مونی کے جنگی کارنامے

سب سے پہلے تو آپ پر یہ واضح کرتا چلوں کہ جن صاحب کا ذکر اس تحریر میں ہونے جا رہا ہے، یہ مونی ہیں وہ مودی نہیں ہیں جنہوں نے احمد آباد میں کئی برس چائے کا کھوکھا کامیابی سے چلا کر خود کو عالمی لیڈر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ نہیں جناب! ہمارے مونی نہ کبھی نقلی پتی بیچنے کے دھندے میں پڑے، نہ ہی انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ خلائی راکٹ بنانے کا فارمولا مہابھارت کے

Read more

پرانے زمانے کے بابے اور معصوم عاشق

پرانے زمانے کی باتیں سن کر کبھی کبھار ایسا لگتا ہے جیسے اس وقت ہر طرف محبت ہی محبت تھی، لوگ دودھ اور شہد کی نہریں بہا رہے تھے، اور سب کے سب اتنے سادہ اور ایماندار تھے کہ اگر کسی نے رستے میں گرا ہوا سونا بھی دیکھا تو اٹھانے کی بجائے جاکر اعلان کرواتا تھا، ”بھائیو! ، یہ کسی کی امانت پڑی ہے، اللہ کے واسطے کوئی ایماندار بندہ اسے اس کے مالک تک پہنچا دے۔“ مگر حقیقت

Read more

مصری کا ڈبہ۔ ایک پراسرار داستان

ہم نے جب سے ہوش سنبھالا، چاچا مصری کو ہمیشہ بزرگ ہی دیکھا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ چالیس سال گزرنے کے بعد بھی وہ بالکل ویسے ہی بزرگ ہیں۔ یہ وہ بزرگ ہستی ہیں جن کے بارے میں مؤرخین آج تک تحقیق کر رہے ہیں کہ آخر زمان و مکان کے کس پیچیدہ حادثے نے انہیں ”چاچا“ بنا کر قبل از وقت بزرگوں کے کلب میں شامل کر دیا تھا۔ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی

Read more

سکندرِ اعظم: فاتحِ عالم؟ مقامی مورخین کی نظر میں

برصغیر میں کشمیر سے لے کر ٹھٹھا تک جس علاقے کی بھی مقامی تاریخ پڑھیں تو اس میں آپ کو لکھا ہوا ملے گا کہ سکندر مقدونی ہمارے علاقے میں بھی آیا تھا اس نے ایک بڑا حملہ کر کے ہمارے علاقے کو بھی فتح کرنے کی کوشش کی تھی، مگر ہمارے قصبے والوں نے وہ وہ قربانیاں دیں اور مزاحمت کی ایک ایسی داستان رقم کی کہ سکندر کو ایک زبردست شکست کھانی پڑی، بلکہ اس کو دوبدو لڑائی

Read more

عفیفہ کے لیے پیپرز کی تیاری کے تیر بہدف مشورے

امتحانات کی تیاری ایک سنجیدہ کام ہے، مگر سنجیدگی انسان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس لیے عفیفہ اور ان جیسے تمام ذہین و فطین طلبہ کے لیے پیش خدمت ہیں چند ایسے نادر و نایاب ”امتحانی گُر“ ، جو نسل در نسل کامیاب طلبہ آزماتے آئے ہیں! 1: نیند پوری کرنا۔ کیونکہ نیند ہی زندگی ہے! سب سے پہلا اور اہم اصول یہ ہے کہ جیسے ہی پیپرز قریب آئیں، نیند پوری کرنے کا سنہری موقع ہاتھ

Read more

عفیفہ اور شاعرِ مشرق: ایک معصومانہ عقیدت کی داستان

  عفیفہ کے سب سے پسندیدہ شاعر علامہ اقبال ہیں۔ وہ بچپن میں سمجھتی تھیں کہ شاید علامہ اقبال نے شاعری کے کسی عالمی مقابلے میں ایشیا کے تمام شاعروں کو شکست دے کر ”شاعرِ مشرق“ کا ٹائٹل جیتا ہو گا۔ جیسے کوئی پوئٹری اولمپکس منعقد ہوا ہو، جس میں چین، جاپان، ایران، منگولیا اور ہندوستان وغیرہ کے شاعروں نے پسینہ بہایا ہو، مگر آخر میں علامہ اقبال کو سونے کا تمغہ مل گیا ہو، مگر ایک دن ان کی

Read more

دسمبر، شاعری، اور مونی بھائی کی کانپتی ہوئی محبت

جیسے ہی دسمبر آتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے سوشل میڈیا پر شاعروں کی کوئی بین الاقوامی کانفرنس شروع ہو گئی ہو۔ فیس بک، ٹویٹر، اور انسٹاگرام پر ہر طرف ”دسمبر اور جدائی“ کا نوحہ سنائی دیتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے یہ مہینہ صرف بچھڑنے، ٹوٹنے، اور اداس ہونے کے لیے بنایا گیا ہو۔ ہمارے دوست مونی بھائی اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں۔ عام دنوں میں ان کے اندر شاعری ایسے غائب رہتی ہے جیسے چاند گرہن میں

Read more

مونی صاحب کا نئے زمانے پر عدم اعتماد: کچھوا، سائیکل اور نوکیا 3310

یہ دنیا ترقی کی راہ پر سرپٹ دوڑ رہی ہے، مگر مونی صاحب اب بھی پرانے وقتوں کے عاشق اور نئے دور کے کٹر دشمن ہیں۔ ان کے مطابق ہر نئی ایجاد اصل میں قیامت کی نشانی ہے، اور ہر بدلتی ہوئی چیز شیطان کی چال! دنیا چاند پر پہنچ گئی، لیکن مونی صاحب اب بھی کچھوے کے فلسفے پر کاربند ہیں۔ ان کے نزدیک جو بندہ کم چلے، زیادہ کھائے اور آرام کرے، وہی کامیاب ہے۔ کچھوا ان کا

Read more

نسیم حجازی کے ہیروز اور آج کے زیروز

ہمارا ماننا ہے کہ اگر آپ نے زندگی میں کبھی نسیم حجازی کے ناول نہیں پڑھے، تو سمجھیں کہ تاریخ، رومانس، اور فزکس کے قوانین سے مکمل ناآشنا ہیں۔ آج کی نسل جو ”ارطغرل“ دیکھ کر اپنے اجداد کے ماضی کے کارناموں پر حیرت زدہ ہے، اگر کبھی نسیم حجازی کے ناول پڑھ لیتی، ان کے ہیروز کو اپنا آئیڈیل بنا لیتی تو یقین مانیں، یہ بستر پر لیٹے لیٹے دشمن کے کئی قلعے فتح کر چکی ہوتی اور ان

Read more

عفیفہ کا دورہ پاکستان

  اتفاق سے جن دنوں بھارتی لیڈر نریندر مودی نے امریکہ کا دورہ کیا اور ملالہ یوسف زئی برازیل کا دورہ مکمل کر کے واپس برطانیہ پہنچ چکی تھیں انہی دنوں میں ایک اور مشہور شخصیت عفیفہ میٹرک کے پیپرز دینے کے بعد چھٹیاں گزارنے پاکستان تشریف لے آئیں۔ عفیفہ کئی سالوں کے بعد اپنے مادر وطن تشریف لا رہی تھیں اور ان کو پورا یقین تھا کہ اب پاکستان کے اور ساہیوال کے حالات بدل چکے ہیں۔ دو تین

Read more

سیاسی بحران، اعلی عدلیہ اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کردار

موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں پاکستان سیاست میں ایک بھونچال کی صورتحال رہی ہے۔ موجودہ حکومتی اتحاد پی ڈی ایم اور سابقہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف میں سیاسی تلخی آخری حدوں کو چھوتی نظر آئی ہے۔ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ جس طرح دست و گریبان ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے آئین اور قانون کو روندنے سے بھی گریز نہیں کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں عدلیہ پر ایک بہت

Read more

کرونا اور کسانوں کی من مانیاں

ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں حکمران مودی جی سرمایہ داروں اور شہری طبقات کی آنکھ کا تارا ہیں ان کو اقتدار میں لانے کے لئے درد دل رکھنے والے سرمایہ داروں نے پیسہ پانی کی طرح بہایا ہے۔ ان کا امیج سیکولر ازم کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہندو دھرم کے مسیحا کے طور پر بنایا گیا وہیں پر انڈیا میں غربت کی جگہ خوشحالی لانے کے ان کے پروگرام کی خوب چرچا کی گئی۔ بتایا گیا کہ انڈیا

Read more

امریکہ کیسے مانے گا؟

ابھی حال ہی میں طالبان وزیر خارجہ کا بیان سامنے آیا ہے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ ایسا کیا کریں کہ امریکہ بہادر انہیں تسلیم کر لے۔ چونکہ افغان بھائیوں سے ہمارے تاریخی، مذہبی، نسلی، معاشی، دفاعی اور پتہ نہیں کون کون سے تعلقات سالوں صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ ہماری قوم کو ماضی قریب میں مکئی کی سستی بھنی ہوئی چھلیاں، خالص چرس اور پانچ سو والے قالین ہمارے یہی افغان بھائی ہی

Read more

ٹیپو سلطان – جنگ آزادی کا اولین ہیرو

اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی جس کا آغاز ایسٹ انڈیا کمپنی کے مسلمان اور ہندو سپاہیوں کی بغاوت سے ہوا۔ اس کو غیر متنازعہ طور پر ہندوستان کی آزادی کی پہلی جنگ قرار دیا جاتا ہے۔ بھارت کی بنیاد پرست بھارتیہ جنتا پارٹی نے برصغیر کی تاریخ کو اپنی خواہشات اور اپنے ہندو توا نظریہ سے زبردستی ہم آہنگ کرنے کے لئے دوبارہ سے لکھنا شروع کر دیا ہوا ہے۔ حال ہی میں وہاں سے ایک خبر آئی ہے کہ کمپنی کے ٹیکس حکام کے خلاف 1781 میں صوبہ بہار میں ہونے والی ہندو زمینداروں کی ایک معمولی بغاوت کو جنگ آزادی کی اولین جنگ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جب ہم ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کی تاریخ پڑھتے ہیں تو بنگال میں جنگ پلاسی سے شروع ہو کر پنجاب میں سکھوں کی شکست تک تقریباً سو سال کا عرصہ بنتا ہے۔ اس عرصہ کے دوران انگریزوں کے خلاف مختلف طاقتوں کی طرف سے مزاحمت ہوئی جن میں قابل ذکر بنگال کے سراج الدولہ اور میر قاسم، اودھ کے شجاع الملک، مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی، مرہٹے اور میسور کے حکمران شامل ہیں۔ لیکن ان سب طاقتوں میں میسور کے حیدر علی اور ان کے ہونہار فرزند ٹیپو سلطان نمایاں نظر آتے ہیں۔ ٹیپو سلطان پہلے ہندوستانی حکمران تھے جنہوں نے انگریزوں کو ہندوستان سے مکمل طور پر بے دخل کرنے کی ایک منظم کوشش کی۔

Read more

وہی حالات ہیں فقیروں کے

منٹو کا افسانہ ”نیا قانون“ جو 1935 کے انڈیا ایکٹ کے پس منظر میں لکھا گیا تھا۔ اس کا مرکزی کردار منگو کوچوان اس کے بارے کہیں سے ادھوری سن گن لیتا ہے اور سمجھ بیٹھتا ہے کہ یکم اپریل کو نیا قانون آئے گا تو بہت کچھ بدل جائے گا۔ گوروں سے نجات ملے گی اور وہ آزاد ہو گا۔ یکم اپریل کو منگو ایک انگریز جو اس کے ساتھ حقارت سے پیش آ رہا ہوتا ہے اسے پیٹ ڈالتا ہے اور ساتھ ساتھ کہتا جاتا ہے پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ۔ اب ہمارا راج ہے بچہ۔ جب پولیس والے اسے پکڑ کر لے جا رہے ہوتے ہیں تو وہ چیخ چیخ کر نیا قانون نیا قانون کہتا رہتا ہے۔ مگر اسے جواب ملتا ہے نیا قانون، نیا قانون کیا بک رہے ہو قانون وہی ہے پرانا اور اسے حوالات میں بند کر دیا جاتا ہے۔

منگو کوچوان والا خواب اس ملک میں بار بار دیکھا گیا۔ بڑا خواب اس وقت دیکھا گیا جب تقسیم ہند کے نتیجے میں ہمیں آزادی ملی۔ لوگ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب منزل مل گئی۔ تاہم یہ آزادی جب ملی تو خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ اس طرح تقسیم کیا گیا کہ دونوں نوزائیدہ ریاستوں میں جنگ چھڑ گئی۔ پنجاب اور بنگال کے ٹکڑے ہوئے۔ تبادلہ آبادی کے بعد زمینوں اور گھروں کی الاٹمنٹ میں ہیر پھیر کیے گئے۔ ہندوستان نے جاگیرداری یک جنبش قلم ختم کر کے ماضی میں انگریزوں کے پر وردہ طبقہ پر کاری ضرب لگائی مگر یہاں جلد ہی وہی طبقہ حکومت کرنے لگا اور فیض کو کہنا پڑا

Read more

فواد چوہدری سب کو مات دے سکتے ہیں

معترضین کی اس بات سے اگرچہ انکار ممکن نہیں ہے کہ فواد چوہدری کا سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا ریکارڈ قابل رشک نہیں رہا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نے اپنی پراگریسو سوچ کہیں بھی جا کر تبدیل نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ موصوف جس جماعت میں بھی رہے ہیں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے ساتھ ان کی چپقلش بنی رہی ہے۔ مختلف معاملات میں اپنی روشن خیال رائے کو پوری دلیری کے ساتھ اور واضح الفاظ میں بیان کرنا ان کا طرہ امتیاز رہا ہے۔

وہ اس وقت پی ٹی آئی میں ہیں۔ یہ ایسا وقت ہے کہ پارٹی پر رجعت پسند خیالات کے حامل لوگوں کا مکمل غلبہ ہو چکا ہے۔ اس رجعت پسند گروپ کو اس وقت جو لوگ لیڈ کر رہے ہیں وہ زیادہ تر جماعت اسلامی کو چھوڑ کر شامل ہوئے ہیں، لیکن اپنا وہی مائنڈ سیٹ لے کر بیٹھے ہیں۔ وہ پارٹی کو پوری طرح مشرف بہ اسلام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کی راہ میں مزاحم فواد چوہدری جیسے مٹھی بھر سر پھرے ہیں۔

Read more