کیا اس قوم کو آسمانی خدا اخلاقی زوال سے بچا سکتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چودہ اگست والے اہم اور تاریخی دن پر ایک نہتی لڑکی مینار پاکستان کیا لینے گئی تھی اور اکیلی لڑکی کا باہر نکلنے کا کوئی جواز نہیں بنتا؟

موٹروے پر رات کی تاریکی میں ایک خاتون کا ہمراہ دو معصوم بچوں کے اپنی ذاتی گاڑی میں تنہا سفر کرنے کا کیا جواز بنتا ہے؟

شدید برفباری کا الرٹ جاری ہونے کے باوجود اتنی کثیر تعداد میں محض برفباری کے مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لئے مری جانے کا کیا جواز بنتا ہے؟

یہ اکیسویں صدی میں قدرتی آفات یا زمینی انسانی درندوں کا اپنی جنسی ہوس مٹانے کے لیے خواتین کی آبروریزی جیسے واقعات ہونے کے بعد ہمارا تجزیاتی لیول ہوتا ہے اور یہ گھٹیا ٹیلنٹ اتنا ناپید ہے جو ہمارے سماج کے علاوہ کہیں اور نہیں پایا جاتا یا یوں کہہ لیں کہ کافروں کو اس ٹیلنٹ کی ابھی تک بھنک نہیں پڑی اسی لئے وہ دنیا میں کامیاب و کامران ہیں اور ہم جنت میں مزے لوٹیں گے اور وہاں یہ کافر نامراد ٹھہریں گے۔ سانحہ مری پر بہت باتیں ہو چکی ہیں اور فواد چودھری نے تو ہماری خوشحالی کا پیمانہ ایک لاکھ گاڑیوں کا مری میں داخل ہونا قرار دے دیا تھا اور ہمارے وزیراعظم نے نوٹس لیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اتنے زیادہ لوگ وہاں کیا کرنے گئے تھے؟

آج اس المناک واقعے کے بعد شہریار آفریدی کو یاد کرنا ہمارا قومی فریضہ بنتا ہے جو کچھ عرصہ پہلے امریکہ کے دورے پر تشریف لے گئے تھے اور ٹائم اسکوائر پر ایک ایمان افروز خطاب فرمایا تھا۔ انہوں نے سر راہ چلتے چلتے ویڈیو میں امریکن شہریوں کو ٹائم سکوائر کے چوکوں پر تن تنہا لیٹے ہوئے دکھا کر یہ ارشاد فرمایا تھا کہ ”اے لوگو دیکھو اس قوم کے بیٹے بیٹیاں کیسے چوکوں اور چوراہوں میں رل رہی ہیں، ہمیں اپنی تہذیب پر فخر کرنا چاہیے اور عمران خان کا ساتھ دینا چاہیے جنہوں نے غربا کے لیے لنگر کھانے کھولے تاکہ انہیں مفت کا کھانا مل سکے“ ۔

آج شہریار آفریدی سے ایک سوال پوچھنا تھا کہ ریاست مدینہ کے لگ بھگ تیس باشندے دارالحکومت کے بالکل قریب اور مشہور سیاحتی مقام پر برف کے طوفان میں گھر گئے، زبان پر مدد مدد اور آنکھوں میں مدد کے لئے آنے والوں کے سپنے سجائے اس دنیا کو ہی خیرآباد کہہ گئے اب وہ مقدمہ کس پر درج کروائیں؟ امریکہ، کینیڈا اور دیگر کئی یورپی ممالک میں برف کے طوفان آنا معمول کی بات ہوتی ہے مگر اس طرح سے کبھی نہیں ہوا کہ آپ کی گاڑیاں ہی آپ کا تابوت بن جائیں اور آپ کو سیاحتی مقام پر رفع حاجت کے لیے بھی پچاس ہزار روپے میں چند گھنٹوں کے لئے کمرہ بک کروانا پڑے۔

قطع نظر ان تمام بد انتظامیوں کے جو سب سے اہم بات بنتی ہے وہ یہ ہے کہ جو اس سیاحتی مقام پر اپنا کاروبار کرتے ہیں مثلاً دکاندار یا ہوٹل کے مالکان وغیرہ جن کے متعلق ایک دوست بتا رہا تھا کہ وہ پانچ وقت کے پختہ نمازی، کئی کئی حج کرنے والے الحاج اور تبلیغی جماعت میں باقاعدگی سے چلہ لگانے والے لوگ ہیں مگر سیاحوں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے بالکل نہیں چوکتے اور اپنی سروس اور اشیاء میں تین گنا زائد کماتے ہیں اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ اس دھندے کو بالکل جائز تصور کرتے ہیں۔

حکومتی بد انتظامی کو تو ایک طرف کر دیں کیونکہ ان کے پاس تو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اکیسویں صدی میں بھی غاروں والے اوزار ہیں اور ان میں ایک بیلچہ بھی ہے جس کا مظاہرہ آپ نے برف کو صاف کرنے کے دوران اپنی ٹی وی سکرین پر ضرور دیکھ لیا ہو گا مگر ہمارے سماج کا سب سے بڑا مسئلہ انتظامی سے زیادہ اخلاقی زوال کا ہے۔ اس حادثہ میں بچ جانے والے مختلف لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس طوفان سے اپنی گاڑیوں کو نکلوانے کے لیے بھی وہاں کے مقامی گائیڈ ہزاروں روپے ڈیمانڈ کر رہے تھے اور جن لوگوں نے رات اپنی گاڑیوں میں کاٹنے کی کوشش کی دراصل وہ لوگ تھے جو ان زمینی خداؤں کے سروس چارجز افورڈ کرنے کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔

اس سیاحتی مقام کا کلچر اتنا ظالمانہ ہے کہ ایک ایوریج بندہ تو یہاں رات ٹھہرنے کا تصور ہی نہیں کر سکتا۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے اس ملک میں جو عبادات میں خود کفیل ہونے کے ساتھ ساتھ لاکھوں مسجد و مدارس، ہزاروں خانقاہیں، رائیونڈ کا ہزاروں ایکڑ میں پھیلا ہوا تبلیغی مرکز اور دعوت اسلامی کے وسیع و عریض مرکز سے مالا مال یہ سرزمین اخلاقی زوال کا شکار کیوں ہے؟ حالانکہ ہمارے اس سماج میں چند ادبی میلے ہوتے ہیں اور لوگوں کی بہت کم تعداد ادیبوں کی کتابیں خریدتے ہیں مگر قبر کا عذاب، قبر کی پہلی رات، بہشتی زیور اور قصص الاولیاء جیسی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں بکتی ہیں مگر اس کا آؤٹ پٹ زیرو کے ہندسے کو کیوں چھو رہا ہے؟

اب تو یونیورسٹی لیول تک کی ڈگری کے لیے بھی دینی تعلیم کو لازمی کر دیا گیا ہے مگر آؤٹ پٹ کیا ہے؟ درجنوں علماءکرام بشمول مولانا طارق جمیل مختلف اجتماعات میں اللہ کا خوف دلانے میں مصروف رہتے ہیں مگر ہم تو اپنے ذاتی مفاد کے لئے آسمانی خدا کو بھی ایک طرف کر دیتے ہیں۔ اگر واقعی ہم آسمانی خدا کو اپنا ”حقیقی واچ میکر“ سمجھتے ہیں تو پھر یہ دو نمبریاں کس کھاتے میں جائیں گی؟ جبکہ دوسری طرف ہمارے پوائنٹ آف ویو کے مطابق جو ”بے خدا“ قومیں ہیں کیا ہم ان سے اس قسم کی امید کر سکتے ہیں؟

وہ اپنے تہواروں پر چیزیں سستی کر دیتے ہیں تاکہ ہر بندہ اپنی اپنی حیثیت میں خوشیاں سیلیبریٹ کر سکے مگر ہم اپنے تہواروں پر چیزیں مہنگی کر کے اپنے مسلمان بھائیوں کی جیبیں خالی کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ کفار اپنے ”واچ میکر“ خود بن چکے ہیں اور ہر معاملے میں اپنی ذمہ داری خود لیتے ہیں اور خود کو اچھے برے نتائج کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف ہم بظاہر آسمانی خدا پر یقین رکھ کر ہر وہ غیر اخلاقی حرکت کرتے ہیں جسے کسی طرح بھی انسانی رویہ نہیں کہا جاسکتا اور اگر ہمارا آسمانی خدا میں واقعی یقین ہوتا تو اللہ کے گھروں میں جنسی استحصال نہ ہوتا اور مری میں چھوٹے چھوٹے بچے اپنے والدین کے سامنے تڑپ تڑپ کر نہ مرتے۔

ہم ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جن کے اخلاقی زوال کو دیکھ کر آسمانی خدا بھی بے بس ہو چکا ہے اور ایک طرف دبک کر بیٹھ کے اپنی تخلیق کے کارنامے دیکھ کر حیران ہو رہا ہے۔ اس سے زیادہ ڈوب مرنے کا مقام کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان ملک میں انسانی جان بچانے والی ادویات کھانے پینے کی چیزوں کو چھوڑ دیں وہ بھی دو نمبر مل رہی ہیں اور کافر تو اس قسم کی دونمبری کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے اور ہم جنت میں انجوائے کریں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments