سراپا تبدیلی اور اخلاص کے بندے



جب بھی میں کسی شاعر کے خیالات کو درپیش حالات کی تشریح کرنے کے لئے زیر غور لاتا ہوں تو خود کو عجیب واہمے کا شکار پاتا ہوں کہ بھلا یہ تشبیہ صحیح ہو گی بھی یا نہیں۔ شاعر چاہے گزر چکا ہو یا زندہ، ہو سکتا ہے کہ اپنے شعر کی معنویت خراب ہونے پہ وہ مجھے معاف کر دے گا مگر حلقہ ذوق سے اس کے چاہنے والے میری عقل کو ضرور کوسیں گے۔ شاعر احباب کبھی کبھی اپنے اشعار کے جوڑوں اور بندوں میں ایسے ایسے احساسات بیان کر جاتے ہیں کہ جیسے ہی کسی احساس سے پردہ اٹھتا ہے، سمجھنے والے کا دل اتنا ہی گرفت میں آ جاتا ہے۔

ایسا ہی ایک عدد شعر آج میرے ہاتھ لگا ہے۔ یوں تو مجھے اس شعر کا ایک ہی مطلب سمجھ آیا جو پہلی بار پڑھنے میں کسی کو بھی آ سکتا ہے، مگر جونہی اس میں چھپے دوسرے احساس کا پردہ کھلا تو اچانک صاحبان اقتدار کی ستم ظریفیاں رفتہ رفتہ ذہن میں لوٹنے لگیں۔ آپ سوچیں گے عجیب احمق شخص ہے نہ جانے کون سے شعر اور کون سے حالات کی بات کر رہا ہے۔ تو لیجیے جناب شعر عرض کیے دیتا ہوں۔

عدم خلوص کے بندوں میں ایک خامی ہے
ستم ظریف بہت جلد باز ہوتے ہیں

ایک پرگو، قادر الکلام، صاحب فن شاعر، عبدالحمید عدم، جن کے چھوٹی بحر میں کہے گئے اشعار اپنے اندر کئی مطالب سمیٹے ہوئے ہوتے تھے، بہت ہی سادہ کلام کرتے تھے۔

یہ شعر انہی سے سرزد ہوا جس میں انہوں نے اخلاص والوں کی ایک برائی کو بڑے سادہ انداز میں بیان کیا۔ جہاں تک موجودہ حکمرانوں کے اقتدار تک پہنچنے کی بات ہے تو یہ پرانی ہو چکی، اب تو حکومت جانے والی ہے۔ مگر جنہوں جنہوں نے بھی حکومت وقت کو اقتدار سونپنے کے لئے حصہ ڈالا ، وہ اس شعر کے مصداق، اب سوچتے ہیں کہ بڑی جلد بازی میں فیصلہ ہو گیا۔ میں تو اس کو خلوص ہی مانتا ہوں آپ چاہے اسے جو بھی نام دیں۔ حصہ تو میں نے بھی ڈالا تھا مگر ایسا نہیں ہے کہ میں خود کو اخلاص کا بندہ کہہ رہا ہوں کیوں کہ میں تو درحقیقت ایک خود غرض انسان ہوں جو اپنے بھلے کے لئے ووٹ کا حق ناحق کیا۔

بس دل کا پرانا درد یاد آ گیا کہ جب ہم نے خلوص دل سے امیر المومنین کے اقتدار کے لئے اپنا تھوڑا سا حصہ ڈالنے کی سعی کی۔ اماں جی کو بھی ساتھ لے گئے کہ چلو اماں چلو ہم بھی ووٹ دینے چلتے ہیں، یہ آدمی بہت اچھا ہے یہ ہماری تقدیر بدلے گا۔ پر تقدیر میں یہی لکھا تھا کہ کچھ نہیں بدلے گا۔ بس یہی قصہ ہے ہم سب کے خلوص کا۔

اخلاص کے بندوں نے نا جانے کس آس پہ امیر المومنین کو منتخب وزیراعظم دیکھنے کے لئے بھٹو خاندان اور شریف خاندان کی قربانیوں کو نظر انداز کیا جو آج کل سویلین بالا دستی کی جنگ میں بودے ہو رہے ہیں۔

اب ان کا احسان نہ ماننے والوں پہ تو ایسا ہی عذاب نازل ہونا چاہیے۔ احسان تو ہے ان کا۔ قرضوں پر بھی ملک کا نظام بہترین چلا گئے اور یہ ہیں کہ ان سے قرضوں پر بھی ملک نہیں چل پا رہا۔ مجھے لگتا تھا امیرالمومنین سچے آدمی ہیں۔ اللہ اپنے سچے بندوں کی حمایت سے کبھی دست بردار نہیں ہوتا۔ مگر خدا ہی کیا کرے جب امیر صاحب نے نیند کی لوریاں گانے والی مامور کر رکھی ہوں۔ ان کی فراست پہ نا جانے کسی جادو کا اثر ہو گیا ہے کہ انہیں اب مہنگائی نظر نہیں آتی بس لوگ یونہی شور کرتے ہیں۔

اب ہر مخلص سوچتا ہے اوہو! یہ تو بہت جلدی میں ہو گیا۔ مہنگائی، افلاس اور بدعنوانی نے عوام کے کا جینا محال کر رکھا ہے اور پھر امیر المومنین فرماتے ہیں کوئی مہنگائی نہیں سب کو بتائیں۔ معاشی اشاریے بہتر ہیں مگر اشارے تو بہت برے ہیں۔ نہیں میرا مسئلہ آپ کی سچائی یا سادگی نہیں بلکہ آپ کی لا علمی ہے۔ حالات سبھی ممالک کے ہی برے ہیں مگر یہ بتا دیجئے کہ اپنے برے حالات کو چھپانے کے لئے ہمسایوں کے برے حالات کا ذکر کب تک کرتے رہیں گے۔

اپنے گھر کے بچے بھوکے مر رہے ہوں تو ان کو یہ نہیں کہا جاتا کہ ساتھ والے گھر کے بچے آپ سے زیادہ بھوکے ہیں۔ مان لیں کہ دلاسا دینے کا یہ بہت ہی بھونڈا طریقہ ہے۔ میں نے اپنی بات کہہ کر شہادتوں کا انتظار نہیں کیا کیوں کہ ناسمجھ ہوں میں۔ شہادتیں جب آپ کی جماعت کے اندر سے موصول ہوں تو ہیں تو بات کرنا میرا حق ہے۔ حکومت کی نا اہلی ثبت شدہ ہو چکی ہے جو مہنگائی بحران اور مافیا سے لڑنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ جماعت کے ایک سابق ترجمان اور کابینہ اجلاس کی تازہ کہانیاں ان باتوں کی تصدیق کرتی ہیں۔

مجھے اب کوئی امید نہیں رہی سوا اس کے کہ خدائے برتر ہی کی جانب سے کوئی معجزہ ہو جائے۔ ہم کو یعقوب نہ یوسف (علیہم السلام) سے کوئی نسبت ہے مگر تبدیلی کے انتظار میں آنکھیں سفید ضرور ہو گئی ہیں۔ اب تو کسی موسی و عیسی (علیہم السلام) کا انتظار بھی نہیں رہا کیوں کہ قیامت تو سروں پہ آ چکی ہے۔ مالک اب تو ہم پہ رحم کر۔ ہمیں اتنی حمیت دے کہ اپنے کرموں اور غفلت کے بوجھ اتار کے سچ کو دیکھ سکیں۔ پھر بھی جن کو امید بچی ہے ان کے لئے، افواہوں کا بازار سرگرم ہے کہ میاں صاحب پھر سے لوگوں کی امیدیں باندھنے واپس تشریف لانے لگے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عثمان احمد منشا کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments