برف زار جن کا مد فن بن گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سانحۂ مری;وزیراعظم عمران خان کہاں ہیں؟

جون 2017 میں ایک آئل ٹینکر کراچی سے بہاول پور جا رہا تھا۔ آئل ٹینکر میں 25000 لیٹر تیل تھا۔ ڈرائیور کی غلطی سے آئل ٹینکر بہاول پور کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا۔ تیل کا سمندر سڑک پر بہنے لگا۔ بد قسمتی سے حادثے کے وقت انتظامیہ کی نفری وہاں موجود نہیں تھی۔ قرب و جوار سے سیکڑوں لوگ گھروں سے نکل آئے اور مختلف برتنوں میں تیل جمع کرنے لگے۔ ہوس و لالچ نے اس طرح ان کے دلوں میں گھر کر لیا کہ ممکنہ خطرے کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہا۔

چند منٹ میں سیکڑوں لوگ اکٹھے ہو گئے۔ جن میں مرد، خواتین، بوڑھے، بچے سب شامل تھے۔ لوگ تیل جمع کرنے میں مصروف تھے کہ کسی نے سیگریٹ سلگانے کے لیے دیا سلائی جلائی۔ آئل ٹینکر ایک دھماکے سے پھٹا۔ میلوں پر پھیلا تیل آتش نمرود بن گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں لوگ آتش و آہن میں پگھل گئے۔ اس حادثے میں ڈیڑھ سو سے زائد لوگ ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھے۔

اس المناک حادثے کے وقت وزیراعظم نواز شریف برطانیہ کے سرکاری دورے پر تھے۔ انہیں جونہی اس روح فرسا سانحے کی خبر ملی وہ فوراً اپنا دورہ مختصر کر کے پاکستان پہنچے۔ جائے حادثے کا فضائی نہیں زمینی دورہ کیا۔ مرنے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔ مختلف ہسپتالوں میں جا کر زخمیوں کی عیادت کی اور دکھ کی گھڑی میں ان کی ڈھارس بندھائی۔ مرنے والوں یا زخمیوں کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا نہ انہیں ہوا و ہوس کا پجاری کہا۔

وزیراعلٰی پنجاب بھی وزیراعظم کے شانہ بشانہ تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایسے کسی سانحے کے بعد مرنے والے تو واپس نہیں آتے مگر لواحقین کی ملک کے سربراہ کو اس موقعے پر اپنے درمیان پا کر ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ ان کے حوصلوں کو جلا مل جاتی ہے۔ ان کی بے بسی کے احساس میں کمی آتی ہے۔ ان کے زخم مندمل ہو جاتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ نواز اور شہباز ایسے سانحات کے وقت متاثرین کی داد رسی کرتے دکھائی دیے بلکہ وہ ہر جگہ ایسے ہی پہنچتے تھے۔

شہباز شریف تو متاثرین و مظلومین کے گھروں میں جا کر انتظامیہ کو موقع پر احکامات دیا کرتے تھے۔ حادثات ہوں، قتل و غارت گری کے واقعات ہوں، آتش زنی، سیلاب بلا خیز کے مواقعے ہوں یا موسموں کی شدت کے باعث وقوع پذیر ہونے والے سانحات ہوں ;شہباز شریف فوراً موقعے پر پہنچ جاتے تھے۔ زینب قتل کیس میں جس طرح وزیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف نے ذاتی دلچسپی لے کر درندہ صفت قاتل کو چند ماہ میں کیفر کردار تک پہنچایا تھا، اسے کون بھول سکتا ہے!

دنیا بھر کے سربراہان مملکت ایسے سانحات کے وقت ایسے ہی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مگر ادھر ایک ہمارے ریاست مدینہ جدید کے امیر الموٴمنین ہیں کہ جو ہر ایسے سانحے کی ذمہ داری متاثرین پر ڈال کر ان کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں اور راگ الاپتے ہیں ریاست مدینہ کے قیام کا۔ سانحۂ ساہیوال کے اگلے دن وزیراعظم یہ کہہ کر قطر کے دورے پر چلے گئے تھے کہ قطر سے واپسی پر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچاوٴں گا۔ قطر سے واپسی اب تک نہیں ہوئی۔

شیخ رشید کی وزارت کے دوران ٹرینوں کے بیسیوں خوفناک حادثات میں ہزاروں پاکستانی جان سے چلے گئے مگر وزیراعظم کسی موقعے پر متاثرین کے پاس نہیں گئے۔ نعیم الحق سمیت قریب ترین دوستوں کے جنازوں میں شریک نہیں ہوئے۔ اور تو اور اسلام آباد میں موجود ہونے کے باوجود محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کے جنازے میں شرکت نہیں کی۔

مری کے المناک سانحے نے ہر آنکھ کو اشکبار، ہر دل کو گھائل، ہر سینے کو چھلنی اور ہر روح کو زخمی کر دیا مگر وزیراعظم بنی گالا سے چالیس کلومیٹر کی مسافت پر مری نہیں جا سکے جہاں دو درجن سے زائد شہری اور معصوم بچے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر چل بسے۔ لگتا ہے کہ وزیراعظم کے سینے میں دل کی جگہ پتھر یا برف کی سل ہے جس میں انسانی ہمدردی اور سوز و گداز کی کوئی کرن نہیں پھوٹنے پاتی۔

وزیراعظم بار بار ریاست مدینہ کا حوالہ دیتے ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ریاست مدینہ کے امیر سرکار دو جہاں ﷺ کے پیٹ پر خندق کھودتے ہوئے دو پتھر بندھے تھے۔ حضرت عمر فاروق رض نے قحط کے زمانے میں عام شہریوں کی طرح گوشت اور گھی کا استعمال ترک کر دیا تھا۔ خلیفۂ اول نے اپنی اجرت ایک مزدور کی اجرت کے برابر مقرر کی تھی۔ خلیفۂ چہارم مسجد نبوی ﷺ میں بیٹھ کر عام لوگوں کے ساتھ روکھی سوکھی کھاتے تھے۔

ہمارے وزیر اعظم کو مری کا گورنر ہاوس بہت پسند ہے اور وقتاً فوقتاً وہاں جا کر استراحت فرماتے رہتے ہیں مگر کبھی مری اور اہالیان مری کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کوئی میٹنگ نہیں کی۔ یہاں نواز عمران کا موازنہ مقصود نہیں مگر امر واقعہ یہ ہے کہ مری نواز شریف کی بھی پسندیدہ تفریح گاہ ہے۔ وہ جب بھی وہاں گئے، اپنے گھر میں قیام کیا اور ہر بار مری کے حوالے سے دور رس اور نتیجہ خیز میٹنگ کرتے۔ مری میں برف باری ہر دور میں ہوتی رہی ہے مگر نواز، شہباز کے موٴثر، دور رس اور ٹھوس انتظامات کے باعث کوئی ایسا المناک سانحہ وقوع پذیر نہیں ہوا۔

سچ تو یہ ہے کہ دونوں بھائیوں سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر ان کے جانے سے پنجاب ہی نہیں پورا پاکستان لاوارث ہو گیا ہے۔ عوام جب کسی ابتلا و آزمائش میں ہوں تو ایک حقیقی راہنما صحیح معنوں قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے مثال بن جاتا ہے مگر بدقسمتی سے عمران خان کسی بھی ایسے سانحے کے وقت لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہو کر قائدانہ کردار ادا نہ کر سکے۔ وہ ہمیشہ عوام اور ان کے مسائل سے بہت دور نرگسیت اور انا پرستی کے سحر میں مبتلا رہے اور اپنے خوشامدی ٹولے کی چکنی چپڑی باتیں سن کر خوش ہوتے رہے۔ ریاست مدینہ کے بے مثل امیر حضرت عمر فاروق نے فرمایا تھا کہ : ”میں رعایا کے دکھ درد کو کیسے سمجھ سکوں گا جب تک کہ میں بھی ان کی حالت سے نہ گزروں“ ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments