گیجٹس سے قریب پر رشتوں سے دور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس تیز رفتار دور میں جہاں اگر ہاتھ میں مہنگا موبائل فون نہ ہو، گھر میں استعمال کے لیے قیمتی ٹیبلیٹ اور لیپ ٹاپ میسر نہ ہو تو ایسے لوگوں کو اپ ٹو ڈیٹ تصور ہی نہیں کیا جاتا، گیجٹس کے استعمال نے جہاں زندگی کو آسان اور پر آسائش بنایا ہے وہیں گیجٹس کے غیر ضروری استعمال سے زندگی کے کئی اہم جز متاثر ہو رہے ہیں جس میں سب سے اہم لوگوں کا آپس میں میل جول کا کم ہونا ہے

آپس میں میل جول کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کرونا وبا کے دوران گھر سے باہر لوگوں روابط رکھے جائیں بلکہ یہاں تو مراد گھر والوں کا ایک دوسرے سے ملنا، گھر کے معاملات پر رائے طلب کرنا اور ایک ساتھ خوشگوار ماحول میں کھانا کھانا ہے، اگر اپنے اردگرد نظر دوڑائی جائے تو دکھائی دیتا ہے جیسے ٹیکنالوجی صرف دنیا بھر میں ہی نہیں بلکہ رشتوں پر بھی حاوی ہو چکی ہے

بچے بھی آج کل آئس کریم یا چاکلیٹ کے لیے نہیں بلکہ موبائل فون کے لیے روتے دکھائی دیتے ہیں جب کہ ہمارے اطراف میں کئی ایسی مائیں موجود ہیں جو بچوں کے رونے پر ان کو گلے سے لگا کر چپ کروانے کے بجائے ہاتھ میں موبائل تھما دیتی ہیں اور اس کے بعد یہ ہی کہتی ہیں کہ آج کل کے بچے تو موبائل کے بغیر رہتے ہی نہیں، دادی نانی سے کہانیاں سنا تو جیسے اب قدیم دور کی یادوں جیسا لگتا ہے، کئی جگہ تو صورتحال یوں کہ کوئی کام کرنا ہو کسی مسئلے کا حل تلاش کرنا ہو یہاں تک کہ کوئی ٹوٹکا ہی جانا ہو تو گھر کے بڑے بوڑھوں کے بجائے انٹرنیٹ کی مدد لی جاتی ہے تاکہ فوری حل مل اور کسی کے سامنے خود کو کم عقل بھی ظاہر نا کرنا پڑے، اس سے عارضی مسئلے کا حل تو مل جاتا ہے لیکن کئی بڑے مسائل جنم لیتے ہیں جس میں سرفہرست رشتوں میں دوری ہے۔

رشتوں کی بنیاد محبت سے ہوتی ہے اور محبت کا احساس ایک دوسرے کو اہمیت دینے اور احساس دلانے سے ہوتا ہے لیکن ٹیکنالوجی نے مصروفیات کو یوں بڑھادیا ہے کہ جیسے اگر صبح سویرے اگر سماجی رابطے کی ویب سائٹ کی نوٹیفیکیشن چیک نہ کی تو صبح کا آغاز ہی نہ ہوا جبکہ صبح سویرے اٹھ کر بڑوں کو سلام کرنے کا رواج صرف ٹی وی ڈراموں کے مخصوص نیک کردار پر ہی دیکھا جاتا ہے۔ دو دہائیوں سے گیجٹس نے آہستہ آہستہ ہماری زندگی میں اپنی ایک اہم جگہ تو بنالی ہے لیکن خود ہمیں ہی زندگی کے اصل رنگوں سے دور کر دیا ہے،

ٹیکنالوجی کے استعمال کے نقصانات پر کئی تحقیقات کی جاری ہیں وہیں ہم نے ماہر نفسیات سے ان کی رائے طلب کی،

جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر انیلہ امبر ملک صاحبہ کے مطابق گیجٹ کے استعمال سے سب سے زیادہ بڑھتی ہوئی عمر کے بچے متاثر ہو رہے ہیں کم عمری میں موبائل فون، ٹیبلیٹ یا لیپ ٹاپ کا عادی ہوجانا ایموشنل ہیلتھ، مینٹل ہیلتھ، فزیکل ہیلتھ سمیت سوشل ہیلتھ کو بھی متاثر کرتا ہے خاص طور سے موبائل فون کے استعمال کی زیادتی سے سروائیکل یعنی جوڑوں کا درد، حافظے میں کمی، توجہ میں کمی اور عملی زندگی میں جینے اور احساسات میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

انیلہ امبر صاحبہ کہتیں ہیں اگر یوٹیوبرز کو دیکھیں تو یوٹیوب کے ذریعے کئی یوٹیوبر اچھی آمدنی کما رہے ہیں اور گولڈن اور سلور بٹن حاصل کر کے خوب پذیرائی بھی حاصل کرتے ہیں لیکن عملی زندگی میں اپنے ساتھیوں سے تعریفیں سننا جیسے بھول ہی گئے ہیں۔ گیجٹ انسانوں کو حقیقی دنیا سے دور کر رہا ہے اور جس کے باعث کئی بچوں اور ٹین ایج نوجوانوں میں تہذیب کی کمی آجاتی ہے عام طور سے جو بچے اور بڑے گیجٹس کے عادی ہوتے ہیں وہ تنہائی پسند ہو جاتے ہیں لوگوں سے میل جول کے بجائے تنہا رہ کر سماجی رابطے کی سائٹ سے دوردراز کی لوگوں سے دوستی تو کر لیتے ہیں لیکن اپنے قریبی رشتوں سے دور ہو جاتے ہیں جس میں ماں باپ کی شفقت گھر والوں کا پیار ان کے لیے معنی نہیں رکھتا

انیلہ امبر نے مزید کہا کہ جو بچے آٹھ یا دس ماہ کی عمر سے گیجٹس استعمال کر رہے ہیں وہ آگے جا کر ایک ریٹائر جنریشن میں تبدیل ہوجائیں گے، گیجٹس ایڈکشن صرف ایک نہیں بلکہ کئی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں جس میں برین سیل کا متاثر ہونا، بینائی میں کمی، پہلے اینزائٹی اور پھر ڈپریشن میں مبتلا ہوجانا عام ہے اور یہ ہی نہیں بلکہ ذہنی امراض کے ساتھ ساتھ جسمانی نشو و نما میں بھی کمی آتی ہے کیوں گیجٹس کے عادی بچے کھیل کود اور جسمانی ورزش کو نظرانداز کر دیتے ہیں جس سے ان کی خوراک عمر کے مطابق کم یا زیادہ ہوتی جس صحت پر منفی اثر مرتب ہوتے ہیں،

گیجٹس جہاں ہماری ضروریات زندگی بن گئی ہیں وہیں تیزرفتار ٹیکنالوجی نے رشتوں کو بہت دور کر دیا ہے نہ والدین کے لیے بچوں کے پاس وقت ہے نہ بچوں کے لیے والدین کے پاس جو طبقات یہ گیجٹس کریدنے کی سکت نہیں رکھتے وہ ان گیجٹس کو حاصل کرنے کی چاہ میں اپنی زندگی اصل رنگوں سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں۔ رشتوں سے ملنے والا سکون دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر ہے جو ٹیکنالوجی کے باعث ملتی ہے بند کمرے میں ہینڈ فری لگا کر خاموشی سے وقت گزارنے کے بجائے اگر گھر والوں اور احباب کے ساتھ چائے کا کپ اور مونگ پھلی ہو اور ساتھ ڈھیروں گپ شپ تو وقت کہا گزر جاتا ہے پتا بھی نہیں چلتا، جبکہ دن بھر کے بعد ٹریفک کے شور اور ذریعہ معاش کی فکر بھولنا ہو تو اپنوں کی مسکرا ہٹ بہترین تھراپی اور کوئی نہیں،


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments