ القاعدہ، طالبان اور داعش جیسے شدت پسند گروہوں کو کبھی عوامی حمایت حاصل تھی نہ آئندہ ہو سکے گی دہشت و وحشت کے زور پر ان گروہوں کا سفر دائروں کی شکل میں جاری رہے گا طالبان کی مثال سامنے ہے جو اپنی پانچ سالہ حکومت کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر اسلام کے نام پر افغانستان پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔
ان کے پاس حکومت چلانے کا کوئی واضح نظام موجود ہے نہ ان کو کسی بھی طرح کی عوامی حمایت حاصل ہے طالبان کی واحد صلاحیت! تشدد ہے اگر عالمی سطح پر طالبان کو قبول نہ کیا گیا تو پھر یہ لوگ اسی صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان کو دنیا بھر کے شدت پسند گروہوں کی آماجگاہ بنا دیں گے جس کے نتیجے میں شدت پسندی کی چنگاریاں کچھ ممالک میں پہنچیں گی تو دنیا کا افغانستان کی صورت حال سے لا تعلق رہنا نا ممکن ہو جائے گا اور شاید کسی امریکا کو افغانستان سے طالبان کا قبضہ چھڑوانے کے لئے میدان میں کودنا پڑے۔


