افسانہ
اس چاند کو دیکھو، محبت کے نور سے بھرا ہوا چاند۔ اور ساری محبتیں اپنی ان ٹھنڈی کرنوں کے ذریعے دیوانوں کہ دل میں اتارنے کو بیتاب۔ ان تاروں کو تو دیکھو۔ کیسے بادلوں کی اوٹ سے جھانک جھانک کہ ہمیں تکتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے پہلے کبھی دو دیوانے نہ دیکھے ہوں یا پھر شاید ہم جیسے نہ دیکھے ہوں۔ (وہ مغرور انداز میں بولی۔ )
وہ دونوں اپنے گھر کہ صحن میں چارپائی پہ لیٹے آسمان کو گھورے جا رہے تھے، اور وہ باولی مسلسل بولے جا رہی تھی، جبکہ احسن بالکل چپ تھا، شاید کچھ سوچ رہا تھا;ٹھنڈی ہوائیں، ان کہ بدن کو چھو چھو کہ گزر رہی تھیں۔ وہ عبداللہ کی خاموشی پہ حیران ہوئی۔ اب حنا کی نظر ان آسمانی چاند ستاروں سے ہٹ کہ اپنے بغل میں لیٹے چاند پہ آن پڑی۔ جس کہ گال کو ابھی ابھی ایک جگنو چھو کہ اڑا تھا۔ پر یہ کیا یہ چاند تو بے رونق تھا۔
کچھ لمحے پہلے جس چاند کو تک رہی تھی یہ اس کی ضد تھا۔ محبت سے خالی چاند۔ اور حنا کو یہ بات بہت عجیب لگی، عبداللہ کا اداس ہونا انتہائی غیر معمولی بات تھی۔ پہلے تو ایسا کبھی نہ ہوا تھا۔ کم از کم جب سے یہ دونوں ملے تھے تب سے حنا نے اس کو یوں نہ دیکھا تھا۔ وہ زندہ دلی میں اپنی مثال آپ تھا، اور آج اتنا چپ؟ اسے سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کرے۔ اس نے عبداللہ کو مخاطب کیا۔ پر کوئی جواب نہ ملا۔ اس نے اس کی کندھے کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور پھر سے اس کا نام پکارا۔ اس پر عبداللہ نے سرسری سی نگاہ حنا کہ چہرے پہ ڈالی اور پھر سے نجانے کس دنیا میں کھو گیا
اب وہ کچھ نہ بولی بس اس کہ چہرے کی زیارت میں یوں مصروف ہو گئی جیسے کوئی پجاری مندر میں پڑی کسی مورتی کی زیارت کرتا ہے اور وہ مورتی بے حس و حرکت خاموش پڑی رہتی ہے۔
کچھ دیر بعد وہ اٹھ بیٹھی اور نئے سرے سے اسرار شروع کر دیا۔ اتنے میں ہواؤں کو شرارت سوجھی کہ اس کی ریشمی زلفوں کو اس کہ چہرے پہ بکھیر گئیں۔ وہ اپنے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بے چین ہو کہ بولی! بہت دیر ہو گئی عبداللہ کچھ تو بولو۔ کیا بات ہے؟ کیا تم مجھے بھی نہیں بتاؤ گے؟
اتنے اصرار کہ باوجود عبداللہ کے لب بے حرکت رہے۔ بے چینی و بیزاری اس کہ چہرے سے چھلک رہی تھی اور اب وہ اس بے قراری کا اکیلا شکار نہیں تھا بلکہ اس کہ ساتھ بیٹھی وہ لڑکی بھی اس میں شریک تھی۔ یہ سوچنے میں مصروف کہ آج ایسا کیا ہوا جو اس کے چاند کو بے نور کر گیا۔ کیا کوئی گرہن تھا یا کچھ اور؟ پر جو بھی تھا اس کو بے حد پریشان کیے ہوئے تھا۔ وہ جو زندگی گزارنے کی بجائے زندگی جینے پہ یقین کرنے والا آج مردوں سا پڑا تھا۔ اس کی چپ اسے کو کھائے جا رہی تھی۔
اسی خیال میں نجانے کتنے لمحے بیت گئے کہ اچانک احسن کی آواز نے اس کے ترسے ہوئے کانوں میں رس گھولا۔ اس نے صرف حنا کا نام پکارا پر یوں لگا جیسے کسی صحرا میں بھٹکے کو پانی مل گیا ہو۔
اس نے فوراً جواب میں جی کہتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ سے اس کی پیشانی کو چھوا اور اس کے بالوں میں اپنی نازک سی انگلیوں کو پھیرنا شروع کر دیا۔
احسن نے اسے لیٹنے کا اشارہ کیا۔ اور وہ لیٹ گئی۔
تمہیں پتہ ہے حنا! آج میں نے کیا دیکھا؟
اس کے چہرے کو گھورتے ہوئے وہ مدھم سی آواز میں بولی، کیا دیکھا؟
اس نے درد بھری آواز میں کہانی شروع کی۔ جسے حنا ہی نہیں وہ چاند، ستارے، ہوائیں اور جگنو بھی خاموشی سے سننے لگے۔
میں نے آج ٹوٹے ہوئے ایک تارے کو دیکھا۔ وہ بچہ جس کہ بدن پہ کپڑے نام کو تھے۔ لٹو کی طرح گھومتا ہوا کبھی ایک میز پہ کبھی دوسری پہ کھانا پیش کیے جا رہا تھا لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کہ اپنے جسم کو دیکھ کہ مہینوں کے فاقوں کے آثار ملتے تھے۔
حنا میں نے بھوک سے مرتے بچے دیکھے اور کچرے میں لگے کھانوں کے ڈھیر بھی۔
میں پھول دیکھا جس کی نظروں میں سوال تھا کہ مجھے ایک دن کے لیے خرید لیا جائے تاکہ اپنے جیسے چند اور پھولوں کو سینچ سکوں۔ ان کی بھوک اور پیاس بجھا سکوں۔
میں نے بڑی سی گاڑی سے ایک بڑے عزت دار اور امیر گھرانے کو نکلتے دیکھا جن کے بچوں کو سنبھالنے کے لیے ساتھ ایک آیا تھی۔ پر کیا تھا کہ وہ آیا بھی ان بچوں کی ہم عمر تھی۔ وہ جس کہ اپنے کھیلنے کے دن تھے وہ ایک وقت کی روٹی کے لیے سارا سارا دن لوگوں کہ بچوں کو کھلاتی تھی۔
میں نے لاشیں دیکھیں حنا۔
وہ بولتے بولتے رکا جیسے حلق کے غبار کے تھم جانے کے انتظار میں چپ ہوا ہو۔ اور اپنی آنکھوں میں اترے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کی۔
پھر؟ حنا کی آواز آئی۔ اس نے اس کی طرف دیکھا اور روداد پھر سے شروع کی۔
وہ لاشیں ان تازی کلیوں کی تھیں جنہیں ابھی پھول بننا تھا۔ جن میں سے اکثر نے درخت بن کے سائے کرنے تھے۔ پھل دینے تھے پر۔ پر کچھ ہوس کے مارے بھیڑیوں نے انہیں مسل کہ رکھ دیا۔ اور ان کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیے۔
باقی دکھ اس کی ہچکیوں نے سنا دیے اور وہ آنسو جنہیں وہ روک رہا تھا اب بہ جانے دیا۔
کچھ دیر پہلے چمکنے والے چاند اور ستارے اب بے نور ہو گئے۔ ہوائیں بھی جیسے شرما سی گئیں۔ اور اب احسن اور حنا کی ہچکیوں کے علاوہ ہر آواز بند ہو گئی۔


