شیطان کے خطوط


سکریو ٹیپ ( خطوط سی ایس لیوس کا لکھا مسیحی معذرت خواہانہ طرز کا ناول (Christian apologetic novel) ہے، جو پہلی بار 1942 ءمیں شائع ہوا۔ یہ ناول ایک سینیئر شیطان  جس کا نام سکریو ٹیپ  ہے کے، جونیئر شیطان (وارم ووڈ) کو لکھے گئے ان خطوط پر مشتمل ہے کہ جن میں وہ اسے دور جدید کے انسانوں کو بھٹکانے کے داؤ پیچ سکھاتا ہے۔

نوٹ: گول واوین ( ) مصنف کے ہیں، جب کہ چوکور واوین [ ] مترجم نے اردو قارئین کے لئے وضاحت میں اضافے کی غرض سے شامل کیے ہیں۔

خط نمبر 1
میرے عزیز وارم ووڈ،

میں نے تمہاری اس بات پر غور کیا کہ تم اپنے مریض کے مطالعہ کی نگرانی کر رہے ہو، اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہو کہ وہ اپنے مادہ پرست دوست سے زیادہ سے زیادہ میل ملاقات رکھے۔ مگر کیا تم یہاں کوتاہ نظری سے کام نہیں لے رہے؟ لگتا ہے تمہارا خیال تھا کہ یوں تم اسے غنیم کی گرفت سے دور رکھ سکو گے۔ یہ طریقہ یقیناً کارگر ہوتا اگر وہ [تمہارا مریض] چند صدیاں پیشتر کے دور میں جی رہا ہوتا۔ اس دور میں انسانوں کے لئے معلوم ہوتا تھا کہ آیا کوئی بات ثابت ہوئی ہے یا نہیں۔

اور اگر کوئی بات ثابت ہو جاتی تو وہ اس پر ایمان بھی لے آتے۔ وہ اپنی فکر کو اپنے عمل سے متعلق رکھتے، اور کسی منطقی تلازم سے حاصل ہونے والے نتائج کے بعد اپنے طرز زندگی کو بدلنے پر آمادہ رہتے تھے، مگر اب ”ہفت روزہ پریس“ اور دیگر اس قبیل کے ہتھیاروں کے ذریعے ہم نے یہ صورتحال بدل دی ہے۔ تمہارا یہ آدمی بچپن ہی سے اپنے ذہن میں درجنوں باہم عدم مطابقت رکھنے والے فلسفوں کی اچھل کود کا عادی ہے۔ وہ نظریات کو ”صحیح“ یا ”غلط“ کے تناظر میں نہیں دیکھتا، بلکہ ”عالمانہ“ یا ”عملی“ ، ”بوسیدہ“ یا ”عصری“ ، ”روایتی“ یا ”بے رحم“ ہونے کے نکتہ نظر سے پرکھتا ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اسے چرچ سے دور رکھنا چاہتے ہو تو اصطلاحات نہ کے استدلال تمہارے بہترین حلیف ثابت ہوں گے۔ اسے یہ سجھانے میں زیادہ وقت برباد نہ کرو کہ مادہ پرستی ہی درست ہے! اسے یہ سوچنے پر مائل کرو کہ یہ مضبوط ہے یا واضح ہے یا پھر دلیرانہ ہے۔ نیز یہ کہ یہی مستقبل کا فلسفہ ہے۔ وہ اسی قسم کی چیزوں کو اہم مانتا ہے۔

استدلال سے متعلق مشکل یہ ہے کہ یہ، ساری کشمکش کو دشمن کی سرزمین میں لے جاتا ہے اور وہاں دشمن بھی دوبدو جواب دیتا ہے۔ لیکن جہاں تک اس نوعیت کے عملی پراپیگنڈا کی بات ہے جو میں تجویز کر رہا ہوں، تو صدیاں گواہ ہیں کہ وہ اس میدان میں ہمارے زمینی باپ [ابلیس] سے کئی گنا کمتر ہے۔ دلیل و حجت بازی، سے تم مریض کی عقل کو بیدار کر دیتے ہو، اور ایک بار عقل بیدار ہو جائے تو پھر نتائج سے متعلق کون پیش گوئی کر سکتا ہے؟

اگرچہ ایک مخصوص راہ پر چلتی فکر کی گاڑی کو بھی موڑ کر اپنے مطلوبہ ہدف کی طرف لے جایا جاسکتا ہے، تاہم تمہیں معلوم ہو گا کہ اس سے تم اپنے مریض میں آفاقی مسائل پر غور و فکر کی خطرناک عادت کو تقویت پہنچا رہے ہوتے ہو، جس کے باعث اس کی توجہ فوری نوعیت کے حسی تجربات سے ہٹ جاتی ہے۔ یہ تمہارا کام ہے کہ اس کی توجہ کی سمت درست رکھو۔ اسے سکھاؤ کہ وہ اسی [فوری حسی تجربات ] کو ”حقیقی زندگی“ کہے، اور اسے یہ نہ پوچھنے دو کہ ”حقیقی“ کے کیا معنی ہیں۔

یاد رہے، کہ وہ تمہاری طرح ایک خالص روح نہیں۔ تم چونکہ کبھی آدم زاد نہیں رہے (آہ، دشمن کا یہ قابل نفرت تفوق! ) سو تمہیں اندازہ نہیں کہ ان پر عامیانہ پن کا کس قدر دباؤ ہوتا ہے۔ میرا ایک مریض اچھا خاصا ملحد تھا۔ وہ برطانوی عجائب گھر میں مطالعہ کیا کرتا تھا۔ ایک دن وہ بیٹھا مطالعہ میں مصروف تھا کہ میں نے اس کے ذہن کی رو کو غلط سمت میں بڑھتے دیکھا۔ دشمن کا ہاتھ اس کے گلے تک پہنچنے کو تھا۔ میری بیس برس کی محنت ٹھکانے لگنے والی تھی۔

اگر میں بدحواس ہو کر دلیل و حجت کے ذریعے دفاع کی کوشش کرتا تو کام تمام ہو جاتا، پر میں ایسا احمق نہ تھا۔ چنانچہ میں نے آدم کے اس عضو پر حملہ کیا جس پر میرا قبضہ مضبوط تھا، اور مشورہ دیا کہ اب دوپہر کا کھانا کھا لینا چاہیے۔ دشمن [خدا ] نے غالباً جوابی تجویز دی (تم کبھی اس کی کن سوئیاں نہیں لے سکتے جو وہ ان سے کہتا ہے ) کہ یہ کام کھانے سے زیادہ اہم ہے۔ کم از کم میرا یہی قیاس ہے کہ اس نے یہ کہا ہو گا، سو میں نے جواباً کہا: ”یقینا۔ اور یہ اس قدر اہم کام ہے کہ صبح کے اختتام پر اس سے نبردآزما ہونا ٹھیک نہیں“ ۔ مریض کے چہرے پر بشاشت کے آثار ہویدا ہونے لگے، اور جب تک میں نے اس پر یہ اضافہ کیا کہ ”کھانے کے بعد تازہ دم اس مسئلے پر غور کرنا چاہیے“ ، وہ دروازے کے قریب تھا۔ اسی طرح ایک مرتبہ وہ گلی میں تھا جب میں نے ایسی ہی ایک جنگ جیتی۔ میں نے اس کی توجہ اس لڑکے، جو دوپہر کے اخبار کی صدا لگا رہا تھا، اور گزرتی ہوئی بس نمبر 73 کی طرف مبذول کی۔

بس کے پائے دان تک پہنچنے سے پہلے ہی میں یہ خیال اس کے دل میں راسخ کر چکا تھا کہ ان تمام اوٹ پٹانگ خیالات کا علاج، جو ایک گوشہ نشین کتابی کیڑے کے ذہن میں گردش کرتے ہیں، ”حقیقی زندگی“ کی ایک صحت بخش خوراک ہے (جس سے مراد تھی بس اور اخبار) ۔ یہ خیال اسے باور کرانے کے لئے کافی تھا کہ ”اس قسم کی چیزیں [منطق وغیرہ]“ حقیقت نہیں ہو سکتیں۔ وہ جانتا تھا کہ بال بال بچا ہے۔ آنے والے سالوں میں وہ لطف لے لے کر بیان کیا کرتا کہ کیسے ”حقیقت سے متعلق وہ بیان میں نہ آ سکنے والی حس، خالص منطق جیسے ان خرافات کے خلاف ہماری آخری پناہ گاہ ہے ’‘ ۔ وہ اب ہمارے باپ [ابلیس]کی پناہ گاہ میں حفاظت سے ہے۔

کیا میرا نکتہ واضح ہوا؟ بھلا ہو ان میکانیتوں کا جو ہم نے ان کے اندر صدیوں پہلے چالو کی تھیں، کہ جن کے باعث ان کے لئے نامانوس پر ایمان لانا ناممکن ہے، اس کیفیت میں کہ جب مانوس ہر وقت نگاہوں کے سامنے ہے۔ اس پر اشیاء کے عامیانہ پن کی بمباری جاری رکھو۔ سائنس (میری مراد حقیقی سائنس سے ہے ) کو عیسائیت کے خلاف بطور دفاع استعمال کرنے کی کوشش نہ کرنا، کہ اس سے اسے ماورائے حواس حقائق کے بارے سوچنے کی تحریک ملے گی۔

اس امر کی افسوسناک مثالیں جدید ماہرین طبیعات میں ملتی ہیں۔ اگر اسے سائنس کے پانیوں میں اترنا ہی پڑے تو اسے معاشیات اور سماجیات تک محدود رکھو، اور اسے اس مطاع عزیز ”حقیقی دنیا“ کو ہاتھ سے گنوانے نہ دو۔ سب سے اچھا یہی ہو گا کہ اسے سائنس پڑھنے ہی نہ دو، اور اس میں یہ احساس پیدا کرو کہ وہ سب جانتا ہے، اور جو باتیں بھی اسے روز مرہ کی گپ شپ اور مطالعے کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہیں ”جدید تحقیق“ کے حاصلات ہیں۔ یاد رکھو، تمہارا کام اسے مست رکھنا ہے، گو کوئی تمہارے نوجوان ساتھیوں کی کی گفتگو سنے تو ایسا لگا جیسے تمہارا کام [انسان کو] پڑھانا ہے۔

تمہارا چچا،
سکریو ٹیپ

Facebook Comments HS