صحرائے تھر میں نایاب درختوں کا قتل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


دو روز قبل ننگرپارکر کی مقامی عدالت نے کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کو غیرقانونی قرار دے کر روکنے کا کہے کر صحرائے تھر کے باسیوں کو خوشخبری سنا کر اداس چہروں پر مسکراہٹیں بکھیری مگر 48 گھنٹے گزرنے کے بعد ایک بار پھر تھر باسی سخت اذیت کا شکار ہونے لگے۔

تھرپارکر میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود درختوں کی کٹائی عروج پر پہنچ گئی صحرائے تھر میں گگرال نامی قیمتی درخت مافیا کا خصوصی نشانہ بننے لگا جس پر متعلقہ محکمے اور انتظامیہ نے خاموش اختیار کرلی۔

پاکستان کے ضلع تھرپارکر کی ایک مقامی عدالت نے پاکستان فوج کے ذیلی ادارے ایف ڈبلیو او اور ایک نجی کمپنی کو ننگرپارکر میں کارونجھر پہاڑ کی کٹائی سے روک کر اسے غیرقانونی قرار دے دیا۔

*تاریخ*

تھرپارکر جو دنیا کے سترہویں بڑے صحرا، صحرائے اعظم تھر کا ایک حصہ ہے جبکہ اس کا دوسرا اور بڑا حصہ سرحد کے اس پار بھارت میں واقع ہے۔ اس کا تقریباً 75 فیصد حصہ بھارت جبکہ محض 25 فیصد حصہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں کراچی سے 400 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ دنیا میں قابل کاشت صحراؤں میں اس کا نواں درجہ ہے۔ سندھ کے صحرائے تھر کا رقبہ تقریباً 28000 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور یہ پاکستان کا سب سے بڑا صحرا ہے۔

تھرپارکر دو الفاظ یعنی ”تھر“ اور ”پارکر“ کا مجموعہ ہے۔ تھر کے معانی ”صحرا“ اور پارکر کے معنی ”پار کرو“ یا ”دوسری طرف“ کے ہیں۔ مقامی لوگوں کا بتانا ہے کہ ماضی میں تھر دو حصوں پر مشتمل تھا یعنی تھر اور پارکر جو ازاں بعد ایک لفظ تھرپارکر بن گیا۔ بنظر ظاہر دیکھنے سے بھی تھر کے دو حصے الگ الگ اور واضح نظر آتے ہیں۔ ایک مشرقی تھر جو ریت کے ٹیلوں سے اٹا پڑا ہے جبکہ مغرب کی جانب پارکر کسی حد تک مختلف، پہاڑی، زرعی اور آب پاش علاقہ محسوس ہوتا ہے۔

پارکر میں میلوں پھیلے ہوئے بلند و بالا پہاڑ دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ مون سون کی بارشوں کی آمد ان پہاڑوں پر سبزے کی چادر تان دیتی ہیں اور ان پہاڑوں سے نکلنے والی ندی نالوں میں بھی روانی عود کر آتی ہے۔ یہی وہ موقعہ ہوتا ہے جب تھر اور سندھ کے دیگر علاقوں سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بدلے ہوئے موسم سے لطف اندوز ہونے ننگر پارکر اور نواحی علاقوں کا رخ کرتی ہیں لیکن اسی کارونجھر پہاڑ کے دامن میں رہنے والوں کے کئی ماہ سے اداس چہرے ایک بار پھر سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔

صحرائے تھر کی تحصیل ننگرپارکر میں کارونجھر کے پہاڑی سلسلے میں نایاب درختوں کی کٹائی کر کے انہیں فروخت کیا جا رہا ہے، علاقے میں خشک سالی کے باوجود انتظامی غفلت اور ملی بھگت سے نایاب درخت گگرال کو مافیا نے کاٹنا شروع کر دیا۔

ماہرین ماحولیات کمار کا کہنا ہے کہ ان درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی سے ماحولیات پر شدید اثرات پڑیں گے جب کہ یہاں پر پہلے سے ہی خشک سالی ہے، آنے والے دنوں میں بارشیں کم پڑنے کا بھی امکان ہے تاہم گگرال درخت کی اہمیت اس کے گوند سے وابستہ ہے جو فی من 30 ہزار روپے کراچی کی مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔

اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث مافیا گگرال درخت کو کٹ دے کر کیمیکل لگاتے ہیں جس سے درخت کا پورا گوند باہر آ جاتا ہے اور یوں گوند کو بوریوں میں بھر کے فروخت کیا جا رہا ہے، نتیجے میں درخت ہمیشہ کے لیہ سوکھ کر ختم ہوتے جا رہے ہیں۔

یاد رہے اس غیرقانونی کٹائی پر پولیس نے دو سال قبل کلوئی تا نوکوٹ روڈ پر رحمان آباد اسٹاپ کے قریب خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کر گگرال کے درخت سے غیر قانونی طور پر نکالی گئی گوند لے جانے والے دو افراد ہریش کولہی اور ڈیوو کولہی کو گرفتار کیا تھا اور جیپ بھی تحویل میں کرلی جس میں 13 بورے گوند کے موجود تھے جس پر کلوئی پولیس نے دونوں افراد پر 379 / 427 پی پی سی تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن یہ گوند کے کاروبار میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مقامی شہری دلیپ کے مطابق درخت سے گوند نکالنا ایک بڑا کاروبار کا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے اس کاروبار کو لمبے عرصے سے با اثر افراد نے جاری رکھا ہوا ہے جبکہ ساتھ ساتھ غیرقانونی طور ہونے والی اسمگلنگ کے خلاف پولیس کی جانب سے بھی کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے مقامی شخص ذوالفقار کھوسو کا بتانا ہے کہ کارونجھر کی پہاڑیوں میں گگرال کا درخت انتہائی قیمتی ہے یاد رہے یہ درخت پاک اور بھارت بارڈر پر واقع ہے لیکن چند کاروباری افراد گگرال سے غیر قانونی کاروبار ابھی بھی جاری رکھتے آ رہے ہیں۔

علاقہ مکین نے مزید بتایا کہ گگرال کی کٹائی سے علاقہ درختوں سے خالی ہوتا جا رہا ہے اور مویشیوں کا چارہ بھی ہمیشہ کے لئے ختم ہونے لگا یہ کیمیکل لگانے کے بعد جب اس درخت سے ایک بار گوند نکل جاتا یہ تو اس کے قیمتی درخت مکمل تباہ ہو کر تھر کو ویران کر دیتے ہیں۔

چند مقامی با اثروں کی سرپرستی میں کچھ پیسوں کی عیوض درختوں کو تباہ کر رہے ہیں اس لیے یہاں کے باسی ایک بڑی مشکل سے دوچار ہیں اور یہاں کے باشندوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیرقانونی درخت کی کٹائی جلد از جلد بند کروائی جائے اور جو عناصر تھر کے حسن کو برباد کرنا چاہتے ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کر کے گگرال کے درختوں کو کاٹ کر ختم ہونے سے بچا لیا جائے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

دلیپ کمار کھتری کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments