ایک بزرگ خدمت گار کا شکوہ


ان کی آواز میں ایک درد تھا کہنے لگے گیلانی صاحب آپ کے کالم موصول ہوتے ہیں آپ اہم موضوعات زیر قلم لاتے ہیں میں امید کرتا ہوں آپ ایک اور بات بھی زیر بحث لائیں گے میں ایک نجی تعلیمی ادارے میں گریجوایشن کر رہا تھا یہ غالباً کوئی چھ سال پرانی بات ہوگی لائف سکلز کے اوپر نا تو کوئی خاصہ کام ہوتا تھا اور نا ہی ان کو پڑھایا جاتا تھا۔

مجھے تلاش رہتی تھی کہ کوئی تقریب مل جائے یا سینئر لوگ مل جائیں جن سے کچھ سیکھا جا سکے بس یہی تلاش مجھے یو ایم ٹی لے گئی جہاں نیشنل آؤٹ ریچ پروگرام کے تحت انڈسٹری کے کامیاب لوگوں کو لیکچر کے لیے مدعو کیا جاتا تھا وہیں پر پی آر ایکسپرٹ علی عباس صاحب، ایس ایم نقی صاحب، میکس بابری و دیگر شخصیات سے ملاقات کا موقع ملا اور اپنا کام کرنے کا جذبہ بھی وہیں سے پیدا ہوا ۔

انہیں تقریبات میں ایک بزرگ نوجوان ملے جو ستر سال کی عمر میں بھی باہمت شخصیت جن کی انرجی کو دیکھ کر رشک آتا تھا وہ لائف سکلز جن میں کمیونیکیشن سکلز، انٹرویو سکلز، کانفیڈینس و دیگر سکلز بلا معاوضہ سکھایا کرتے تھے اس پراجیکٹ کو انہوں نے رائزنگ سٹارز کا نام دے رکھا تھا میں نے بھی ان سے بات کر کے اپنے تعلیمی ادارے میں ایک دوست الماس صاحبہ کے توسط سے ہم نے بھی یہ کورس شروع کروایا جس سے مختلف شعبوں کے طلباء نے استفادہ کیا۔

ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق دو ہزار پچیس تک جو سکلز سب سے زیادہ تنخواہ یا کاروبار دیں گی وہ سافٹ سکلز ہیں جن میں گفتگو، نیگوسی ایشن، ایموشنل انٹیلی جنس وغیرہ شامل ہیں اور بد قسمتی سے ان کو بہت کم توجہ دی جاتی رہی ہے اور جو کوئی یہ سکلز فراہم کر رہا ہے اس کو کسی اور نظر سے دیکھا جا رہا ہے یا سیریس ہی نہیں لیا جاتا ہے اسی لیے نوجوان انٹرویو دینے، بات کرنے اور اپنی بات سمجھانے کا ہنر رکھتے ہی نہیں جب نوکری کے لیے انٹرویو دینے جاتے ہیں تو ان کو بہت سی ریجیکشنز کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے بارے میں اور ان کے آنے سے ادارہ کا کیا فائدہ ہونا ہے۔

یہ بتا اور سمجھا ہی نہیں پاتے میں نے مشاہدے سے یہ سیکھا ہے کہ اگر آپ کے پاس سکل نہیں ہے آپ کے پاس جذبہ موجود ہے اور آہ اس جذبے کو ظاہر کر پاتا ہے تو بھی ادارے یا سی ای اوز اسے ہائر کر لیتے ہیں مسئلے کا حل تب ممکن ہو پاتا ہے جب مسئلے کا علم ہو پائے لہذا مسئلے کو جاننا اس کو حل کرنا اس کی بہت اچھی قیمت ہے۔

مارکیٹ میں ایک اور بات شامل کرتا چلوں بطور مسلمان ہم نے پڑھا ہے اور بتایا جاتا رہا ہے کہ سامان خریدتے ہوئے بحث کریں اور کم ریٹ پر خریدیں یہی سکل دنیا میں بہت مقبول ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے اداروں کے مالکان سیٹھ مزاج ہیں تو وہ اس کام کے لیے الگ بندہ نہیں رکھتے وہ ایک بندے سے تین کا کام کرواتے ہیں نتیجے میں ان کا کام تو چلتا رہتا ہے لیکن ادارہ یا پراڈکٹ عالمی سطح پر نہیں جا پاتی اگر ترقی یافتہ ملکوں کی ڈگر پر چلنا ہے تو حکومت اور مالکان کو سپیشلائزڈ اپلائمنٹ پر توجہ دینی ہوگی۔

جاوید اختر رائزنگ سٹار کے اندر وہ سب کچھ بلا معاوضہ سکھا رہے تھے جس کو دنیا بھر میں بہترین مقام حاصل ہے کہنے لگے ایک شکوہ یہ ہے کہ میرے پاس اس کورس میں چند لوگوں کی گنجائش ہوتی ہے اور زیادہ تر لڑکیاں آتی ہیں دو ہی وجوہات ہو سکتیں ہیں یا تو لڑکوں کو بہت کچھ آتا ہے یا وہ سنجیدہ نہیں ہیں بلکہ میں تو اپنی بیٹی کو کہہ رہا تھا کہ اتنا پڑھ کر کیا کرنا ہے اگر اتنا پڑھا لکھا لڑکا نا ملا تو مشکل پیدا ہو جائے گی لہذا آپ کو فون کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ اس موضوع کو بھی زیر قلم لائیں تاکہ لائف سکلز کی افادیت کو سمجھتے ہوئے ان کو سیکھیں آپ پیسہ کمانے کے لیے ڈگری حاصل کرتے ہیں لیکن نوکری کیسے حاصل کرنی ہے اور حاصل کرنے کے بعد وہاں قائم کیسے رہنا ہے یہ ڈگری کے بعد سیکھنا شروع کرتے ہیں۔

جس کی وجہ سے نوکری دیر سے ملتی ہے مسائل پیدا ہوتے ہیں جبکہ دوران تعلیم ایسی سرگرمیوں سے آپ کا دماغ کھل سکتا ہے میں نے پوری ایمانداری سے جاوید اختر صاحب کا شکوہ آپ کے سامنے رکھا ہے اور حکومتی سطح پر اگر یہ کوئی پڑھ لے تو وہ جاوید اختر صاحب جیسے درویش لوگوں کی خدمات حاصل کے لائف سکلز سرکاری اداروں میں بھی شروع کروا سکتے ہیں تاکہ وہ بچے بھی سیکھ سکیں آگے بڑھ سکیں اور مقابلے میں بھرپور انداز سے سامنے آ سکیں اسی ضمن میں وزیر تعلیم کو کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی ترجیحات شاید کچھ اور ہوں جاوید اختر اور ان جیسے سینکڑوں پاکستانی قابل فخر بیٹے و بزرگ بلامعاوضہ خدمت کو لگے ہیں ان سب کو خراج تحسین۔

Facebook Comments HS

One thought on “ایک بزرگ خدمت گار کا شکوہ

  • 27/01/2022 at 8:09 صبح
    Permalink

    totally agreed and waiting for updates regarding it

Comments are closed.