تجاوزات کا راجہ بازار



میری خواہش ہے کہ میرے یہ چند ٹوٹے پھوٹے حروف کوئی حکام بالا تک پہنچا دے۔
عمران خان نہ سہی۔ چیف جسٹس تک ہی پہنچا دے۔ چلیے وہ بھی نہ سہی چیئرمین سی ڈی اے تک ہی پہنچ جائیں۔
اور یہ بھی کہ میری یہ خواہش تیر بہدف کا کام کرے اور عین نشانے پر جا کر لگے

جو مسئلہ میں بیان کرنے جا رہی ہوں، اس کے حل کے لئے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اسلام آباد سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر شاد و آباد ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن کا چکر لگا لینا ہی کافی ہے۔

کرسی کی بہار تو چند روزہ ہوتی ہے۔ مگر جس دھج پر کوئی کرسی نشین ہوتا ہے وہ سج دھج ہی یاد رہ جاتی ہے۔ سی۔ ڈی۔ اے کے سابق چیئرمین لاشاری کے بعد سے اسلام آباد ایسا یتیم ہوا کہ پھر اس کا کوئی پرسان حال نہ رہا

گزارش یہ ہے کہ خدارا!
اسلام آباد کو راجہ بازار بننے سے بچایا جائے۔

یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ ہم اپنے گھر کی چاردیواری تک تو مالک ہیں۔ مگر یہاں کے مکینوں کی حرص ہوس اور لالچ ملاحظہ فرمائیے۔ کہ میرے ہی گھر کے ساتھ ایک شخص نے گلی میں لان بنا کر گلی کا بیشتر حصہ قبضے میں کیا پھر اس میں محافظ کے نام پر کیبن رکھا۔ پھر کیبن کے ارد گرد سبزے کی دیوار بنائی۔ جب سبزے کی دیوار نے کیبن کو ڈھانپ لیا تو کیبن کے ساتھ ٹوائلٹ بھی بن گیا اب وہ کیبن اچھا خاصا سرونٹ کواٹر بن چکا ہے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے۔

آئی ایٹ سیکٹر جہاں میں رہتی ہوں ہر روز کھلی آنکھوں سے ان سب غیر قانونی معاملات کا مشاہدہ کرتی ہوں۔ کڑھتی ہوں اور پھر اپنی بے بسی کا ماتم کر کے خاموش ہو جاتی ہوں۔ میرے جیسے نہ جانے کتنے لوگ روز ان اعصاب شکن واقعات پر کڑھتے ہوں گے ۔

مگر کیا کریں یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اسلام آباد کی ہر گلی میں ہر گھر ایسی تجاوزات کا مرتکب ہے۔ سڑکیں چھوٹی ہو گئی ہیں۔ گھروں کے باہر سڑک کے دونوں اطراف گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں۔ جن کے بیچ سے گزرنے کا کام مشاق ڈرائیور ہی کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں مجھے تو بسا اوقات اپنی گلی کو چھوڑ کر ادھر ادھر کی گلیوں سے راستہ ڈھونڈ کر اپنے گھر آنا پڑتا ہے۔

اسلام آباد کے چھوٹے بڑے سیکٹر سب اس وبائی حرص اور لالچ میں مبتلا ہیں۔ ایف ایٹ کی وہ گلی جس میں بابر اعوان قانون کا محافظ اور حکومت کا حصہ دار رہتا ہے۔ ایسی ہی تجاوزات کی انتہا ہے۔ چار چار کنال کے گھر ہیں مگر گلی میں گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ لان کے نام پر جنگلے بنے ہوئے ہیں۔ بعض لوگوں نے تو اپنے ان لان کو پکی اینٹوں کے حصار میں لیا ہوا ہے۔

کوئی ہے برسر اقتدار ماں کا لال پوچھنے والا۔ سزا دینے والا۔

آئی نائن کی سڑکیں تو بہت تنگ ہیں ان پر بھی یہی کارگزاری نظر آتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سیکورٹی کے نام پر ہی جو چاہتا ہے بیریئر لگا کر سڑک عام لوگوں کے لیے بند کر لیتا ہے۔

سڑکوں پر شہریوں نے اپنی مرضی کے مطابق سپیڈ بریکر بنوائے ہوئے ہیں۔ سپیڈ بریکرز کی بھی کوئی حد نہیں کہیں کہیں تو وہ جسم بریکر اور کار بریکر کا باعث بنتے ہیں مریضوں کو گاڑی میں بھی ان پر سے گزرتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے۔ شہر اقتدار میں کوئ پرسان حال نہیں۔ قانون منہ چھپائے پھرتا ہے۔ اور قانون کے محافظ عام لوگوں کی دسترس میں نہیں۔ زندگی مجبور ہے ایماندار اور شریف لوگ بے بس ہیں۔

Latest posts by نعیم فاطمہ علوی (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

نعیم فاطمہ علوی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments