قلعہ سیف اللہ کے نوجوان سلمان خان سے سیکھنے کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو برس قبل 2020 میں یہی جنوری کے ہڈیوں میں خون جما دینے والی سردی کے دن تھے۔ پاکستان کے انتہائی شمال مشرق میں نیلم وادی کی چوٹیوں سے شمال مغربی بلوچستان کے علاقوں کچلاک، زیارت اور خانوزئی تک برف کی دبیز چادر نے ملک کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے منقطع کر دیا تھا۔ کوئی 270 کلومیٹر طویل کوئٹہ ژوب سڑک کے جگہ جگہ بند ہونے سے بلوچستان اور پنجاب کے درمیان سفر کرنے والے ہزاروں مسافر غیر معمولی سردی اور برفانی طوفان میں پھنس گئے تھے۔ ان کے پاس موسم کی مناسبت سے لباس تھے اور نہ یخ بستہ ہواﺅں میں کوئی پناہ گاہ۔ کھانے پینے کا سامان ختم ہونے سے مرد و زن سمیت سینکڑوں بچوں اور بزرگوں کی زندگی شدید خطرے میں تھی۔ 12 جنوری اتوار کی صبح شروع ہونے والی قیامت خیز برفباری نے ایک قدرتی آفت کی صورت اختیار کر لی۔ ان حالات میں اپنے گھروں کی محفوظ دیواروں میں بیٹھ کر مقامی انتظامیہ کی نا اہلی پر نکتہ چینی کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن قلعہ سیف اللہ کے قصبے مسلم باغ ٹاﺅن کا 30 سالہ نوجوان شہری سلمان خان کسی اور ہی دنیا کا باشندہ نکلا۔ اس نے اپنے درجن بھر ساتھیوں سمیت عام گاڑیوں پر اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کام شروع کر دیا۔ ان نوجوانوں نے کھانے پینے کا دستیاب سامان ہمراہ لیا اور انتہائی دشوار گزار راستوں پر اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہوئے بے یار و مددگار مسافروں کی مدد شروع کر دی، جنہیں خوراک اور پانی کی ضرورت تھی، انہیں مطلوبہ اشیا فراہم کرتے رہے۔ عورتوں، بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو گاڑیوں میں بٹھا کر اپنے گھروں تک لائے۔

رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ طوفانی موسم میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا لیکن سلمان خان اور اس کے دوست اپنی تھکاوٹ اور خطرات کو خاطر میں لائے بغیر امدادی کام میں مصروف تھے۔ ان نوجوانوں کی انسانی ہمدردی اور بے پناہ بہادری کو دیکھتے ہوئے علاقے کے دوسرے شہریوں کا ضمیر بھی جاگ اٹھا۔ اجنبی مسافروں کے لئے گھروں کے دروازے کھل گئے۔ مٹی کی انگیٹھیوں میں کوئلے دہکنے لگے۔ شدید سردی میں کانپتے بچوں پر کمبل گدیلا، غرض جو شے ہاتھ آئی، ڈال دی گئی۔ رات گئے مقامی انتظامیہ بھی اس کام میں شریک ہو گئی۔ اس رات سلمان خان اور اس کے دوستوں نے ذاتی طور پر کم از کم ایک سو سے زائد ہم وطنوں کی جانیں بچائیں۔ موسم کی شدت کم ہونے کے بعد صحافیوں کو اس علاقے تک رسائی ملی تو وہ سلمان خان تک بھی پہنچے۔ برف میں ڈھکے آڑے ترچھے راستوں پر بے خطر اپنی ٹیوٹا لینڈ کروزر چلانے والے سلمان خان کو مگر سیاسی بیان دینا نہیں آتا تھا اور نہ اسے شہرت کی خواہش تھی۔ اس کے لئے یہی بہت تھا کہ پنجاب سے بلوچستان آتے ہوئے برفانی طوفان میں پھنس جانے والے ہم وطن ہمیشہ کچلاک والوں کی ہمدردی اور بے لوث میزبانی یاد رکھیں گے۔

ٹھیک دو برس بعد جنوری 2022 میں ملک کے دارالحکومت اسلام آباد سے صرف 30 کلومیٹر کے فاصلے پر مری میں ایک بار پھر یہی صورت حال پیش آئی۔ افسوس کہ مری میں کوئی سلمان خان دریافت نہیں ہوا۔ اطلاعات کے مطابق ہوٹل مالکان اور مقامی شہریوں نے مصیبت زدہ شہریوں کو جی بھر کے لوٹا۔ ملکی قیادت کی طرف سے بوجوہ سیاحت کی غیرمعمولی تشہیر کے باعث حالیہ برسوں میں سیر و تفریح کے لئے نکلنے والے مقامی شہریوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا ہے اگرچہ بیرونی سیاحوں کی تعداد کچھ خاص نہیں بڑھی۔ برادرم یاسر پیرزادہ خود بھی سیاحت سے شغف رکھتے ہیں اور پاکستان میں سیاحت کے بارے میں ان کا نکتہ نظر فیض کے ایک مصرعے میں سمویا جا سکتا ہے۔ ’وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں‘۔ خیر ابھی تو ہم برادر اسلامی ملک میں روایت سے انحراف کی شاخ پر برگ و بار آتا دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ اس مضمون میں بھی مرشدی فیض نے ہماری ہمت بندھا رکھی ہے، ’ہے اپنی کشت ویراں سرسبز اس یقیں سے / آئیں گے اس طرف بھی اک روز ابر و باراں‘۔ ہمارا مٹھن کوٹ بہرصورت ابھی دور ہے۔ ابھی تو ہم کھوکھلی نعرے بازی کے خروش میں ہیں،

اپنے ملکی وسائل اور انفرادی صلاحیت کے بارے میں مبالغہ آمیزی کوئی ہم سے سیکھے۔ زمینی حقائق سے ہماری آگہی کا یہ عالم ہے کہ ایک حکومتی ترجمان مری میں 6 فٹ برف باری کا دعویٰ کرتے ہیں تو ایک دوسرے رہنما دس فٹ برفباری کی خبر دیتے ہیں۔ محکمہ موسمیات والے بتا رہے ہیں کہ بدھ کو ساڑھے چھ انچ، جمعرات کو ساڑھے آٹھ انچ اور اگلے دو روز میں قریب 16 انچ برف گری۔ ہم اخبار والوں کی کل چہار لفظی صحافتی بضاعت تو آپ جانتے ہیں۔ حادثہ، المیہ، سانحہ اور سقوط۔ اس نوحہ گری سے کہیں بہتر ہے کہ کچھ اجتماعی رجحانات کی نشاندہی کی جائے۔ ہمارے ہاں بے مہار حکمرانی کے باعث شہری اور ریاست کا رشتہ کمزور بلکہ منقطع ہو گیا ہے۔ ٹیکس کی ادائی سے سڑک پر گاڑی چلانے تک، ہماری سعی اپنی ذات کے گرد گھومتی ہے۔ اجتماعی حقوق اور ملکی بہتری کے لئے سوچنا یا آواز اٹھانا کار لاحاصل بلکہ حماقت سمجھا جاتا ہے۔ دوسرے، ہم کسی ادارے، ایجاد یا سہولت سے وابستہ اقدار یا ضوابط سے قطعی نابلد ہیں۔ دستور کے آرٹیکل 6 سے لے کر چوک میں سرخ اشارہ توڑنے تک ہم جدید دنیا کی شاہراہ سے الگ اپنی پگڈنڈی نکالنا چاہتے ہیں۔ سوم یہ کہ ہمیں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے تفصیل پر توجہ دینا یا عواقب پر غور کرنا پسند نہیں۔ (نوٹ: درویش کارگل کی مثال نہیں دے رہا۔) چہارم یہ کہ ہم انسانی سعی میں ’ممکن کی حدود‘ اور تناسب کے شعور کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ہم غور و فکر، اعتدال اور حکمت عملی کی بجائے جنون، جوش اور مفروضہ نیک نیتی کے سہارے گھپ اندھیرے میں ان دیکھی کھائی کے پار چھلانگ لگانا پسند کرتے ہیں۔ سیاست اور معیشت کی طرح تفریح اور سیاحت کے بھی کچھ اصول ہیں۔ حادثوں کو روکنے کے لئے چیختی دھاڑتی پریس کانفرنس کی بجائے ٹھنڈے دل و دماغ سے خود احتسابی کرنی چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments