سفری حماقتیں
میں پچھلے تقریباً تین سال سے ہر ویک اینڈ پر جاب کے سلسلے میں گوجرانوالہ سے لاہور اور اسی طرح لاہور سے گوجرانوالہ سڑکوں کی خاک چھانتی رہی ہو۔ لاہور کی ٹریفک کے برے حالات سے سبھی واقف ہیں لیکن جمعے کی شام اور سوموار کی صبح تو بس صبر کی سبھی حدیں عبور ہو جاتی ہیں۔ گلبرگ سے سٹی اڈا اور کالا شاہ کاکو ٹول پلازہ اکثر ہم دو گھنٹے میں کراس کرتے ہیں اور باقی کے سفر کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو انسان دو گھنٹے میں لاہور سے گوجرانوالہ پہنچ جائے۔
اس سوموار جب میں صبح سات بجے گھر سے نکلی تو گوجرانوالہ کا موسم بہتر تھا۔ لیکن مریدکے کراس کرتے ہی موسم دھند میں اٹ گیا جس کے باعث کالا شاہ کاکو ٹول پلازہ کو بند کر دیا گیا۔ اور ہمیں مجبوراً جی ٹی روڈ سے براستہ شاہدرہ سے جانا پڑا۔ پر شاہدرہ سے کچھ سفر پہلے ہی اطلاع موصول ہوئی کہ ایک ٹرک حادثے کی وجہ سے سڑک بلاک ہے اور ٹریفک بری طرح پھنسی ہے۔ ہم نے تقریباً ایک گھنٹہ انتظار کیا پر گاڑی اپنی جگہ سے آگے نہ جا سکی جس پر ڈرائیور نے اعلان کیا کہ ہم واپس کالا شاہ کاکو ٹول پلازہ جا رہے اور موٹروے کھلنے کا انتظار کریں گے جو ادھر اترنا چاہتا ہے جا سکتا ہے۔ موسم کے حالات، سامان کا زیادہ ہونا اور طبیعت کی ناسازی کے باعث میں نے رکنا ہی بہتر سمجھا۔ شاہدرہ پھاٹک سے ہم یوٹرن لینے میں تقریباً 45 منٹ بعد ہی کامیاب ہو گئے۔ کالا شاہ کاکو ٹول پلازہ ہمیں مزید ایک گھنٹہ سے زائد انتظار کرنا پڑا لیکن 12 : 45 پر اسے کھول دیا گیا۔
ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے سوال یہ اٹھتا ہے ٹریفک پولیس/موٹروے پولیس کی موجودگی کے باوجود ہم ایک بند سڑک کو کھولنے کے لئے اتنا وقت کیوں لے رہے ہیں؟ نہ ہی ہمارے پاس کوئی ایسا سسٹم موجود ہے کہ ہم حادثاتی جگہ کو مارک کر کے باقی ٹریفک کو بحال کر سکیں۔ ہمیں جب معلوم ہے کہ لاہور شہر ان اوقات کار میں بری طرح اوور ٹریفک کا شکار رہتا ہے تو ہم کیوں اس کی بہتری کے لئے کوئی نظام ابھی تک وضع نہیں کر سکے۔ نظام کی خرابی کے ساتھ ساتھ ہم ذمہ دار ادارے بنانے سے بھی قاصر ہیں۔ عوام کن مسائل کا شکار ہے اور انہیں ہمیں کس طرح دیکھنا ہے، نہ ریاست اور نہ ہی اسے چلانے والے حکمران سنجیدہ لے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم آج مری جیسے واقعات کو سن اور دیکھ رہے ہیں۔
دوسری طرف ایسے حالات میں جب کہ آپ کافی عرصہ تک پھنسے رہتے ہیں خواتین کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ میں انتظار کرنا مزید وبال جان بن جاتا ہے۔ آپ کو بہت سی نا پسندیدہ اور نازیبا الفاظ کو بھی سننا پڑتا ہے۔ کیونکہ ایسا لگتا ہے گاڑی میں موجود مرد حضرات ہی تو کرایہ ادا کرتے ہیں اور گاڑی ان کی ہی ملکیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ آپس میں بھی اور فون پر بھی کھلے عام اپنے جذبات کا اظہار کرنا ثواب سمجھتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نہ تو ہم خواتین کو محفوظ سفری سہولیات مہیا کر سکے ہیں اور نہ ہی ہماری عوام الناس یہ سمجھ سکی ہے کہ دوران سفر گاڑی میں موجود خواتین کا شمار بھی اشرف المخلوقات میں ہوتا ہے۔
ہم دوران سفر کسی کی ناساز طبیعت کا خیال۔ کیے بغیر اونچی آواز میں بولتے بھی ہیں اور ساتھ ہی میوزک بھی انجوائے کرتے ہیں۔ گاڑی میں موجود مسافروں میں زیادہ تر نوجوان طالبعلم تھے پر ہم اخلاقی اقدار سے بہت دور اپنی زندگی میں مگن ہے۔ نہ تو دوران سفر ہمارے پاس کوئی پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے ہدایات ہیں اور نہ ہی نوجوانوں کے پاس مثبت مشغلہ جس سے کسی کی دل آزاری کیے بغیر سفر بخیریت سر انجام پائے۔
اسی کے ساتھ ساتھ اگر ہم اپنے ریلوے نظام کی طرف نظر دوڑائیں تو حالات اس سے بھی برے ہیں۔ میں کچھ عرصہ بابو ٹرین پر سفر کرتی رہی جو کہ وزیر آباد سے لاہور صبح پانچ بجے نکلتی ہے اور واپس شام 4 بجے لاہور سے وزیر آباد روانہ ہوتی ہے۔ جو کہ راستے میں موجود ہر چھوٹے بڑے ریلوے اسٹیشن پر پانچ منٹ کے لئے رکتی ہے اس ٹرین کی ایک خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں آپ کو ہر طبقہ ہائے زیست کے لوگ نظر آئیں گے۔ سرکاری ملازمین، پرائیویٹ ملازم، طالبعلم اور نانی امی کے گھر جانے کی خوشی میں شور مچاتے بچے بھی۔
گو کہ اس میں بھی ہمیشہ مسافر زیادہ اور سیٹیں کم ہوتی ہیں۔ میں نے خود بھی اکثر لاہور سے گوجرانوالہ کا سفر کھڑے رہ کر طے کیا۔ لیکن موسم سرما میں شام جلد ہونے کے باعث اس ٹرین میں سفر کرنا بھی کافی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں لوگوں کو لائٹ کی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ ان حالات میں ایک لڑکی کے لئے اس میں سفر کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے معلوم ہوا کہ حکومت نے اسے بھی بند کر دیا ہے کیونکہ عوام کی سہولت سے زیادہ اہم حکومت کا نفع و نقصان ہے۔ ہم چیزوں کو بہتری کی طرف لانے اور اس پر لائحہ عمل بنانے کی بجائے انہیں ختم کرنا زیادہ اہم جانتے ہیں۔
میں نے یہ تحریر آج سفر کے انتظار میں لکھی ہے اور خود سے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ اگر خدانخواستہ پھر سے ایسا تجربہ ہوا تو کچھ نیا لکھوں گی۔ تا ہم کسی کی دل آزاری سے گریز کروں گی۔ آخر پر بتاتی چلو آج میں چھ گھنٹے اور 45 منٹ کے انتظار کے بعد لاہور پہنچی ہو۔


