آپ اپنا وزن کم کریں


آخر آپ کیوں نہیں سمجھے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے میں کسی اچھی گائناکالوجسٹ کے پاس جا کہ اسے اپنا مسئلہ بتانا چاہتی ہوں آخر یہ ہو کیا رہا ہے میرے ساتھ۔

وہ تنگ آ کے بولی، اور کیوں نہ ہو تنگ پچھلے تین چار مہینوں سے وہ اپنے شوہر کی منتیں کر رہی تھی کے کسی اچھی ڈاکٹر سے چیک کروا دیں۔ پر مجال ہے کے اس شخص کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ پر آج سحر کا صبر جواب دے گیا تھا کہ معاملہ اس کی برداشت سے باہر تھا۔ اس سے پہلے اس کے ساتھ اس طرح کبھی نہ ہوا تھا۔ پہلے ہی ڈپریشن کی مریضہ اوپر سے شوہر کا لاپروا رویہ اور سونے پہ سہاگا یہ وزن جو دنوں نہیں بلکہ گھنٹوں کے حساب سے بڑھے جا رہا تھا۔ جسے کم کرنے کے لیے سحر نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی پر کم کیا ہونا تھا یہ تو آئے دن بڑھتا ہی جا رہا تھا جیسے وزن کم کرنے کا ہر طریقہ اسے گھی بن کے لگا ہو۔

سحر کے بے حد اسرار پر میاں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے لیے آمادہ ہوئے۔ اور کہا کہ کل کام سے چھٹی ہے تیار رہنا میں لے جاؤں گا۔ یہ کہہ کے وہ کام پہ چلا گیا اور وہاں اپنے ساتھ کام کرنے والے سے کسی ڈاکٹر کا پتا چلا اور وہ وہیں سے ڈاکٹر سے اگلے دن کا وقت لے کے شام کو گھر لوٹا۔

اگلی صبح، دس بجے تک گھر کہ کام نمٹا کے وہ ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے گھر سے نکلے۔ پہلے تو گاڑی ہی نہ ملی اور کافی دیر بعد ایک کھٹارہ گاڑی ملی جو رک رک کہ چلتی رہی اور بمشکل ہسپتال تک پہنچایا۔ قریباً پونے گیارہ تک ڈاکٹر کے پاس پہنچے اتنے میں ان کا نمبر جا چکا تھا اور ڈاکٹر اگلے مریضوں کو چیک کرنے لگی تھی۔ اور اس کا نمبر آخر میں آ گیا۔ جس کی وجہ سے مزید انتظار کرنا پڑا۔ انتظار کے دوران ایک اور مریضہ جو اس ڈاکٹر سے اپنا علاج کروانے آئی تھی۔

سحر سے بات چیت میں مصروف ہو گئی۔ اور اپنے مسائل بتانے لگی۔ جن میں سحر کو کوئی دلچسپی نہیں تھی پھر بھی وہ اس کی بات بہت تحمل سے سنتی رہی۔ مریضہ نے سحر سے پوچھا کہ وہ یہاں کیوں آئی ہے اور اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے تو سحر نے بتا یا کہ وزن بہت بڑھ گیا ہے کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی وہی چیک کروانا چاہتی ہوں۔ مریضہ نے سر کو مثبت میں ہلایا اور لمبی سی اووو۔ کی۔ اور سحر نے ہمم سے جواب دیا۔ تھوڑی دیر دونوں کے درمیان خاموشی رہی پھر اس مریضہ نے سحر کو بتانا شروع کیا کہ اس کے کتنے بچے ہیں کتنے ضائع ہوئے کتنی لڑکیاں اور کتنے لڑکے ہیں۔ سحر اس سب سے اکتا گئی تھی پر اسے چپ نہیں کروایا کہ اس کی دل آزاری نہ ہو اور بہت اطمینان سے اس کی باتیں سنتی رہی۔ اتنے میں ڈاکٹر نے اس مریضہ کو اندر بلوا لیا اور سحر کے کانوں کو کچھ سکون ملا۔ خدا خدا کر کہ ڈاکٹر صاحبہ ساڑھے تین بجے فارغ ہوئیں۔ آخر سحر کو اندر بلایا گیا۔

ڈاکٹر (پرچی دیکھتے ہوئے ) : جی مس (مس کو تھوڑا لمبا کیا جیسے نام وہ مریضہ کے اپنے منہ سے سننا چاہتی ہو)

سحر :جی، سحر
ڈاکٹر: آپ کہاں سے آئی ہیں؟
سحر: (گاؤں کا نام بتاتے ہوئے ) جی پاس ایک گاؤں ہے وہاں سے۔
ڈاکٹر: اچھا تو آپ کو کس نے میرے بارے میں بتایا؟
سحر: جی میرے خاوند کے دوست ہیں ان سے پتا چلا آپ کے بارے میں۔
ڈاکٹر: اچھا تو سحر مجھے یہ بتائیں آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟
سحر: دراصل میں اپنے روز بروز بڑھتے وزن کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔
ڈاکٹر: کب سے بڑھ رہا ہے وزن؟

سحر : اصل میں میرا دوسرا بچہ ہونے کے بعد سے بڑھ گیا تھا پر پھر کافی عرصہ تک بڑھنا رک گیا یعنی کم تو نہیں ہوا پر مزید بڑھا بھی نہیں۔ پھر اب چھ مہینے پہلے میں نے دوائیں لیں جن کی وجہ سے مسلسل بڑھے جا رہا ہے۔ میں نے کم کرنے کی کوشش بھی کی ہے پر کم تو کیا ہونا ہے ایک جگہ رکتا ہی نہیں۔ بس بڑھے جا رہا ہے۔

ڈاکٹر: کس چیز کی دوائیں لیں آپ نے؟ کیا اس کہ علاوہ بھی کوئی مسئلہ ہے آپ کے ساتھ؟
سحر: مسئلہ کوئی ایک نہیں ہے۔ (جھجکتے ہوئے بولی)
ڈاکٹر: مثلاً؟ (ایک ابرو ذرہ اونچا کر کہ سحر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی)

سحر: مثلاً میرے سر میں شدید درد رہتا ہے، کوئی پریشانی والی بات یاد کروں یا کوئی بھی ذکر کر دے تو جسم سے تپش نکلنے لگتی ہے، چہرہ لال سرخ ہو جاتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں کی ٹینشن ہوتی ہے، دماغ کی نسیں پھٹتی ہیں۔ سر اور گردن کی نسیں کھچی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ جسم میں بل پڑ جاتے ہیں، انگلیاں مڑ جاتی ہیں، پھر ذرہ سا کام عام routine سے زیادہ کر لوں تو جسم کے درد ختم نہیں ہوتے۔ اس مسئلے کے علاج کے لیے میں ملتان کے ایک ڈاکٹر کے پاس گئی تھی کچھ عرصہ دوائی لی اور اس حالت میں کچھ فرق پڑ گیا۔ (وہ مسلسل بولے جا رہی تھی جیسے اپنی ہر تکلیف کو باہر نکال پھینکنا چاہتی ہو ) اور اس دوائی کا ایک نقصان ہوا کہ میرا وزن دن بدن بہت زیادہ بڑھ رہا ہے جسے کنٹرول کرنے کے لیے میں نے کئی ترکیبیں لگائیں۔ قہوے پیے، ورزش کی، واک کی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

اتنا وزن میرا زندگی میں پہلے کبھی نہ بڑھا تھا۔ یہاں تک کہ حمل کے دوران بھی نہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی میں کیا کروں؟

ڈاکٹر: آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے؟
سحر: جی، آٹھ سال۔
ڈاکٹر : اور آپ کے کتنے بچے ہیں؟
سحر: دو بیٹے ہیں۔
ڈاکٹر: دونوں بچے نارمل ہوئے؟
سحر جی ہاں! نارمل۔
ڈاکٹر : سحر! آپ کی خوراک کیسی ہے؟ مطلب دن میں کتنا کھاتی ہیں اور کیا کیا کھاتی ہیں؟

سحر: ناشتے میں تو کچھ نہیں کھاتی بس چائے کا ایک کپ لیتی ہوں۔ دن کے وقت آدھی روٹی یا کبھی پوری اور رات میں کچھ نہیں کھاتی۔

ڈاکٹر: تو آپ کا وزن بڑھ رہا ہے جسے اپ کم کرنا چاہتی ہیں؟
سحر: جی ڈاکٹر صاحبہ۔ اور ساتھ میں یہ بھی جاننا چاہتی ہوں کہ وزن بڑھنے کی وجہ کیا ہے؟
ڈاکٹر: دیکھیں مجھے آپ کا مسئلہ سمجھ آ گیا ہے؟
سحر: تو آپ کو وجہ پتا ہے کہ یہ وزن کیوں کنٹرول نہیں ہو رہا؟
ڈاکٹر: جی بالکل سمجھ آ گئی ہے مجھے۔ آپ سب سے پہلے کھانے میں گھی کا استعمال کم کریں۔

سحر: ہمارے کھانے میں گھی تو استعمال ہوتا ہی نہیں۔ صرف ناشتے میں پراٹھے بنتے ہیں جو میں تو کھاتی ہی نہیں۔

ڈاکٹر: دیکھیں آپ کا وزن کم کرنا بہت ضروری ہے۔ آپ اپنا وزن کسی بھی طرح کم کریں۔

سحر: میں نے کوشش کی ہے ڈاکٹر۔ ورزش، کھانے میں پرہیز اور مختلف ٹوٹکے بھی آزما لیے پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔

ڈاکٹر:دیکھیں ویسے تو ڈاکٹر میں ہوں مجھے زیادہ پتا ہے پھر بھی آپ بتا دیں کہ آپ کو کیا لگتا ہے کیا کرنا چاہیے؟

سحر: آپ مجھے کوئی ٹیسٹ لکھ دیں جن سے پتا چل سکے کہ یہ وزن کیوں بڑھ رہا ہے؟
ڈاکٹر: اچھا میں آپ کو دوائی لکھ کہ دیتی ہوں پر آپ کو اپنا وزن کم کرنا ہو گا۔

سحر (جس کے کئی بار سمجھانے پر ڈاکٹر کو اصل مسئلہ سمجھ نہیں آ رہا تھا) : میں نے کوشش کی ہے وزن کم کرنے کی پر میرا وزن کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہے۔ آپ برائے مہربانی یہ تو بتائیں کہ یہ وزن اتنی کوشش کہ بعد بھی گھٹتا کیوں نہیں ہے؟ (وہ تنگ آ کے بولی)

ڈاکٹر: (بڑے تحمل سے ) دیکھیں سحر آپ اپنی خوراک پہ توجہ دیں۔ اور گھی، چاول چینی کا استعمال کم کریں۔
سحر: پر یہ چیزیں تو میں پہلے بھی بہت کم استعمال کرتے ہوں۔
ڈاکٹر: آپ ایسا کریں کہ پھلوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

سحر: جی ٹھیک ہے۔ پر آپ کوئی ٹیسٹس لکھ دیں جس سے معلوم ہو کہ وزن کیوں بڑھ رہا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ کوئی ہارمونل ایشو ہے۔

ڈاکٹر: نہیں ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے میں کچھ دوائیں لکھ دیتی ہوں آپ باقاعدگی سے ان کا استعمال کریں۔
سحر: پر۔ (ابھی وہ کچھ بولنا ہی چاہتی تھی کہ ڈاکٹر نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا )
ڈاکٹر: (ایک ایک لفظ پہ زور دیتے ہوئے ) اور سب سے پہلے آپ اپنا وزن کم کریں۔

Facebook Comments HS