سردیوں کی کپکپاتی باتیں
ماما لالو فرماتے ہیں کہ سردیاں اس لیے بھی اچھی ہوتی ہیں کہ نہانے کی کوئی خاص ٹینشن نہیں ہوتی۔ مہینہ بھر بھی نہ نہایا جائے تو بندہ بانس نہیں مارتا۔ شرٹ استری کرنی نہیں پڑتی کیونکہ سوئیٹر یا جیکٹ سب چھپا لیتے ہیں البتہ سفید شرٹ کے کالر کالے ہو جائیں تو الگ بات ہے۔ جینز تو جتنی پھٹی پرانی اور میلی کچیلی اتنی ہی ماڈرن۔ اضافی فائدہ یہ کہ سردیوں میں یہ چپکتی نہیں ہے۔
موسموں میں سردی سب سے زیادہ شریف النفس اور حیادار موسم ہوتا ہے۔ اسی کی برکتوں سے گوریاں بھی مشرقی خواتین کی طرح ڈھکی ڈھکائی باہر نکلتی ہیں۔ اکثر مائیں اپنے بچوں کو باہر نکالنے سے پہلے اس طرح ڈھانپتی ہیں جیسے پرانے زمانوں میں جنگجوؤں کو میدان جنگ میں اتارنے سے پہلے زرہ پہنائی جاتی تھی۔ بعض حساس مائیں تو اتنا اہتمام کرتی ہیں کہ کپڑوں کے ڈھیر سے بچے کو ڈھونڈنا پڑتا ہے۔
سردیوں میں جوڑوں کے درمیان سوشل ڈسٹنسنگ ختم ہو جاتی ہے اور حکومت کو اس پر اعتراض بھی نہیں ہوتا۔ دن بھر ایک دوسرے کا چین سکون غارت کرنے والے میاں بیوی بھی سردی کی راتوں میں اس طرح چپک کر سوتے ہیں کہ ہر دو طرف کے خاندانوں کو انقلاب کی امید بندھ جاتی ہے، سردیوں کو شادیوں کا موسم بھی اسی فلسفے کو مدنظر رکھ کر قرار دیا گیا ہے۔
ایشیا میں کنواروں کو ویسے ہی بے کار گردانا جاتا ہے لیکن سردیاں آتے ہی انہیں خود کو بھی اپنی زندگی بے ثبات لگنے لگتی ہے، بعض شدید کنوارے تو زندگی سے مایوس ہو کر پھپھو کی بیٹی کو بھی ”جنم جنم کا دشمن“ بنانے پر تل جاتے ہیں۔ عام طور پر ہر کنوارے کی حسرت ہوتی ہے کہ کاش! کمبل میں کوئی ساتھ ہوتا تو حرارت اور شرارت دگنی ہو جاتی جبکہ شادی شدہ حضرات کی حسرت ہوتی ہے کہ کاش! کمبل بلا شرکت بیوی ہوتا۔
کنواروں اور شوہروں سے بھی زیادہ تکلیف میں ایک اور مخلوق ہوتی ہے جسے لوگ شعرا کہتے ہیں۔ یہ ایسی کوسنے دیتے ہیں کہ سردی اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے۔ کراچی کے شعرا کی جلی کٹی سن کر تو سردی نے آنا ہی کم کر دیا ہے۔
سردیوں میں اردو کے محاورے ”چولہے ٹھنڈے پڑ جانے“ کا مطلب فاقہ کشی ہرگز نہیں بلکہ صرف اور صرف گیس کی قلت ہوتا ہے۔ ویسے پاکستان میں حالات وہ چل رہے ہیں کہ امیر اور غریب کے چولہے یکساں ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ خان کا امیر اور غریب کا ایک پاکستان والا وعدہ بھی پورا ہوا مگر پچھلی حکومتوں کی سازش کا کیا کیجیے کہ لوگ مانیں گے یہ بھی نہیں۔


