نیوٹن، بائبل اور سائنس – کیا سائنسدان مذہبی ہو سکتا ہے؟


اگر آپ ٹرنٹی کالج، کیمبرج جائیں تو سب سے پہلا خیال آپ کے دماغ میں یہ آئے گا کہ وہ درخت دیکھا جائے جس کے تنے کے ساتھ بیٹھ کر نیوٹن کو خیال آیا تھا کہ اس کے سر پر گرنے والا سیب نیچے آنے کی بجائے اوپر کی طرف کیوں نہیں گیا۔ آج سے تقریباً چار سال پہلے جب مجھے اس کالج کی یاترا کا موقع ملا تھا تو میں نے کالج کے دروازے پر موجود دربان سے اسی درخت کے بارے میں سوال کیا تھا، وہ دربان شاید روزانہ سینکڑوں لوگوں کو یہی بتاتا تھا اس لیے اس نے بیزاری سے سامنے اشارہ کر دیا، وہاں ایک درخت موجود تھا جسے دیکھ کر ہمیں یہ تو نہیں لگا کہ یہ چار سو سال پرانا ہو گا مگر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ٹرنٹی کالج میں ہم نے نیوٹن کے مجسمے کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں بنوائیں اور اس عظیم سائنس دان کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔ آج نیوٹن کی یاد اس لیے آئی کہ جنوری کی چار تاریخ کو اس جینئس کا یوم ولادت ہوتا ہے سو اس اعتبار سے ہم جنوری میں عشرہ نیوٹن منا کر اسے خراج عقیدت پیش کر سکتے ہیں۔

نیوٹن کے بارے میں ہم زیادہ تر وہی جانتے ہیں جو اسکول میں سائنس کی کتابوں میں بتایا جاتا ہے جیسے کہ نیوٹن کے تین قوانین حرکت جن کی بنیاد پر جدید فزکس کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ ویسے تو یہ قوانین حرکت کافی سادہ اور آسان لگتے ہیں مگر حقیقت میں ان کے پیچھے نہایت پیچیدہ اور گنجلک سائنسی کلیے کارفرما ہیں جنہیں نیوٹن نے اپنی شہرہ آفاق کتاب
The Mathematical Principals of Natural Philosophy
میں بیان کیا ہے۔ نیوٹن کی یہ کتاب اس قدر دقیق ہے کہ اسے پڑھتے وقت اچھے اچھے ریاضی دانوں کو بھی دانتوں تلے پسینہ آ جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نیوٹن نے جان بوجھ کر اسے مشکل انداز میں لکھا ہے تاکہ صرف ریاضی اور سائنس کے ماہرین ہی اسے پڑھ سکیں۔

یہ نیوٹن کا ہی کمال تھا جس نے کشش ثقل پر تحقیق کرتے ہوئے یہ دریافت کیا کہ جو قوت اشیا کو زمین کی طرف کی کھینچتی ہے وہی قوت اجرام فلکی کے درمیان بھی کارفرما ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے اپنے مدار میں چلتے ہیں۔ اطالوی ماہر طبعیات ’کارلو ریوولی‘ کے مطابق نیوٹن لکھتا ہے کہ فرض کریں مشتری کی طرح زمین کے بھی کئی چاند سر آسمان ہوتے اور ان میں سے ایک ’چھوٹا چاند‘ اتنا قریب ہوتا کہ زمین کی بلند ترین چوٹی کے بالکل پاس رہ کر زمین کے گرد گھومتا رہتا۔ اس زمانے میں اصل چاند کے مدار کا نصف قطر (radius) معلوم تھا، یہ کام ایک یونانی سائنس دان کر چکا تھا، اور زمین کا نصف قطر بھی اس وقت دریافت ہو چکا تھا، سو ان معلومات کی بنیاد پر نیوٹن نے چھوٹے چاند کے مدار کے نصف قطر کا بھی حساب لگا لیا جو کہ ظاہر ہے کہ زمین کے نصف قطر کے برابر ہی تھا کیونکہ چھوٹا چاند بالکل زمین کے قریب رہ کر ہی خیالی مدار میں چکر کاٹ رہا تھا۔ اب نیوٹن نے سوچا کہ یہ چھوٹا چاند کتنے وقت میں زمین کے گرد اپنا چکر پورا کرے گا۔ ایک سادہ سا کلیہ لگا کر نیوٹن نے جواب نکالا کہ وہ وقت ایک گھنٹہ اور تیس منٹ ہو گا، یعنی خیالی چھوٹا چاند زمین کے گرد اپنا چکر ڈیڑھ گھنٹے میں پورا کرے گا۔

اگلا سوال یہ تھا کہ ایک شے جو مدار میں گھومتی ہے وہ صراط مستقیم پر نہیں چلتی بلکہ ہر لحظہ اپنی سمت تبدیل رہتی ہے، رفتار اور سمت تبدیل کرنے کے اس عمل کو ’ایکسلریشن‘ (اسراع) کہتے ہیں، گویا چھوٹا چاند زمین کے مرکز کی طرف جس سرعت کے ساتھ آئے گا وہ نیوٹن نے حساب نکال کر 32 فٹ فی سیکنڈ نکالی اور یہ وہی رفتار تھی جس رفتار سے اشیا زمین کی جانب گرتی ہیں۔ نیوٹن نے اس یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جو قوت اشیا کو زمین کی جانب کھینچی ہے وہی قوت چھوٹے چاند کو اپنے مدار میں رہ کر گھومنے پر مجبور کرتی ہے، اگر یہ قوت نہ ہو تو چھوٹا چاند مدار میں گھومنے کی بجائے سیدھا نکل جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا اصل چاند بھی اسی قوت کی وجہ سے اپنے مدار میں گھومتا ہے، اسی قوت کی وجہ سے مشتری کے تمام چاند اپنے اپنے مدار میں چکر لگاتے ہیں اور یہی وہ قوت ہے جو دیگر اجرام فلکی کو سورج کے گرد گھومنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ قوت نہ ہو تو پورا نظام ہی درہم برہم ہو جائے، یہ قوت آفاقی ہے اور اسی کی وجہ سے ہر شے دوسری شے کی جانب کھنچتی ہے۔ غالب کے ذہن میں بھی غالباً یہی باہمی کشش تھی جب اس نے کہا تھا کہ ’ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر، کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے۔ ‘

آفاقی قوانین حرکت کی دریافت نیوٹن کے لا تعداد کارناموں میں سے محض ایک کارنامہ ہے۔ اسی نیوٹن نے ریاضی کی ایک نئی شاخ ’کیلکولس‘ بھی ایجاد کی۔ گو کیلکولس کی دریافت کا دعویٰ اسی زمانے کے مشہور فلسفی اور ریاضی دان ’لائبنیز‘ کا بھی ہے مگر عمومی طور پر یہ سہرا نیوٹن کے سر ہی باندھا جاتا ہے حالانکہ لائبنیز کا کارنامہ بھی اتنا ہی بڑا ہے جتنا نیوٹن کا ۔ لائبنیز غالباً وہ واحد شخص تھا جسے کسی اعتبار سے نیوٹن کا ہم پلہ کہا جا سکتا ہے، نیوٹن اور لائبنیز کے تعلقات خوشگوار تھے مگر بعد میں شاید کیلکولس کی وجہ سے دونوں میں تلخی پیدا ہو گئی۔

نیوٹن کو شعر و شاعری اور فلسفے سے بھی شغف تھا۔ فلسفے پر اس نے باقاعدہ نوٹس بنائے ہوئے تھے اور ان نوٹس کی پیشانی پر اس نے یہ عبارت لکھ رکھی تھی کہ ’افلاطون میرا دوست ہے، ارسطو میرا دوست ہے، مگر سچائی سب سے بڑی رفیق ہے۔ ‘ نیوٹن کی شخصیت کا ایک بہت نمایاں پہلو مذہبی بھی ہے۔ اس نے انجیل کو سمجھنے کا ایک پورا طریقہ کار اور رہنما اصول مرتب کیے اور بتایا کہ کیسے انجیل میں بیان کردہ معجزات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اس کام کے لیے وقف کیا۔ اس کے خیالات روایتی مذہبی پیشواؤں جیسے نہیں تھے بلکہ وہ مسیحیت کے تثلیث کے عقیدے کا ناقد تھا۔ اپنے یہ خیالات اس نے مشہور فلسفی جان لاک کو لکھ بھیجے جس نے انہیں شائع کرنے کی کوشش کی مگر نیوٹن نے اجازت نہیں دی۔ اسے قدرت کی ستم ظریفی ہی کہیے کہ ٹرنٹی (تثلیث) کالج میں پڑھنے والا نیوٹن تثلیث کے ہی عقیدے کے خلاف ہو گیا۔

عام طور سے سمجھا جاتا ہے کہ سائنسی انداز میں سوچنے والے لوگ مذہبی نہیں ہوتے، سائنس کا دلدادہ شخص مذہب کا پیروکار نہیں ہو سکتا اور زیادہ تر سائنس دان دہریے ہوتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں اگر پانچ بڑے سائنس دانوں کی کوئی فہرست بنائی جائے تو اس مختصر سی فہرست میں بھی نیوٹن کا نام شاید سب سے اوپر ہو گا۔ نیوٹن نہ صرف سائنس دان تھا بلکہ علم الکلام کا بھی ماہر تھا۔ وہ کائنات کی وسعتوں پر تحقیق بھی کرتا تھا اور خدا کے وجود کے حق میں دلائل بھی رکھتا تھا۔

اپنی کتاب ’آپٹکس‘ میں وہ لکھتا ہے کہ وہ سارا نظم اور خوبصورتی کہاں سے پیدا ہوتی ہے جو ہم دنیا میں دیکھتے ہیں؟ کیا یہ صاف ظاہر نہیں کہ کوئی ہستی ہے جو ذہین اور ہمہ گیر ہے اور اس لامحدود خلا میں موجود ہے جو نہ صرف اشیا کو بذات خود قریب سے دیکھتی ہے بلکہ ان کو پوری طرح سمجھتی ہے۔ نیوٹن جیسے سائنس دان کے مذہبی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ مذہب کو نیوٹن کی گواہی کی وجہ سے کوئی تقویت مل گئی ہے، مذہب ایسی گواہیوں سے ماورا ہوتا ہے، تاہم اس سے ایک بات ضرور ثابت ہوتی ہے کہ کوئی شخص بیک وقت سائنسی انداز فکر اور مذہبی عقیدہ دونوں اپنا سکتا ہے، یہ دونوں باتیں باہم متصادم نہیں، شرط صرف یہ ہے کہ سائنس دان کے مذہبی نظریات سائنسی تحقیق میں رکاوٹ نہ بنیں۔

نیوٹن نے جب یہ دریافت کیا کہ ایک آفاقی کشش ہے جو اجرام فلکی کو مدار میں چکر لگانے پر مجبور کرتی ہے تو نیوٹن نے اس آفاقی کشش کی قوت کا اندازہ ریاضی کی مدد سے لگایا نہ کہ انجیل کھول کر دیکھا کہ عہد نامہ عتیق اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ اپنا عقیدہ اپنے پاس رکھ کر بس یہ اتنی سی بات ہمیں بھی سمجھنی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 298 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments