وزیراعظم صاحب اور جہاد


وزیراعظم عمران خان جب یہ فرماتے ہیں کہ میں ہر روز جہاد کے لیے نکلتا ہوں۔ تو پاکستانی حیرت سے سوچنے لگتے ہیں کہ خان صاحب کس کے خلاف جہاد میں مصروف ہیں۔ کیا وہ عام آدمی کے مصائب، مشکلات اور پریشانیوں کا سدباب کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یا مہنگائی اور بیروزگاری ختم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ خلفائے راشدین کی طرح چھپ کر لوگوں کی حالت زار دیکھنے میں مصروف ہوتے ہیں۔

مگر نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے موجودہ دور میں اپنی بقا کی لڑائی لڑنے میں مصروف ہیں۔ غریب کو تو چھوڑیں مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے بھی پریشانی کے عالم میں ہیں۔ بجلی کے بل دیکھ کر قوم گھبرانے لگی ہے۔ اصل بل 2000 ہوتا ہے مگر ایف پی اے نام کا بھتہ 4000۔ باقی چھوٹے موٹے سرچارج کی بھرمار الگ۔ بندہ جائے تو جائے کہاں۔

ملک کا چھوٹا طبقہ اس ہوشربا مہنگائی کی وجہ سے بڑا دل گرفتہ ہے۔ ایک طرف گھریلو اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، دوسری طرف ہوش ٹھکانے لگانے والے یوٹیلٹی بل۔ اور تیسری طرف آسمان کو چھوتی ہوئی ادویات کی قیمتیں۔

مگر خان صاحب تو مان ہی نہیں رہے۔ وہ اب بھی پاکستان کو سستا ملک قرار دیتے ہیں۔ ان کا فرمانا ہے پٹرول کی قیمت اب بھی کم ہے۔ وہ مزید فرماتے ہیں اس سال موٹر بائیکس کی ریکارڈ سیل ہوئی ہے۔ جو خوشحالی کی علامت ہے۔ ان کے بھونپو بجانے والے درباری خان صاحب کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

تحریک انصاف کے انفارمیشن سیکرٹری احمد جواد خان صاحب کے بعض ساتھیوں کو مسخرے اور جوکروں سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ جواد صاحب گھر کے بھیدی رہ چکے ہیں۔ لہذا وہ بہتر ہی جانتے ہوں گے۔

وزیراعظم سے سوال کرنے کی جرآت کون کر سکتا ہے حضور والا اگر ملک سستا ہے تو وہ جہاد کس کے خلاف فرما رہے ہیں۔ کشمیر سے تو آپ دستبرداری اختیار کر چکے۔ تحریک طالبان پاکستان سے آپ صلح کے خواہش مند ہیں۔ تحریک لبیک کے سامنے آپ گھٹنے ٹیک چکے۔ چینی، گندم، ادویات، پٹرولیم اور دیگر مافیاز کو آپ نے این آر او دے دیا۔ آپ زرداری صاحب اور شریف برادران کو تین سال سے رگڑا دینے میں مصروف ہیں۔ بدقسمتی سے مگر ان سے ایک چونی بھی نہیں نکلوا سکے۔ فالودے والا، پاپڑ والا، گول گپے والا، پکوڑے کچوری والا، درزی، حجام، کلرک، اکاؤنٹنٹ، ملازم اور فلاں فلاں کے اکاؤنٹس سے کروڑوں برآمد ہونے کی داستانیں سن سن کر لوگوں کے کان پک چکے۔ مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ یہ اربوں کی رقوم کہاں گئیں جو ان معمولی اہلکاروں اور چھابڑی والوں کے اکاؤنٹس سے نکلیں۔

جناب وزیراعظم مشیر احتساب اور نیب کے سربراہ کی پھرتیاں کسی کام کی ثابت نہ ہوئیں۔ کیونکہ زرداری صاحب اور نواز شریف چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ وہ آپ کو ایک ٹکا دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ آپ قائد حزب اختلاف سے ہاتھ ملانے کے روادار نہیں کیوں کہ آپ ان کو کرپٹ سمجھتے ہیں۔ مگر لینڈ مافیا، چینی اور گندم مافیا وغیرہ آپ کے دست راست ہیں۔ آپ کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہیں۔ آپ ان کا جہاز اور لینڈ کروزر بڑی خوشی سے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان سے دعوتیں بھی کھاتے ہیں۔ ایڈوکیٹ وجیہ الدین نے آپ پر بڑے سنگین الزامات لگائے ہیں کہ آپ کے کچن کا خرچہ جہانگیر ترین چلاتے رہے۔ مگر ان کے خلاف آپ نے ہتک عزت کا دعوی ہی نہیں کیا۔ اس میں کیا منطق ہے۔

دراصل آپ پاکستان کے غریب آدمی سے لڑنے میں مصروف ہیں۔ آپ بیواؤں کی چیخیں نکلوا رہے ہیں۔ ان پر مہنگائی اور بے روزگاری کا بوجھ عظیم ڈال کر۔ آپ کسانوں کے خلاف جہاد فرما رہے ہیں کھاد کی ذخیرہ اندوزی کی صورت میں۔ خان صاحب آپ چھوٹے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے خلاف جہاد میں مصروف ہیں۔ اگر آپ ریاست مدینہ کے نقش پا پر چلنا چاہتے ہیں۔ تو گندم، چینی، کھاد اور ادویات مافیا کے خلاف عملی کارروائی کریں۔ ان کو ریاست کی طاقت سے پس زندان کریں۔ تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔ مافیا کے خلاف کیسز کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ کیس کو دیکھیں فیس کو نہیں، یہی انصاف کا تقاضا ہے۔

آپ چھوٹے ملازمین کے بجائے کارپوریشنز، نیم سرکاری اداروں میں تعینات ان بڑے مگر مچھوں کے خلاف جہاد فرمائیں جو بیس سے لے کر ساٹھ ستر لاکھ ماہانہ تنخواہیں بٹور رہے ہیں مگر ان کی کارکردگی صفر ہے۔ جو اشرافیہ اور مقتدر شخصیات کے من پسند اور رشتے دار بھی ہیں۔ جہاد تو ان جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کے خلاف کرنا چاہیے جو ٹیکس دینے کے روادار نہیں۔ جہاد کی ضرورت ایف بی آر اور دیگر ٹیکس اکٹھا کرنے والے محکموں کے خلاف ہے۔ جو ملی بھگت سے ٹیکس معاف کرتے اور اپنے اکاؤنٹس بھرتے ہیں۔

بدقسمتی سے مگر ملک کا غریب آدمی، ملازم، مزدور، دیہاڑی دار، چھابڑی والا اور کسان تو عمران خان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ اگر ان کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والوں کے لیے مسرت اور شادمانی کا کوئی سامان نہیں ہوتا۔ پٹرول ایک سو چالیس روپے کے قریب دستیاب ہے مگر وزیراعظم اس کے باوجود اسے سستا سمجھتے ہیں۔ پہلے انہوں نے نوجوانوں کو کروڑوں نوکریوں فراہم کرنے کا علم اٹھا رکھا تھا۔ اب انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے فرمایا ہے۔ خود کو تباہ کرنا ہے تو سرکاری نوکریاں کر لیں۔ خان صاحب کے گرگٹ کی طرح بدلتے ہوئے بیانات پاکستانیوں کو ششدر کرتے رہتے ہیں۔

تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے کے بعد اب تک عام آدمی کے زیر استعمال اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اب منی بجٹ کے بعد مہنگائی کس نہج پر پہنچے گی اس کے بارے میں سوچ کر ہی دل میں ہول اٹھنے لگتا ہے۔ وزیراعظم صاحب نے منی بجٹ میں عام آدمی کے زیر استعمال اشیاء پر ٹیکسوں کی بھرمار کردی ہے۔ مگر ان کو کروڑوں روپوں کمانے والے ڈاکٹر نظر نہیں آئے۔ نہ ہی سٹاک ایکسچینج کے بروکر جو لاکھوں کا ہیر پھیر روزانہ کرتے ہیں۔ خان صاحب صورت حال کی خرابی کا ذمہ دار سابق حکومتوں کو سمجھتے ہیں۔ مگر موجودہ حکومت غریب اور مڈل کلاس کے زیر استعمال جن اشیاء کو ٹیکس نیٹ کے دائرے میں لائی ہے۔ سابقہ حکومتیں ان چیزوں پر ٹیکس لگانے کے بارے میں سوچتی بھی نہیں تھیں۔

خان صاحب دراصل آئی ایم ایف کے سامنے سرینڈر کرچکے ہیں ان کی ہر شرط مان کر۔ شاید خاقان عباسی فرماتے ہیں ایک نیازی نے پلٹن میدان میں بھارت کے سامنے ہتھیار پھینکے اور دوسرے نیازی نے سٹیٹ بنک کی صورت میں قومی خودمختاری کا سودا کر دیا۔

وزیراعظم نے اگر جہاد کرنا ہے۔ تو اپنے نفس سے جہاد فرمائیں۔ اپنے اندر سے بغض، کینہ پروری، حسد اور منتقم مزاجی کو ختم کریں۔ جہاد کرنا ہے تو بلا تفریق اپنے اور بیگانے سب کا احتساب کریں۔ انصاف کا ترازو برابر رکھیں۔ اپنے آپ اور ساتھیوں کو سادگی اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔ جہاد عیش و عشرت کے خلاف کریں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے جناب وزیراعظم آپ جہاد اور ریاست مدینہ کے معنی بھی نہیں جانتے۔ کیوں کہ آپ کے قول و فعل میں تضاد ہے۔

Facebook Comments HS