امارات میں میرے ساتھ پیش آنے والا مری جیسا ایک واقعہ!


مری میں ہونے والے الم ناک واقعہ نے مجھے اپریل 2019 میں اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعہ کی یاد دلا دی ہے۔

ہوا یہ تھا کہ ہم اپنی فیملی کے ساتھ تفریح کی غرض سے متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ میں واقع پہاڑ کی سب سے اونچی چوٹی جبل جیس گئے ہوئے تھے، موسم نہ تو ٹھنڈا تھا اور نہ ہی بارش کا تھا۔ لیکن اس کے باوجود عصر کے وقت اچانک تیز بارش شروع ہوئی، جس کی وجہ سے ہم نے پہاڑ کی چوٹی سے آہستہ آہستہ نیچے آنا شروع کیا، لیکن جب بالکل بیچ میں پہنچ گئے تو آگے ٹریفک مکمل طور پر جام ملا۔ گاڑی سے اتر کر دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ عمان کی طرف سے ایک سیلابی ریلے کا مکمل بہاؤ سڑک کے اوپر ہے اور سڑک مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکی ہے، آگے جانے کا چونکہ سوال ہی پیدا نہیں ہو رہا تھا اس لیے مجبوراً تمام لوگ وہیں پر ریسٹ ایریا میں گاڑیاں پارک کر کے بارش کے تھم جانے اور راستہ کھل جانے کا انتظار کرنے لگے، لیکن یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، رات بھر لوگ وہیں پر گاڑیوں میں ٹھہرے رہے، حکومت کی طرف سے رات بھر لوگوں کو بقدر ضرورت کھانے پینے کی اشیاء بذریعہ ہیلی کاپٹر پہنچائیں جاتیں رہیں اور کسی کو صرف انتظار سے بڑھ کر کوئی خاص تکلیف نہیں اٹھانی پڑی۔

البتہ صبح اس وقت زیادہ پریشانی ہوئی جب پتہ چلا کہ سڑک تو سیلابی ریلے کے بہاؤ میں بہہ چکی ہے اور ادھر دن بھی اتوار کا شروع ہو چکا تھا جو لوگوں کی ڈیوٹی پر جانے کا دن ہوتا ہے۔ اسی پریشانی کے عالم میں سب لوگ کھڑے تھے کہ اتنے میں ہیلی کاپٹر اپنی زوردار آواز کے ساتھ نمودار ہوا، سب لوگ اس کی طرف چل دوڑے، ہیلی کاپٹر انتظامیہ نے تمام لوگوں کو اطمینان دلاتے ہوئے بتایا کہ ہم کسی کو یہاں نہیں چھوڑیں گے لیکن سب سے پہلے ہم فیملیز، بیمار اور عمر رسیدہ حضرات کو لے کر جائیں گے، ہماری باری غالباً تیسری تھی، ہیلی کاپٹر کے ذریعہ لوگوں کو محفوظ جگہ پر اتارے جانے کے بعد انہیں گاڑیوں کے ذریعہ ایک ہوٹل میں پہنچایا جاتا، لوگوں کی گاڑیاں چونکہ وادی میں پھنس گئیں تھیں اس لیے جن کے پاس گھر جانے کے لیے کوئی اور انتظام نہیں تھا انہیں حکومت کی طرف سے گاڑیوں کے ذریعہ گھر پہنچانے کا انتظام بھی تھا۔

ہمارے بڑے بھائی ہمیں وصول کرنے کے لیے چونکہ پہلے ہی پہنچ چکے تھے اس لیے ہمیں بس سروس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ جبل جیس میں پھنسے ہوئے یہ لوگ نہ تو مری میں پھنس جانے والوں کی طرح زیادہ مشکل میں تھے اور نہ ہی ان کو جان کا کوئی خطرہ لاحق تھا، سردی سے لوگ ٹھٹھر رہے تھے اور نہ ہی گرمی انہیں ستا رہی تھی، انہیں بچانے کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر کسی بڑے نقصان کا باعث بھی نہیں بن سکتی تھی، لیکن اس کے باوجود حکومت نے اتنی دلچسپی لی کہ لوگوں کو ذرا بھی پریشانی نہیں اٹھانی پڑی۔

چنانچہ ریسکیو ٹیمیں بر وقت پہنچ گئیں، پولیس، فوج ایمرجنسی اور کرائسز مینجمنٹ ٹیم نے امدادی کارروائی کی رفتار تیز کردی اور یوں ابوظہبی، دبی اور راس الخیمہ میں متعلقہ ٹیموں کی باہمی تعاون کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا بلکہ پھنسے تقریباً 702 افراد کو محض چار گھنٹے کے اندر محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں وہ کامیاب بھی ہو گئے۔ اور جب تقریباً آٹھ نو دن بعد اپنی گاڑی واپس لینے گیا تو گاڑی بھی اسی طرح محفوظ تھی جیسے میں نے چھوڑ دی تھی۔

یعنی نہ ہی حادثے کے وقت کسی کو زیادہ پریشانی ہوئی اور نہ ہی بعد میں کسی کا مالی نقصان ہوا۔ آج مری میں ہونے والے الم ناک حادثے پر طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بندہ جب گھر سے نکلتا ہے تو اسے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ اسے کہاں موت آئے گی۔ مگر انسان کو اللہ تعالی نے عقل و شعور سے بھی نوازا ہے، حادثات، وبائیں، زمینی اور آسمانی آفات، یہ سب چیزیں اگر ایک طرف تقدیر سے جڑی ہوئی ہیں تو دوسری طرف انسان کی غفلت اور نا اہلی کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہیں، ہمارا تقدیر پر ایمان ضرور ہے لیکن یہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اس کے مقدر میں کیا لکھا ہوا ہے، یہ دنیا دار الاسباب ہے اور دار الاسباب میں رہتے ہوئے ہم اسباب ہی کے مکلف ہیں، اپنے عقل و شعور کو استعمال کرتے ہوئے اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسباب کے بر وقت استعمال اور احتیاطی تدابیر کے ذریعہ بہت سی ناگہانی بلاؤں سے بچا جا سکتا ہے لیکن کوئی یہ کرے تو سہی!

اطلاعات کے مطابق محکمہ موسمیات وارننگ جاری کرچکا تھا کہ ملکہ کوہسار پر چھ اور سات تاریخ کو شدید برفباری ہوگی، اس کے باوجود حکومت کی طرف سے لوگوں کو وہاں جانے سے نہ روکنا، سیاحتی مقام پر موجود گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے سپیس سے زیادہ گاڑیوں کو جانے دینا

اور ریسکیو ٹیموں کو قبل از وقت ایکٹو نہ رکھنا، ایڈونچر کی شوقین مگر درکار وسائل سے محروم قوم کی خوامخواہ برف دیکھنے کی ضد کرنا، اور ہوٹل مالکان کا لوگوں کو لوٹنے کی بے شرمی، یہ سب چیزیں اس کربناک افسوسناک اور دلسوز حادثے کا سبب ہیں۔

اللہ تعالی اس حادثے میں مرنے والوں کو شہداء کے زمرے میں داخل کر کے ان کی مغفرت فرمائے، ہمیں سمجھ اور شعور عطاء فرمائے اور ہماری نا اہل حکومت کو کارکردگی دکھانے کی توفیق عطاء فرما کر اسے حکمرانی کرنے کی اہل بنا دے۔

جو حضرات ہمارے فوجی بھائیوں کی کچھ تصاویر شیئر کر کے ساتھ میں یہ لکھ کر بھولی بھالی قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ (یہ ہر چیز کا حل وردی ہی کیوں ہے؟ ان کا کام تو بارڈر سنبھالنا ہے) ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ اپنی پسندیدہ حکومت کی نا اہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش مت کریں۔ یہ صرف پاکستان ہی میں نہیں ہوتا بلکہ پوری دنیا میں ہوتا ہے، فوج کا کام صرف جنگ کرنا ہوتا ہے اور نہ ہی ہر وقت کوئی ملک حالت جنگ میں رہتا ہے بلکہ ہر مشکل گھڑی اور ہنگامی حالات میں پوری دنیا میں، پولیس، فوج اور ریسکیو والے حرکت میں آ جاتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وطن عزیز میں فوج ہیلی کاپٹر سروس کا بھی معاوضہ طلب کرتی ہے (جیسا کہ سوات میں سیلاب آنے کے وقت ہم نے سنا تھا۔ واللہ اعلم) جبکہ باقی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ یہ خدمت فری میں انجام دی جاتی ہے۔ خدمت گار فوجی ہو یا سول، سب ہمارے بھائی اور انسان ہیں اور سب انسانوں کی خدمت اور احسان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، چاہے وہ فوجی ہو یا عام آدمی لیکن بوٹ پالش کے شوق میں نہ خود بے وقوف بننا چاہیے اور نہ دوسروں کو بنانا چاہیے۔ اللہ تعالی تمام مدد کرنے والوں کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔

Facebook Comments HS