اشرافیہ اور آدھے پاکستان کے مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان اپنے وسیع و عریض رقبے کی بدولت ”آدھا پاکستان“ کہلاتا ہے اور المیہ ملاحظہ ہو کہ پچھلے ایک عشرے کے دوران ہزارہا جتن کرنے کے باوجود آدھے پاکستان کی سیاسی، معاشی اور معاشرتی بے چینی کا خاتمہ نہیں ہو پا رہا۔ کیونکہ اس آدھے پاکستان کی سیاسی اشرافیہ بد ترین منافقت، لاتعلقی، بے پرواہی اور غیر ذمہ داری کی مرتکب ہو رہی ہے۔

بلوچستان کی سیاسی اشرافیہ سے مراد کیا ہے؟ وہ سیاستدان جو اپنے باپ دادا کے قیام پاکستان میں اہم کردار کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں مگر خود ان کی حد نگاہ صفر ہے۔ گنتی کے وہ چند قوم پرست جو بلوچ اور پشتون قوم پرستی کا دم بھرتے ہیں مگر ان کا ہر قدم بلوچ اور پشتون مفادات کے خلاف ہوتا ہے۔ بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملنے کے بعد ہر حکومت کا حصہ رہنے والے ”ملا“ جو قانونی مسودات کی منظوری کے لئے افرادی قوت کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری نہیں نبھا پائے۔

چند سردار اور نواب جو معاملات کو جوں کا توں رکھنے میں مہارت کے حامل ہیں۔ سٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے کونسلر اور ناظم سے لے کر ایوان بالا تک پہنچنے والے ”سینئر سیاستدان“ جن کی سیاست اخبارات اور نیوز ایجنسیز کے نامہ نگار ان کی مرہون منت ہے۔ چند قبائلی رہنماء جو سرکاری تقاریب میں ڈپٹی کمشنر کے پہلو میں بیٹھ کر قبائلی خانہ پر کرتے ہیں اور وہاں سے نکل کر ”پیٹی ٹھیکیدار“ بن جاتے ہیں۔

تھوڑی سی تحقیق اور دقیق مشاہدہ کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ کوئٹہ کے چند ”سینئر صحافی“ بعض وکلاء رہنمائی، اعلیٰ ( ماتحت نہیں ) عدالتوں کے جج صاحبان، چند بلڈرز ( جن کی اکثریت اب ایوان بالا اور زیریں کا حصہ ہے اور ایک آدھ 2018 ءسے سڑکوں پر ہیں ) آٹھ سے دس بیورو کریٹ بھی اسی اشرافیہ کی ذیل میں آئیں جن کی وجہ سے ”آدھا پاکستان“ تکلیف اور کرب میں مبتلا رہتا ہے مگر انہیں اس ”آدھے پاکستان“ سے کوئی غرض نہیں۔ یہ لوگ بلوچستان پر کبھی نگاہ ڈالتے ہی نہیں اگر ڈالتے بھی ہیں تو اس شعر کی تصدیق بن کر کہ

اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نگاہ ڈالی

سو بلوچستان میں جاری مسائل اسی اشرافیہ کی وجہ سے ہیں اور الزامات نہ جانے کن کن پر ڈالے جاتے ہیں۔ بلوچستان کی محرومی، پسماندگی اور مرکز گریز رجحان کی اصل سوتیں اسی اشرافیہ سے پھوٹتی ہیں۔ آپ ایک طرف آدھے پاکستان کو رکھیں اور دوسری طرف اس اشرافیہ کو آپ کو ساری بات سمجھ میں آ جائے گی۔

بلوچستان سے ڈھائی سو اخبارات، رسائل و جرائد شائع ہوتے ہیں، ہر ٹی وی چینل کا یہاں ٹھیک ٹھاک سیٹ اپ ہے ( اب تو ہر بیورو چیف، رپورٹر، کیمرہ مین اور فوٹو گرافر کا اپنا یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج بھی ہے ) مگر بلوچستان سے رپورٹنگ کیا ہو رہی ہے؟ بدامنی کے واقعات، ایونٹس کی کوریج، بلوچی سجی اور بلوچی چپل کی ساخت پر مبنی ڈیڑھ منٹ کا نیوز پیکج؟ اور بس۔ ہاں البتہ یہ اشرافیہ جب کسی معاملے پر اٹکتی ہے تو پھر بڑے دلچسپ انداز میں رائے عامہ ہموار کی جاتی ہے۔

سب سے پہلے سینئر صحافیوں کو خبر فیڈ کی جاتی ہے۔ وہ اسے چلاتے ہیں اور جب خبر رپورٹ ہوتی ہے تو اس خبر کو جواز بنا کر اسمبلی اور سینٹ والے تقاریر کرتے ہیں جو پارلیمان سے باہر ہیں وہ پریس ریلیز جاری کر کے رائے عامہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے بعد وکلاء کیس لگاتے ہیں۔ جج صاحب سنوائی شروع کرتے ہیں۔ دوران سماعت جو ریمارکس دیے جاتے ہیں انہیں اخبارات جلی سرخیوں میں شائع کرتے ہیں۔ بیورو کریسی کے لوگ ٹیکنیکل ڈنڈی مار کر عدالت میں آدھی معلومات چھپا کر آدھی معلومات پر مبنی رپورٹ جمع کراتے ہیں اور یوں بلوچستان کے اصل مسائل تو پس منظر میں رہتے ہیں مگر وہ مسائل بار بار اجاگر ہوتے ہیں جو عام آدمی کی بجائے اشرافیہ سے متعلق ہوتے ہیں۔

اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو آپ مشاہدہ کریں کہ بلوچستان میں مسائل کیا ہیں اور بحث کن چیزوں پر ہوتی ہے؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

جعفر خان ترین کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments