کرونا اور کسانوں کی من مانیاں


ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں حکمران مودی جی سرمایہ داروں اور شہری طبقات کی آنکھ کا تارا ہیں ان کو اقتدار میں لانے کے لئے درد دل رکھنے والے سرمایہ داروں نے پیسہ پانی کی طرح بہایا ہے۔ ان کا امیج سیکولر ازم کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہندو دھرم کے مسیحا کے طور پر بنایا گیا وہیں پر انڈیا میں غربت کی جگہ خوشحالی لانے کے ان کے پروگرام کی خوب چرچا کی گئی۔ بتایا گیا کہ انڈیا مودی کے اقتدار میں آتے ہی ناقابل تسخیر ہو جائے گا۔

پاکستان اور چین جیسے ازلی دشمن تو ان کا نام سن کر سہمے پھریں گے یا ضرورت پڑی تو مودی سنسکرت کی پرانی کتابوں میں دیے گئے فارمولوں سے اس طرح کے میزائل بنائیں گے کہ دنیا بھارت کو نہ صرف ساؤتھ ایشیا بلکہ سالم ایشیا بلکہ پوری دنیا کی ایک سپر پاور مان لے گی بھارت کے منت ترلے ہوں گے کہ وہ اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت لے لے بلکہ سلامتی کونسل کا تاحیات صدر بن جائے یہ کام کانگریس کے نالائق لیڈرز ستر سال تک نہ کر سکے بلکہ بی جے پی کے ایڈوانی اور واجپائی بھی اس قابل نہ تھے کہ بھارت ماتا کی عظمت دنیا سے منوا سکیں۔ اور ہندو دھرم کی برتری ثابت کر پائیں۔

مودی جی نے اقتدار میں آتے ہی اپنے بڑے بڑے منصوبوں پر کام شروع کیا، بڑے بڑے سرمایہ کار جو پہلے ہی ان کی شخصیت کے سحر میں جکڑے تھے انھوں نے ان کی قیادت میں بڑے بڑے ڈیم بڑے بڑے میٹرو اور موٹر ویز اور بڑی بڑی کالونیاں بنانا شروع کیں۔ انھوں نے مودی کو بتایا کہ غربت کو مٹانے کے لئے یہ منصوبے ضروری ہیں ان منصوبوں کے لئے درکار لاکھوں ایکڑ کی زرعی زمینیں کسانوں سے لے کر ان کو فیکٹریوں اور شہروں کی طرف دھکیلا جانا بھی ضروری ہے ورنہ فیکٹریوں اور میٹروز بنانے کا فائدہ کیا ہو گا۔

پھر ان کی نظر ان غربت کے مجسم کسانوں کو دی جانے والی سبسڈیز پر پڑی یہ تو مودی کے نظریے کے خلاف تھا کہ کسانوں کو سستی بجلی دی جائے، سستی کھاد دی جائے، سستے بیج اور خواہ مخواہ کی سپورٹ پرائس مقرر کی جائے۔ یعنی جتنی پیداوار ہوگی گورنمنٹ ایک مقررہ ریٹ پر خریدنے کی پابند ہو گی۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟ ایک دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت جس کو اپنے لئے بہت بڑے بڑے منصوبوں کی ضرورت ہے اپنے آپ کو دنیا کی سپر پاور بنانے کے لئے جدید ترین طیاروں اور میزائلوں کی ضرورت ہے وہ ان شیشم کے درختوں کی چھاؤں کے نیچے بیٹھ کر حقے پینے اور گپیں ہانکنے والوں کے لئے اپنا قیمتی سرمایہ لٹاتی پھرے اور مودی کو مہان وزیراعظم بنانے والے محب وطن سرمایہ دار اس بہت بڑے شعبے کو حرص بھری نگاہوں سے دیکھ کر آہیں بھرتے رہیں اور ان کھیتوں کو اپنی چراگاہ نہ بنا پائیں۔

اب مہان مودی نے ان نکمے کسانوں کی من مانیاں ختم کرنے کی ٹھان لی ہے لو نیا قانون پاس ہو گیا۔ اب حکومت اور سرمایہ دار مل کر کسانوں کے بل کس نکالیں گے۔ ان سے تہتر سالوں کا حساب لیا جائے گا۔ اب ان کو بھی یوریا اور ڈی اے پی کھاد مہنگی ملے گی اور قطاروں میں کھڑے ہو کر ملے گی جیسے ہمسایہ ملک کے کسانوں کو مل رہی ہے۔ اب ان کو بجلی کی پوری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اب ہمسایہ ملک کی شوگر ملوں کی طرح یہاں بھیشوگر ملوں کی مرضی ہوگی کہ گنا کی کیا قیمت دینی ہے اور کتنے سال ان کے پیسے روکنے ہیں۔

اب ان کی گندم کھیتوں سے زبردستی اٹھا لی جائے گی۔ اب نہ ان کو شیشم کی ٹھنڈی چھاؤں یاد رہے گی نہ ان کے حقے گڑگڑا پائیں گے۔ اب نیا دور ہے ان کونیا لائف اسٹائل اور نئے طور طریقے اپنا نا ہوں گے۔ اب دیہاتوں میں بھی مارکیٹ اکانومی چکے گی۔ لیکن بھارت کا کسان اتنا بڑا گستاخ ہو چکا ہے۔ گنوار کسانوں کے ٹریکٹر جدید ترین شہروں کی تمام ڈیجیٹل سیکورٹی رکاوٹوں کو عبور کرتے مودی کے محل کے سامنے تک گھس آئے۔ شدید سردی میں اپنی مراعات دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ڈھیٹ بن کر بیٹھ گئے ہیں ایک سال ہو گیا ہٹنے کا نام نہیں لے رہے۔ پوری دنیا میں ہمارے مہان وزیراعظم کی ہتک کروا دی جو پہلے ہی ابھی نندن اور وادی گلوان میں ہندی سورماؤں کی چھترول سے دل گرفتہ تھے۔ کسانوں کو ہمسایہ ملک کے کسانوں سے ہی کچھ شرم حیا ادھار لے لینی چاہیے جنہوں نے سرمایہ داروں کے خلاف آج تک اف نہیں کی۔ کبھی ایک دن سے زیادہ احتجاج نہیں کیا۔

حیف مہان مودی کے عظیم کاموں میں روڑے اٹکانے کے لئے اچانک کرونا ہندوستان میں وارد ہوا۔ مودی جی کی تمام تر کارروائیوں اور تقریروں کے باوجود کرونا اپنی من مانیوں پر اتر آیا، ایک ایسا وقت آیا کہ دلی ممبئی اور مدراس میں ہسپتالوں میں بستر مہیا نہ تھے آکسیجن ختم تھی اور مردوں کو جلانے اور دفنانے کے لئے زمین کم پڑ گئی۔ کرونا نے تو مودی جی کے بھکشوؤں کو بھی نہ بخشا۔ ان کے مذہبی تقدس تک کو پامال کر ڈالا۔ مودی جی کے ناقابل شکست ہونے کا تاثر تک ختم کر ڈالا۔

یہ وہ لمحات تھے جب مودی جی طویل مراقبے میں چلے گئے۔ ہمارا ماننا ہے کہ دس سال میں اگر ہندوستان ایسے نہیں بن پاتا جس طرح مہان لیڈر چاہتے تھے تو مودی جی کو کم ازکم دس سال اور ملنے چاہئیں کہ یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ یہ تو عظیم لیڈر کی مہربانی ہے کہ وہ دن رات اپنے ملک اور اس کی عوام کے بارے سوچ سوچ کر ہلکان ہوتے رہتے ہیں، ورنہ اگر وہ چاہتے تو کسی بھی پوش ایریا میں ایک بہترین چائے خانہ بنا کر لاکھوں کروڑوں کما سکتے تھے مگر یہ کسان تو بالکل ہی نا شکرے ہیں، ابھی تو چین اور پاکستان نے ڈرنا باقی تھا ابھی تو سلامتی کونسل کی مستقل نشست ملنی تھی، ابھی تو ہندوستان نے دنیا کی امامت کرنی تھی۔ قصہ مختصر یہاں مودی کے مہان پروگرام کو کرونا نے اور کسانوں نے برابر پامال کیا ہے۔ جبکہ بارڈر کے پار کرونا بھی خاموش اور کسان بھی خاموش۔ یہ کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments