مری کا سانحہ اور گورننس کی ناکامی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


قوموں کو وقت کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات اور حادثات کا سامنا کرنا پڑ ہی جاتا ہے۔ خوشیاں اور غم انسان کی زندگی کے ساتھ چلتے ہیں۔ زلزلے ہوں، سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں یا ٹرین کے حادثات، اس نوعیت کے سانحے حکومت وقت کے لیے ٹسٹ کیس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور متعلقہ اداروں کی اہلیت کی جانچ پڑتال ہنگامی حالات میں ہی ہوتی ہے۔ اگر حکومت کے ذیلی ادارے اور محکمے بشمول سٹی اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن قدرتی آفات کو احسن انداز سے ہینڈل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ بہترین گورننس کی عکاسی کرتا ہے۔

محکمہ موسمیات موسم کے بارے میں پیشگی الرٹ جاری کرنے کا مجاز ادارہ ہے۔ اس کے بعد کی ذمہ داری متعلقہ حکام، اداروں اور وزارتوں پر عائد ہوتی ہے۔ یعنی بارشوں اور برف باری کا الرٹ جاری ہوتے ہی ضروری حفاظتی اقدامات کر لیے جائیں۔ تاکہ عوام کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

محکمہ موسمیات کی طرف سے مری اور اس کے گرد و نواح میں بارشوں اور شدید برف باری کی پیشن گوئی قبل از وقت ہو چکی تھی۔ مگر وفاقی، صوبائی اور لوکل انتظامیہ نے ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کسی قسم کی پلاننگ ہی نہیں کی۔ دستیاب ایس او پیز کو فالو کرتے ہوئے ضروری مشینری اور نمک مری اور دوسرے علاقوں تک پہنچانا انتظامیہ کا اولین فرض تھا۔ مگر متعلقہ ادارے خواب غفلت میں پڑے رہے۔ جس کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت دو درجن سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تیس ہزار گاڑیوں کی گنجائش والے علاقے میں ایک لاکھ کے قریب گاڑیوں کا داخل ہونا خطرے کی علامت تھا۔ موسم کی خرابی اور بے پناہ رش اس اندوہناک حادثے کی وجہ بنا۔ لوکل انتظامیہ اگر مستعدی کا مظاہرہ کرتی تو اس کے پاس لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لیے بہت وقت تھا۔ ہیوی مشینری کے ذریعے سڑک ہنگامی بنیادوں پر صاف کی جا سکتی تھی۔ لیکن لوگ بیس گھنٹے سے زیادہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔

اگر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے کسی وی وی آئی پی کو ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا تو تمام ادارے حرکت میں آ جاتے۔ یہ کل ہی کی بات ہے جب وزیراعظم کی ہمشیرہ کو آرمی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے چترال سے ریسکیو کیا گیا۔ کیا عام آدمی کی مدد کو پہنچنا حکومت کا فرض نہیں ہے۔ عوام سے اگر ٹیکس لیا جاسکتا ہے تو ان کو ریلیف بھی پہنچانا چاہیے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری ایک دن پہلے ہی بڑی تعداد میں شہریوں کے مری جانے پر خوشیاں منا رہے تھے۔ انہوں نے اس کو معیشت کی بہتری سے تشبیہ دی تھی۔ بعد میں انہوں نے پینترا بدلتے ہوئے مری جانے والوں کو ہی قصوروار قرار دے دیا۔

جمعہ والے دن جب سینکڑوں شہری مری کے قرب و جوار میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ لاہور میں عثمان بزدار کی زیر صدارت بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے ایک اجلاس ہو رہا تھا۔ خبروں کے مطابق یہ بیٹھک ڈھائی گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سینکڑوں محکموں اور ہزاروں کی تعداد میں حکام اور اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود عثمان بزدار سانحے سے کیسے بے خبر رہے۔ اگر ان کو اس بات کا علم تھا۔ تو اس صورت میں انہوں نے مجاز اتھارٹیز کو فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کیوں نہیں کی۔

اس نازک موقع پر لوگ میاں شہباز شریف کو یاد کرتے نظر آئے۔ جو ہنگامی صورت حال میں عوام کی مدد کے لیے اپنی نیند اور آرام تک قربان کر دیتے تھے۔ ان کے دور میں متعلقہ ادارے مل بیٹھ کر بروقت حفاظتی اقدامات کی پلاننگ کیا کرتے۔ نمک کہاں کہاں ذخیرہ کرنا ہے، ضروری مشینری کہاں پہنچانی ہے، دیگر معاملات کیسے طے کرنے ہیں۔ تمام امور کا جائزہ لے کر ضروری اقدامات بروقت کیے جاتے۔ مری سانحے نے عثمان بزدار کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

جیسا کہ محکمہ موسمیات کی طرف سے ہیوی سنو فال کا الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا بنیادی فرض تھا کہ وہ معاملے کا جائزہ لیتے اور اسلام آباد پولیس کے ذریعے گنجائش سے زیادہ گاڑیوں کو مری میں داخل ہونے سے روکا جاتا۔ ان کا کام شہریوں کی جان اور مال کا تحفظ ہے۔ شیخ صاحب کو وفاقی حکومت اور عسکری قیادت کے ایک پیج پر ہونے کے بیانات دینے کے لیے وزیر نہیں بنایا گیا۔ انہیں سیاست میں پھلجھڑیاں چھوڑنے اور نجومی کی طرح پیشن گوئیاں کرنے کے بجائے اپنی وزارت کی طرف توجہ دینا چاہیے تھی۔

ان کے محکمے کا ایک اہلکار اپنے معصوم بچوں کی زندگی کی بھیک مانگتے مانگتے دنیا سے رخصت ہو گیا۔ مگر ایک ایٹمی ریاست کا وزیر داخلہ اس بدقسمت فیملی کی جان بچانے میں ناکام رہا۔ شاید شیخ صاحب سبز قدم بھی ہیں۔ جس وزارت میں بھی جاتے ہیں۔ حادثات اور ناگہانی آفات وہاں کا رخ کرنے لگ جاتی ہیں۔ موصوف جب ریلوے کی وزارت کے انچارج تھے۔ تو آئے دن ریل کے حادثات ہوتے تھے۔

جہاں تک وزیراعظم عمران خان کا تعلق ہے۔ وہ بے شمار دوسرے وعدوں کے علاوہ کرپشن کو ختم کرنے کا نعرہ بلند کر کے اقتدار میں آئے۔ تین سال گزر چکے ہیں لیکن نہ لوٹی ہوئی رقم ریکور ہوئی اور نہ ہی کسی ملزم کو سزا ملی۔

اگر وزیراعظم کرپشن ختم کرنے کے مشن کے ساتھ ساتھ گورننس کو بہتر بنانے کی طرف بھی توجہ دیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ انہوں نے اپنی کابینہ میں ساٹھ کے قریب افراد بھر رکھے ہیں۔ لیکن اگر حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بھاری بھر کم کابینہ کی موجودگی کے باوجود حکومت کی پرفارمنس مایوسی کی حد تک خراب ہے۔

علاوہ ازیں سانحے کے متاثرین مری کے ہوٹل مالکان کے غیر انسانی رویوں سے بھی شاکی تھے۔ عام دنوں کے مقابلے میں ہوٹل والوں نے کئی گنا زیادہ کرایہ وصول کیا۔ بعض افراد جو من مانا کرایہ ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے اس شدید سردی میں گاڑیوں میں رات بسر کی۔ ایک خاتون نے اپنا زیور دے کر ہوٹل میں کمرہ حاصل کیا۔ ہوٹل مالکان کی طرف سے اس سے زیادہ بے حسی کا مظاہرہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ یہاں میں فواد چوہدری کے ایک ٹویٹ کا ذکر کروں گا۔ جس میں وہ فرماتے ہیں ”اقامت گاہوں اور ہوٹلوں کے کرائے کئی گنا اوپر چلے گئے ہیں۔ سیاحت میں یہ اضافہ عام آدمی کی خوشحالی اور آمدنی میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے“ ۔

دراصل تحریک انصاف کے گھٹن زدہ ماحول میں ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ سیرو تفریح کر کے اپنے آپ کو ذہنی تناؤ سے بچانے کی کوشش کرے۔ پارکس، ائرپورٹس اور تفریحی مقامات میں قائم ریسٹورنٹس اور ہوٹل مالکان لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر مجبوری کی حالت میں ان کو ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ خوشحالی نے ملک میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ حکمران عام آدمی کی مدد نہیں کر سکتے تو بے تک اور بے حسی پر مبنی بیانات دے کر اس کے زخموں پر نمک مت چھڑکیں۔ تین سالوں کے اندر عوام پر اربوں روپوں کے ٹیکسوں کو بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ مگر کسی بھی شعبے میں بہتری نظر نہیں آ رہی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).