پرویز خٹک سگریٹ پینے گئے تھے


کل منی بجٹ پیش کرنے سے قبل تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ اچانک سوشل اور غیر سوشل میڈیا پر خبریں گرم ہو گئیں کہ پرویز خٹک نے گویا بغاوت ہی کر دی ہے۔ خبریں اڑیں کہ پرویز خٹک نے کپتان کو کہا کہ آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے، گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پس بھی ہم رہے ہیں، اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے۔

خبروں کے مطابق پرویز خٹک کی اس گفتگو پر وزیراعظم ناراض ہو گئے۔ کہنے لگے کہ اگر آپ مجھ سے مطمئن نہیں تو کسی اور کو حکومت دے دیتا ہوں۔ سب کے سامنے آپ مجھے بلیک میل کر رہے ہیں، میں بلیک میل نہیں ہوں گا، آپ مجھے بلیک میل نہیں کر سکتے۔ یہ کہہ کر وزیراعظم اجلاس سے اٹھ کر جانے لگے تو خیر خواہوں نے انہیں روک لیا۔ اس پر پرویز خٹک اٹھ کر باہر چلے گئے۔

جب بعد میں پرویز خٹک سے سوال پوچھا گیا کہ یہ کیا باتیں اڑ رہی ہیں تو انہوں نے نہایت دلیری سے ڈٹ کر جواب دیا، ”ٹی وی دیکھ کر حیران ہو گیا ہوں، ٹکر چل رہے ہیں، جیسے میں نے پتہ نہیں کیا طوفان کھڑا کیا۔ ہم نے صرف جو اپنی گیس کی پرابلمز تھیں اس پر ڈسکشن ہوئیں، حماد اظہر کو کوئسچن کیا، اور آپ لوگوں نے اتنا بڑا ہنگامہ ڈال دیا۔ عمران خان میرا لیڈر ہے، میں اس کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتا، میں ان کے ساتھ ہوں، پلیز سارے میڈیا کو کہتا ہوں کہ اس کو سٹاپ کر دیں، میں اگر باہر گیا، میں سموکنگ کرتا ہوں، میں ہر میٹنگ میں باہر جاتا ہوں۔“

یعنی وہی میڈیا نے رائی کا پہاڑ اور پر کا کوا بنایا تھا۔ پرویز خٹک صاحب کو گیس کی شکایت تھی، انہوں نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں تکلیف کا اظہار کیا۔ اس پر یا تو انہیں باہر بھیج دیا گیا یا مہذب افراد کی طرح وہ خود اٹھ کر باہر چلے گئے۔ غالباً باہر انہیں کسی نے کوئی زیادہ سٹرانگ یا پکی والی سگریٹ تھما دی ہو گی جسے پینے کے بعد انہوں نے کوئی بات کر دی تو میڈیا اسے لے اڑا۔

شکر ہے کہ اب معاملہ صاف ہو گیا ہے۔ ورنہ لوگ تو خبریں اڑا رہے تھے کہ بس اب ان ہاؤس تبدیلی آ رہی ہے، پرویز خٹک ہی وزیراعظم کے متبادل امیدوار ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ کسی نے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ بات سن کر شاہ محمود قریشی صاحب کے دل پر کیا بیتی ہو گی؟

جہاں تک وزیراعظم کے اٹھ کر باہر جانے یا اپنی جگہ کسی اور کو وزیراعظم بنانے کی پیش کش کا تعلق ہے تو وہ بھی قطعاً ناقابل اعتبار بات ہے۔ جس شخص نے وزیراعظم بننے کے لیے بائیس سال جدوجہد کی ہو کیا وہ اپنی جگہ کسی دوسرے کو وزیراعظم بننے دے گا؟ کپتان تو اس حد تک کفایت شعار ہے کہ کسی گھر آئے شخص کو چائے تک نہیں دیتا، وہ بھلا اپنی حکومت کسی اور کو دے گا؟

اور پھر کپتان کے کردار کی گواہی تو سب کے سامنے ہے۔ جب کپتان کرکٹ کھیلتا تھا تو منشیات وغیرہ کے معاملے میں قاسم عمر نامی ایک نہایت اچھے کھلاڑی نے کپتان کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی تھی۔ کپتان نے اسے باہر بھیج دیا تھا، خود باہر نہیں گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرویز خٹک نے کپتان کو بلیک میل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ باہر جانے کا سبب بس سگریٹ کی حاجت ہو گی۔

شکر ہے کہ کپتان سگریٹ یا کسی دوسری شے کا عادی نہیں ہے۔ ہم تو حیران ہیں کہ پرویز خٹک کے باہر جانے پر میڈیا اتنی افواہیں اڑا رہا ہے، اگر کپتان یوں اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے کچھ دیر کے لیے باہر چلا جاتا تو پھر میڈیا کیا قیامت برپا کر دیتا؟

بہرحال سب معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہو گیا۔ تمام حکومتی سیاست دانوں نے فیصلہ کیا کہ عوام سے قربانی لی جائے۔ منی بجٹ پاس ہو گیا۔ حکومت گرنے کی افواہیں بھی دم توڑ گئیں۔ ان افراد کی بات پر ہمیں تو یقین نہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ کپتان کی آفر پر کہ ”اگر آپ مجھ سے مطمئن نہیں تو اور کسی کو حکومت دے دیتا ہوں“ ، تحریک انصاف والوں تک نے حکومت لینے سے انکار کر دیا کہ آپ نے یہ حال کیا ہے تو آپ خود ہی حکومت بھگتیں۔ ایسی افواہیں تو بہت دنوں سے اڑ رہی ہیں کہ اسی بنیاد پر نواز شریف اور آصف زرداری بھی حکومت لینے پر تیار نہیں۔ تو بھلا کیا ہم ان پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیں؟ وزیراعظم نے بتایا تو ہے کہ اگلے تین ماہ میں پاکستان ایشیا کا تیز ترین ترقی کرنے والا ملک ہو گا، پھر پریشانی کس بات کی؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1504 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments